کالم و مضامین

سوشل میڈیااور 786 — از تحریر: ڈاکٹر تصور حسین مرزا

سائنسی ٹیکنالوجی کی جدت پسندی کی ایک شکل سوشل میڈیا ہے جو آج جدید دنیا کی ضرورت بن چکا ہے۔ طالب علم ، معلم،سائنسدان، وکلاء پولیس،صحافی،مزدور،اور سیاستدانوں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے منسلک لوگ سوشل میڈیا سے مستُفید ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا کا مطلب پوری دنیا کو ایک گاؤں بنانا یا ظاہر کرنا نہیں بلکہ پوری دنیا کو ایک آنکھ کی پتلی سے دیکھنا ہوتا ہے۔ جب کوئی بھی شخص سوشل میڈیا پر آن لائن ہوتا ہے یا ہوتی ہے۔ جو کچھ آن لائن وہ تحریرکرتا ہے یا کرتی ہے اُسی وقت ساری دنیا جو آن لائن ہوتیں ہیں وہ دیکھ بھی رہی ہوتیں ہیں اور لائیک (پسند) بھی کر رہی ہوتی ہیں ساتھ ساتھ کمنٹس کی صورت میں اس کا جواب ردعمل کی صورت میں جو تحریر کیا جاتا ہیں خواہ وہ رائے سے مخالفت یا حمایت میں تحریر کیا جائے پوری دنیا دیکھ بھی رہی ہوتیں ہیں اور سمجھ بھی رہی ہوتیں ہیں خواہ رائے دینے والے کی کوئی ہی بھی زبان ہو، کیونکہ اب سوشل میڈیا ہر زبان میں خود بخود ترجمہ کرنے کی سہولت مہیا کر دیتا ہے۔
سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو بخوبی علم ہونا چاہئے، جب ہم سوشل میڈیا پر کوئی مواد اپ لوڈ کرتے ہیں تو ہم اپنے ملک کی نمائدگی کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے اپ لوڈ کئے ہوئے مواد سے خواہ وہ ویڈیوز ہو یا آڈیوز۔ ٹیکسٹ ہو یا تصویر ہماری ذات، ہماری قومیت اور ہمارے مہذبی شخصیت کی عکاسی ہوتی ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ
من گھڑت اور ایڈٹ شدہ مواد سے ہمیں کوئی عالم و فاضل نہیں بلکہ جہالت کا پلندہ ہی سمجھے گا۔ کبھی کسی سیاسی شخصیت سے بغض کے تحت جانور وں سے مشابہت دی جاتی ہے کبھی کبھی کسی دینی شخصیت کے اوپرتھوکنے کی ناپاک جسارت کی جاتی ہے۔ جو کسی بھی قیمت پر پاکستانی قوم کا شیوہ نہیںرہا مسلہ ’’ اسلام ‘‘ کا اسلام کا درس تو یہ ہے کہ مزاق میں بھی کسی عزت نہ اچھالی جائے، چھوٹوں سے پیار اور بڑوں سے ’’ ادب کے ساتھ بات کی جائے !
