کالم و مضامین

تعلیم اور راج بخش سکول ساوؤال — تحریر: آصف حیات مرزا

کسی بھی تعلیمی ادارے کی قابلیت اور معیار کا تب پتہ چلتا ہے جب آپ اس ادارے میں قدم رکھتے ہیں اور پھر ادارے کے سربراہ سے ملاقات کرتے ہیں مجھے جب راج بخش سکول ساوؤال میں ہونے والے ایک تقریب کی دعوت ملی تو میں نے سوچا کہ گاؤں کا سکول ہے اس کے فنگشن میں کیا ہو گا کیونکہ تقریب کے مہمان خصوصی ہماری تحصیل کی ہر دلعزیز شخصیت اور فخر ساوؤال جنرل (ر) شفقات احمد تھے تو میں اپنے صحافی دوست زاہد حیات کے ساتھ راج بخش سکول ساوؤال میں پہنچ گیا۔

جب سکول کے اندر داخل ہوئے تو سکول کی اتنی بڑی بلڈنگ اور بھر اس کی صفائی اور نظم و ضبط دیکھ کر حیران رہ گئے کہ یہ کسی گاؤں کا سکول ہے یا کسی شہر کا مہنگا ترین تعلیمی ادارہ ہے پھر ہماری ملاقات سکول کی پرنسپل میڈم آمتل النساء سے ہوئی تو ان کا حسن اخلاق ،قابلیت ڈسپلن اور کنٹرول دیکھ کر کالم لکھنے پر مجبور ہو گیا کہ شہر کے سکولوں پر تو سب لکھتے ہیں لیکن جن لوگوں نے اتنی محنت اور لگن سے ایک دور افتادہ گاؤں اتنا بڑا معیاری تعلیمی ادارہ بنا کر ہماری نئی نسل کو اعلی معیاری تعلیم دینے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے جو کہ اتنا آسان کام نہیں تو کیوں نہ ہم ان کی حوصلہ افزائی کریں تو میں نے قلم اٹھایا اور جو دیکھا اور سمجھا قارہین کی نظر کر رہا ہوں۔

میڈم آمتل النساء کی ادارہ پر مکمل گرفت مظبوط تھی ہم سے بات بھی کر رہی تھی اور آنے والے ہر مہمان کا خیال بھی کر رہی تھیں جو کہ اپنی مثال آپ ہے انہوں نے ہمیں سکول کے بارے میں تفصیل سے بتایا کہ آج راج بخش سکول ایک ٹرسٹ کے زیر انتظام چل رہا ہے جن کے پانی بریگیڈئیر( ر) محمد اشرف ہیں اور ان کی 20 سال کی محنت اور لگن سے آج یہ ادارہ اس مقام پرپہنچا ہے۔

پرنسپل نے بتایا کہ بریگیڈئیر(ر) محمد اشرف کا مشن غریب لوگوں کے بچوں کو اعلی تعلیم کے زیور سے نوازنا ہے اور راج بخش سکول کی برانچ اس دیہات میں اس لیے بنائی کہ گاؤں کے لوگوں کو اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دیلوانا بہت مشکل ہوتا ہے وہ بچوں کو شہر میں بھیج کہ تعلیم نہیں دلوا سکتے اس لیے ہمارا ملک تعلیم میں دوسرے ملکوں سے پیچھے ہے کہ ہمارے ملک کی زیادہ تر آبادی دیہات پر مبنی ہے اور دیہاتوں میں معیاری تعلیم کی سہولیات میسر نہیں ہوتیں جن سے دیہات کے بچے اعلی تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں اور پھر ان کی زندگی مزدوری یا زراعت کا پیشہ ہی رہ جاتی ہے ہمارے ادارے نے ساوؤال اور اس کے آس پاس گاؤں کے بچوں کو معیاری اور اعلی تعلیم دے کر ہمارے ملک کی آنے والی نئی نسل کو جہالت سے نکال کر علم کی روشنی سے مالا مال کیا ہے۔

میڈم آمتل النساء نے ہمیں سکول کا راونڈ لگوایا تو سکول کے سٹاف کے ساتھ بچوں میں ڈسپلن اور انگلش میں بات چیت کرتے ہوئے دیکھ کربہت خوشی ہوئی سکول کا سٹاف بھی ملنسار خوش اخلاق اور اعلی علیم یافتہ تھا اس دوران اطلاع ملی کہ فنگشن کے مہمان خصوصی جنرل ( ر) شفقات اور تشریف لا چکے ہیں تو مہمان خصوصی کو خوش آمدید کہا گیا بچوں نے پھول نچاور کیے اورسکول کی نئی پارک اور سٹاف کے ہاسٹل کا افتتاح کیا گیا اور سکول کا راونڈ کرنے کے بعد فنگشن شروع ہوا تلاوت قرآن پاک کے فنگشن کا باقاعدہ آ غاز کیا گیا سٹیج سیکٹریری کے فرائض ۔۔۔ادا کیے اور اعلی درجے کی انگلش میں کمپیرنگ کر کے سکول کے معیار کو ثابت کرنے میں چار چاند لگا دئیے سکول کے بچوں نے ملی نغموں اور انگلش کی پوئم پرٹیبلو پیش کر کے سب کو حیران کر دیا ۔

سکول کی پرنسپل میڈم آمتل النساء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کا سٹاف بچوں کو اعلی اور معیاری تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ انہوں نے مہمان خصوصی کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ جنرل ( ر) شفقات احمد آج ہمارے سکول میں آئے جن سے ہمارے سٹاف اور بچوں کی بہت حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔

راج بخش ٹرسٹ کے روح رواں ربریگیڈئیر (ر) محمد اشرف نے کہا کہ انہوں نے یہ ٹرسٹ اس لیے بنایا کہ وہ ان بچوں کو تعلیم دلا سکیں جن کے والدین کے لیے ان کو تعلیم دینا مشکل ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دن رات محنت کی اور اس ٹرسٹ کو آج اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ غریب بچوں کو معیاری اور اعلی تعلیم دے سکے بریگیڈئیر (ر) محمد اشرف نے کہا کہ انہیں خوشی ہوئی ہے کہ جنرل (ر) شفقات احمد نے ٹرسٹ کی سر پرستی قبول کی جنرل شفقات احمد نے کہا کہ آج اس سکول میں آ کر سکول کا ڈسپلن اور تعلیمی معیار دیکھ کر بہت خوشی ہوئی جس کا اظہار کرنا بہت مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سکول کی وجہ سے آج ہمارے گاؤں کے بچے اعلی تعلیم حاصل کر کے ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنی ہے اور اس کے لیے میں بریگیڈئیر (ر) محمد اشرف سکول کی پرنسپل آمتل النساء ٹرسٹ کے عہدیداروں اور سٹاف کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں انہوں نے سکول کی مدد کے لیے ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا قارہین راج بخش ماڈل سکول ساوؤال کے ڈسپلن معیار تعلیم سٹاف کی قابلیت اور پرنسپل کی خوش اخلاقی اور ہماری نئی نسل جنہوں نے آنے والے وقت میں ملک کو چلانا ہے کو تعلیمی زیور سے مالا مال کرنے کا جذبہ دیکھ کر اور بھی بہت کچھ لکھنے کودل کرتا ہے لیکن وقت اور اخبار میں کالم کے لیے دی جانے والی جگہ نے ہاتھ روک لیا ہے لیکن پھر کبھی موقع ملا تو اس پر مزید روشنی ڈالیں گے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button