کالم و مضامین

ڈی پی او رانا عمر فاروق کی تعیناتی۔ 18 فروری سے اپریل تک کی جائزہ رپورٹ

ضلع کی کمانڈ سنبھالتے ہی ہر ڈی پی اوکی خواش ہوتی ہے ا س کاضلع امن کا گہوارہ بنے اوروہ اس خواہش کی تکمیل کے لئے بھرپور کوشش بھی کرتا ہے لیکن اس کا خواب اس وقت چکنا ہو جاتا ہے جب محکمے میں چھپی کالی بھیڑیں چند ٹکوں کی خاطربدنامی کا سبب بننی ہیں یاجرائم کے بڑے مگر مچھوں کے ساتھی بن جاتے ہیں یاکسی نہ کسی طریقے سے اپنے افسران کی آنکھوں میں دھول جھونک کر وردی کا ناجائزہ اٹھاتے ہیں ایسے میں ڈی پی او کی نظر میں آنے کے بعد ان کومحکمانہ سز اکا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔فرائض سے غفلت برتنے پر اردل روم میں ایسے افسران کوسزائیں بھی ملتی ہیں ۔

قارئین آپ جانتے ہیں کرائم رپورٹر سے چیف کرائم رپورٹر اور چیف ایڈیٹر تک کے میرے15سالہ صحافتی سفر میں ہم نے جرائم پیشہ افراد اور محکمہ کی بدنامی کا سبب بننے والے پولیس افسران اور اہلکاران کی خبروں میں نشاندہی کی۔
ضلع جہلم کی تاریخ میں پہلی بار پولیس لائن جہلم میں چند ماہ قبل کمان کی تبدیلی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں کیپٹن (ر) سید حماد عابد (جو اس وقت ڈی پی ا وجہلم تھے )نے ضلع کی کمانڈ نئے ڈی پی او جہلم راناعمر فاروق کے سپرد کی ،رانا عمر فاروق نے اپنی پہلی تقر ر میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تقریب میں ضلع جہلم ک سیاسی ،سماجی ۔مذہبی صحافتی کاروباری شخصیات اور ضلع بھرکے پولیس افسران اور اہلکاران موجودتھے۔
معروف مذہبی اسکالر باباعرفان الحق تقریب میں دوران تقریر نے انکشاف کیاکہ ڈی پی ا وجہلم کیپٹن (ر)سید حماد عابد نے پولیس کے افسران اور اہلکاران کی تین کیٹگری بنائی ہوئی ہیں ایک وائٹ ،گرے ،بلیک ۔وائٹ میں نہایت ایماندار اور دیانتد ار پولیس افسران اور اہلکاران شمار ہوتے ہیں گرے کیٹگری میں وہ افسرا ن اہلکارا ن شمار ہوتے ہیں جو کام بھی کرتے ہیں محکمہ کے نام سے مفاد حاصل کرتے ہیں بلیک کیٹگری میں وہ پولیس افسران اہلکاران شمار ہوتے ہیں جن کا کا م صرف مارد ھاڑ پیسے بٹورنا ہوتاہے ۔
قارئین بات ہورہی تھی نئے ڈی پی او جہلم رانا عمر فاروق نے جنھوں اپنی پہلی تقریر میں جو کہا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جو کہاکہ کردکھا یا اللہ تعالی ٰ ان کو مزید احسن طریقے سے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ان کی جہلم تعیناتی سے ابھی تک کرائم کنٹرول چارٹ کا جائزہ لیتے ہیں۔
رانا عمر فاروق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم کی کمان میں ضلع جہلم میں امن و امان برقرار رکھنے ، منشیات جیسی لعنت کے مکمل خاتمے ، جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کے لیے جہلم پولیس دن رات مصروف عمل ہے ۔ کمیونٹی پولیسنگ ، بروقت انصاف کی فراہمی ، لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کے لیے جہلم پولیس ہمہ وقت تیار ہے ۔ کسی بھی مظلوم کے ساتھ زیادتی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی ۔

جہلم پولیس نے18فروری سے اب تک جرائم پیشہ افراد کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے۔مجرمان اشتہاری127اور30 عدالتی مفرورگرفتار ہوئے ، ڈکیت گینگ 01، بدمعاش گینگ 01( MSF بدمعاش گینگ)، 02منشیات فروش گینگ سرغنہ سمیت گرفتار ، مقدمات منشیات121درج ہوئے جن میں127ملزمان کو پابند سلاسل کروایا جس سے چرس 43 کلوسے زائد ، ہیروئن11کلو سے زائد ، شراب641بوتلیں برآمد کی گئیں جبکہ 10شرابی گرفتار کیے ۔
مقدمات اسلحہ81درج ہوئے جن میں81ملزمان کو پابند سلاسل کروایا جن سے پسٹلز58عدد، رائفلز05عدد، بندوق07عدد، کاربین 02 عدد، کلاشنکوف 04عدد، چھری 01 عدد، ریوایور 01عدد اور305 روندز برآمد کیے ۔ قمار بازی کے11مقدمات درج ہوئے جن میں92ملزمان کو پابند سلاسل کروایا جن سے ریکوری قمار باز ی رقم2لاکھ 24ہزار سے زائد، 46عددموبائلز،موٹر سائیکلز 25 عدد،کار 01عدد ، کیری ڈبہ 01عدد ،آلات قمار بازی ڈولی دانہ برآمد کیے ۔
دفعہ 144ض ف کی خلاف ورزی کے166مقدمات درج ہوئے جن میں309ملزمان کو عدالت سے بھاری جرمانے کروائے گئے۔پتنگ بازوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے102مقدمات درج ہوئے جن میں119ملزمان پابند سلاسل کیے جن سے تقریباً4800 پتنگیں اور بھاری مقدار میں ڈوریں برآمد کیں ۔
اسی طرح سنگین نوعیت کے مقدمات جن میں قتل کے05مقدمات درج ہوئے4ملزمان گرفتار کر لے۔ سرقہ وہیکلز کے کل15مقدمات درج ہوئے جن میں09ملزمان کو گرفتار کیا گیا جن سے02عدد موٹرسائیکل ، 03کاریں(مالیت تقریباً38لاکھ سے زائد ) برآمد کیں ۔ کل 8827ٹریفک چالان ہوئے جن میں تقریباً26لاکھ سے زائد کا جرمانہ کیا گیا۔ جبکہ اغواء برائے تاوان کا کوئی مقدمہ درج نہ ہوا ۔چالان مکمل کی شرح56فیصد سے بڑھ کر77فیصد ہوگئی۔

پولیس لائنز جہلم میں شہداء کی تصاویر کے نئے پوسٹرز نصب کیے گئے ۔ پولیس لائن جہلم کی صفائی و ستھرائی کے لیے وائٹ واش کروایا گیا ۔ پولیس لائن مین گیٹ کا نیا پینٹ کروایا اور مین گیٹ پر پولیس لائنز جہلم کا بورڈ نصب کروایا گیا۔پولیس لائن جہلم میں قائم MTسیکشن میں خستہ حال گاڑیوں و موٹرسائیکلوں کی مرمت کروائی گئی اور ان کو قابل استعمال بناکر تھانہ جات میں تقسیم کی گئیں ۔
پولیس لائن جہلم میں 700سے زائد پودے لگائے گئے۔ اسی طرح پولیس افسران و ملازمین کے400سے زائد شوکاز نوٹسز کے متعلق سزا و جزا ء کے احکامات جاری کیے ۔ تھانہ جات اور فرنٹ ڈیسک میں نصب فرنیچرکی مرمت عمل میں لائی گئی ۔
 
 
 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button