اگر آپ کے علم تجربے اور مشاہدے کے تحت کسی نے کوئی غلط خبر ، رپورٹ، آڈیو یا ویڈیوز اپ لوڈ کیئے ہیں، تو خدا کے واسطے گالی و گلوچ،نازیبا الفاظ یا کسی کی ذات کو نشانہ نہ بنائیں بلکہ اس کے مدمقابل جو وزنی دلیل، ثبوت یا کسی بھی طرح کا مواد ہے وہ اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے اگر آپ اختلاف رائے دیں گئے تو آپ کی رائے کو مقدم اور اہمیت دی جائے گئی۔
سوشل میڈیا پر آج کل انتہائی غلیظ مواد چیٹ کے نام پر استعمال ہو رہا ہے۔ لڑکے لڑکیاں بن کر لڑکیوں کے نام اور تصویر سے اپنی آئی ڈی بنا کر لڑکوں کو بے وقوف بنانے کئے لئے۔ ننگی اور گندی زنانہ تصویریں اور مواد اپ لوڈ کر رہے ہوتے ہیں ، جبکہ ان کے خیال میں فرضی نام فرضی پتہ دینے سے صرف لوگوں کے جذبات سے کھیلا ہی جاتا ہیں حالانکہ حکومتی ادارے جب اور جہاں چاہے ٹریس کر لیتے ہیں۔ دوسری بات یہ ایک دھوکہ اور فراڈ ہے۔ انسان مرتے ہیں، دھوکہ اور فراڈ نہیں مرتے بلکہ ایک نہ ایک دن یہی دھوکہ اورفراڈ گھومتے پھرتے پھراتے اسی فراڈئیے اور دھوکہ باز کو ڈس لیتے ہیں۔ بلکل اسی طرح جیسے اسلام میں زنا کو بھی قرض کہا گیا ہے۔ یعنی زانی آدمی کو موت سے پہلے پہلے اپنی آنکھوں کے سامنے زنا کا قرض واپس لُٹانا ہوتا ہے۔ سکول و کالج کی لڑکیاں یا ایسی خواتین جنکو مکمل آزادی ملی ہوئی ہے وہ بھی وقت پاس کئے لئے اپنی اور اپنے خاندان کی تصویریں اور ویڈیوز آئے دن اپ لوڈ کرتی رہتی ہیں جسکے بیانک نتائج سے قبل وہ زمین پر چلتی ہی نہیں اور اسی سوشل میڈیا نے آج انکو چلتی پھرتی لاشیں ، اور معاشرے میں انکی زندگی ایک بدنما دھبہ بن کر رہ گئی ہے۔سوشل میڈیا ایسی طالبات سمیت عام لڑکیاں بھی استعمال کر رہی ہے جو پڑھائی کے نام پر اور وقت پاس کے لئے غیر مردوں سے پوری پوری رات گپ شپ میں گزار دیتی ہیں۔اورعزت کا جنازہ نکلوا نے کے بعد قسمت کو قصوروار ٹھہراتی ہیں۔ابھی وقت ہے ایسے طالبات اور عام گھریلو خواتین کو ہوش کے ناخن لیکر ’’ سوشل میڈیا ‘‘ کے زرئیے دل لگی سے توبہ کر لینی چاہیے
سوشل میڈیا کے بہت سے فوائد ہیں جن میں اپنے تجربے اور تجزیے اور اپنی ذات سے وابسطہ سب کچھ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں آنکھ جھپکاتے ہی شیر کر دئیے جاتے ہیں۔یہ بھی سوشل میڈیا کا کمال ہی ہے جو دنیا پیار اور محبت کے گیت گاتے ہوئے ایک دوسرے کے قریب ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے تحت ہی یورپ ، امریکہ کی لڑکیاں ایشیاء اور پاکستان میں آکر آزادانہ شادیاں کر رہی ہیں۔ یہ بھی سچ ہے کہ سوشل میڈیا بھی ایک قسم کا جراثیم ہے اس کے فائدے بھی بے شمار ہیں اور اس کے نقصانات بھی ڈھکے چھپے نہیں۔ جہاں جہاں سوشل میڈیا نے دنیا کو پیار ، محبت اور خلوص دیا وہاں ہی کتنے ہنستے بستے گھروں میں قیامت برپا کی، کتنے گھر سوشل میڈیا کی وجہ سے جنت سے جہنم کی طرف چلے گئے۔ یعنی گھروں کے گھر اجڑ گئے۔
