جہلم

بجٹ میں مہنگائی کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ چوہدری راشد محمود

جہلم: بجٹ میں سابقہ مہنگائی الاؤنسز ضم کرکے تنخواہوں میں سکیل 1 تا سکیل 22 فی صد کی بجائے مہنگائی کے مطابق فکس اضافہ کیا جائے۔ ہاؤس رینٹ سکیل ریوایئز کر کے 2020پر دیا جائے جو 2008 کے مطابق دیا جا رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار چوہدری راشد محمود ضلعی صدر پنجاب ٹیچر یونین جہلم نے گزشتہ روز یونین کے ماہانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ چادر اور چار دیواری کے تحفظ کیلئے پنجاب میں گورنمنٹ بوائز سکولوں میں سے12 ہزار سے زائد خواتین اساتذہ کو فوری گرلز سکولوں میں تبدیل کیا جائے اس موقع پر چیئرمین اشفاق حیدر کا کہنا تھا کہ میڈیکل الاؤنس 1500 کی بجائے 5000روپے کیا جائے۔

ضلعی نائب صدر زنانہ مومنہ مہرو گوندل نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں جانے والی اساتذہ کو ٹرانسفر کا حق دیا جائے اور STR کی شرط کو ختم کیا جائے اوپن میرٹ ٹرانسفر کی جائے۔ خواتین اساتذہ کو گرلز سکولوں میں تبدیل کیا جائے اور قابل عزت اساتذہ کی بھرتی مستقل بنیادوں پر کی جائے، پنجاب ٹیچریونین کے عہدیداران نے اجلاس میں خصوصی طور پر شرکت کی۔

اس موقع پرچوہدی وحید حیدر جنرل سیکرٹری نے گورنمنٹ سے مطالبہ کیا کہ2018 میں بھرتی ہونے والے ایس ایس ای کو بھی 2 اضافی ترقیاں بقایا جات کے ساتھ دی جائیں اور ایس ایس ٹی کی طرح تمام اساتذہ کی سروس بک کا نظام ختم کی جائے،اور سروس بک اے سی آر،محکمانہ پروموشن آن لائن کی جائے۔

وائس چیئر مین افضل میر نے کنٹریکٹ بھرتی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی آئندہ بھرتی مستقل کی جائے اور پہلے سے بھرتی اساتذہ کو فوری تاریخ تقرری سے مستقل کیا جائے اور 2000تا حال بھرتیوں کے مطابق 50 فی صد ان سروس پروموشن کرنے اور جن اضلاع میں باقاعدگی سے پروموشن نہیں دی گئی ان کے ذمہ داران کو بھی پیڈا کے مطابق کاروائی کی جائے اور نئی بھرتی سے پہلے پروموشن دی جائے۔

میڈیا سیکرٹری افضال گجر نے حکومت پنجاب سے پرائمری تا ہائی حصہ میں پڑھانے والے اساتذہ کی تعلیمی قابلیت ایم اے،ایم ایس سی یکساں ہونے کی بنا پر سب کو سکیل سترہ دینے کا کہا اور تمام سکولوں میں کلاسوں کی تعداد اور مضامین کے مطابق اساتذہ کی تعداد پوری کر نے کا کہا اور سکیل 1 تا سکیل 22 سب کو ٹائم سکیل دینے کا مطالبہ کیا۔

نائب صدرچوہدری شبیر حسین نے کہا قابل عزت اساتذہ کرام کو سرکاری و غیر سرکاری طور پر قابل عزت اساتذہ کرام لکھنے اور پکارنے پر زور دیا اور قابل عزت اساتذہ کے ساتھ تمام محکمہ جات کو ان کے مرتبے کے مطابق برتاؤ کرنے اور بات بات پر اور جائیز حقوق مانگنے پر پیڈا اور شوکاز نوٹسز سے ڈرانے کا سلسلہ بند کرنے کا کہا اور قابل عزت اساتذہ کرام کے جائیز حقوق بروقت دینے پر زور دیا۔

احسان شاکر اور منظور حسین کا کہنا تھا نے بجٹ میں فیصد کی بجائے فکس اضافہ کرنے کا کہا تاکہ تمام ملازمین کو مہنگائی کے مطابق فایدہ ہو،ہاؤس رینٹ اور میڈیکل الاؤنس موجودہ تنخواہ پر مہنگائی کے حساب سے دیئے جائیں۔

آخر میں تمام عہدیداران نے یونیسکو کی رپورٹ پر میڈیا،حکومتی و اپوزیشن کے اراکین کی خاموشی پر تعجب کا اظہار کیا جس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں دنیا کے مقابلے میں اساتذہ کی تنخواہیں سب سے کم ہیں اور نتائج ترقی یافتہ ممالک کے مطابق مانگے جارہے ہیں مزید حکومت سے مطالبہ کیا کہ قابلِ عزت اساتذہ کرام کے جائیز حقوق نہ دینے اور رکاوٹیں ڈالنے پر فوری ازالے کیلئے ہیلپ لائن قائم کی جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close