پنڈدادنخان

ایک ہزار سے زائد زیر تعلیم طلبہ و طالبات کی درسگاہ گورنمنٹ البیرونی کالج مسائل کا شکار

پنڈدادنخان: ایک ہزار سے زائد زیر تعلیم طلبہ و طالبات کی درسگاہ گورنمنٹ البیرونی کالج مسائل کا شکار، ایف ایس سی بی ایس سی کلاسسز کے لئے پروفیسر لیکچرار نہیں، انگلش اور میتھ کے ایک ایک ٹیچر کے پاس 700 سے ہزار سٹوڈنٹ ہیں، طلبہ اور والدین پریشان ڈیلی ویجز بھرتیاں نہ ہونے سے مسائل میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

وسیع و عریض رقبہ پر پھیلا کالج باونڈری وال نہ ہونے کے باعث سیکورٹی رسک اور جانوروں کی چراگاہ بنا ہوا ہے پینے کا پانی انتہائی ناقص اور کم مقدار میں دستیاب طلبہ اور عملے کے گیارہ سو افراد 1/2 انچ کی پائپ لائن کے پانی پر گزارا کر رہے ہیں، پینے کے پانی کے بی سی ایس آر لیبارٹری کے ٹیسٹ کے مطابق یہاں کا پانی کسی طور پر پینے کے قابل نہیں کالج میں فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب کی جائے پسماندہ اور دورافتادہ ہونے کی بنا پر حالات کا تقاضہ ہے کہ کالج کو گجرات یونیورسٹی کا سبب کیمپس قرار دے کر بی ایس پروگرام شروع کیا جائے۔

پنجاب بھر میں البیرونی کالج چند کالجوں میں سے ہے جہاں پر داخل ہونے والے بچوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ کالج میں پڑھانے والوں کی 13 سیٹں خالی ہیں اور 5 ڈیپارٹمنٹ مکمل طور پر بند ہیں کالج کی تعمیر شدہ بلڈنگ ہزار بچوں کے لئے کم ہے اس کے باوجود اس کا کچھ حصہ انسٹی ٹیوٹ آف کامرس کو دیا گیا ہے کالج میں فرنیچر کی کمی اور سٹوڈنٹ کے بیٹھنے کے لیے 500 کرسیاں بچوں کی تعداد سے کم ہیں۔

گورنمنٹ بیرونی کالج تحصیل میں گورنمنٹ کا واحد ادارہ ہے ، جہاں میٹرک کے بعد تحصیل کے طلباوطالبات اپنی استطاعت کے مطابق تعلیم حاصل کر سکتے ہیں کالج کی اپنی بسیں نہ ھونے کی وجہ سے علاقہ تھل علاقہ جالپ اور علاقہ پھپھرہ سے تعلق رکھنے والے درجنوں طلبہ و طالبات کرائے کے اضافی اخراجات برداشت نہ کرنے کے باعث مزید پڑھنے سے محروم رھتے ہیں اور طلبا کی ایک تعداد تعلیم ادھورہ چھوڑ دیتی ہے اس کی بڑی وجہ کالج تک پہنچنے کے بھاری اخراجات ہیں۔

یاد رہے کہ ان تینوں علاقوں سے پنڈدادنخان آنے اور جانے کا دوطرفہ کرایہ 150 روپے کے قریب وصول کیا جاتا ہے جس میں لاری اڈہ سے کالج تک کا کرایہ چالیس روپے ہے جو کہ غریب اور متوسط لوگوں کے لئے بہت بڑی رقم ہے اسی بناپر ان علاقوں کے اکثر والدین اپنے بچوں کو مزید تعلیم دلوانے سے قاصر ہیں محکمہ تعلیم پنجاب اور ارباب اختیار سے پوری توجہ کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button