اگر ہم لوگ سوشل میڈیا اسلام اور اخلاق کے دائرے میں استعمال کریں تو اسلام کا درس جو بھائی چارے اور امن کا درس ہے وہ دنیا کے کونے کونے میں پہنچا کر انسان اور مسلمان ہونے کا حق ادا کر سکتے ہیں۔اس سے ہماری دنیاوی زندگی اور آخرت کی دائمی زندگی کا کامیاب و کامران ہو سکتی ہے۔ مگر افسوس کچھ لوگوں کی زندگی میں سوشل میڈیا کی وجہ سے تہناؤ، ڈپریشن،پرشانی،حسد بغض اور کینہ جیسی شیطانی ،غیر اخلاقی اورروحانی بیماریاں جہنم لیکر دل میں کدورتیں اور نفرتیں پیدا ہو رہی ہیں۔تھوڑی سی توجہ سے دماغی دلی اور ان روحانی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ اگر کسی کا کوئی دوست عزیز جاننے والہ یا جاننے والی اگر کسی پوسٹ کو آپ سے شیر کرتے ہیں۔ تو آپ کا فرض بنتا ہے جاننے والوں کی پوسٹ کو لائیک کرنا۔اگر آپ اس پوسٹ سے متفق نہیں تو کمنٹس میں اظہار کر دیں اگر وہ انسانی فلاح و بہبود یا نیک کام والی پوسٹ ہیں تو لازمی دوسروں سے شیر کریں۔ایسا کرنے س سوشل مڈیا کی وجہ سے دل میں نفرتیں نہیں پیار پیدا ہوگا ،لیکن ایک خاص بات۔۔۔ اگر کوئی اسلامی دینی یا تاریخی پوسٹ ہو تو لائیک اور شیر پہلے تحقیق کرلیں تاہم کمنٹس میں کنجوسی مت کریںورنہ آپ دوستوں عزیزوں اور جاننے والے لوگوں کے دلوں میں ٹھہر نہیں سکیں گئے۔بات ہو رہی تھی سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے پوسٹ شیرکرنے کی ، مصنوئی اور جعلی ویڈیوز، آدیوز، پکچکرز تو اب عام سی بات ہوگئی ہے۔
پچھلے دنوں ایک پوسٹ دیکھی جس کا عنوان تھا سات سو چھیاسی 786کی حقیقت۔ جو آپ کے ایمان کو ہلا کر رکھ دے
علم جعفر یا علم العداد کے تحت
الف 1، ب2، ت400، ث500، ج3، ح8، خ600، د4، ذ700، ر200، ز7، س60، ش300، ص90، ض800، ط9، ظ900، ع70،غ1000، ف80،ق100، ک20، ل30، م40، ن50، و6،ہ5،ی10،
ایک طرف بسم اللہ الرحمٰن الرحیم دوسری طرف ہری کرشنا
موصوف نے شعوری یا لا شعوری طور پر بسم اللہ الرحمان الرحیم لکھا ہے جو کہ غلط ہے
چونکہ الرحمٰن لفظ ہے جو کہ( الف ل ر ح م ن) کا مجموعہ ہے اور پوسٹ پر ( الف ر ح م ا ن) لکھا ہے جو کہ الف زیادہ لکھنے سے ایک کا اضافہ جبکہ پوسٹ میں جب حروف کے عداد نکالتے وقت الرحمٰن اور الرحیم کے را کو دو دو دفعہ اکاونٹ کر کے200 اور200 کا اضافہ کر کے401 اضافی قیمت786 میں جمع کر کے1187لکھا گیا ہے جبکہ ہری کرشنا کے عدد786 لکھے گئے ہیں۔
اللہ ہی جانتا ہے یہ گمراہ کرنے کی ناپاک جسارت ہیں یا لاشعوری طور پر غلطی ہے۔ جو بھی ہوا وہ بہت غلط ہوا۔
دکھ کی یہ بات ہے کہ کسی نے بھی تحقیق نہیں کی بلکہ 786 کو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی جگہ لکھنے پر نازیبا الفاظ وہ بھی علماء کرام کے خلاف کسی صورت جائز نہیں ۔ علماء علماء ہوتے ہیں خواہ ان کا تعلق کسی بھی فقہ سے ہو ۔ عذت احترام لازم ہے۔ اس بات سے ثابت ہوا سوشل میڈیا پر آنے والی ہر خبریا پوسٹ لازمی نہیں سچ ہو ،ہمیں آنکھیں بند کر کے ا ندھا دھند اعتماد کرنے کی بجائے خود تحقیق کریں یا متعلقہ شعبہ کے ایل علم سے رابطہ کرنے میں بخیلی نہیں کرنی چاہیے۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button