پاکستان میں یوٹرن کی سیاسی تاریخ!

تحریر: پروفیسر افتخار محمود

0

یوٹرن کا عمومی مطلب اپنے وعدے یا ہدف سے واپسی لیا جاتا ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ ماہ سینیئر صحافیوں اور کالم نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہاں تک جست لگا دی کہ جو ’’یو ‘‘ ٹرن نہیں لیتا وہ لیڈر ہی نہیں ہوتا حتیٰ کہ نپولین اور ہٹلر کے متعلق بھی کہہ دیا کہ اگر وہ ’’ یو ‘‘ ٹرن لے لیتے تو ناکام نہ ہوتے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے یہ بات کون سا نکتہ سامنے رکھتے ہوئے کی ہے کیونکہ دنیا کی تاریخ دو طرح کی ہے ایک جنگی اور دوسری سیاسی ۔ جہاں تک جنگی یا فتوحات کی تاریخ کا تعلق ہے تو جو سپہ سالار اپنے ہدف یا نشانے سے واپسی کی راہ اختیار کرلے اسے سخت نتائج بھگتنا پڑتے ہیں اور تاریخ اسے اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتی جیسا کہ عالمی فاتح سکندر اعظم کے مقابلے میں سپوت جہلم راجہ پورس کے ہاتھیوں کی واپسی کو بنیاد بنا کر منفی انداز میں یاد کیا جاتا ہے حالآنکہ اگر عقلی اعتبار سے دیکھا جائے تو دھرتی ماتا کے تحفظ کے لیے مقابلہ کرنے والا تو دھرتی کا بیٹا کہلا نے کے لائق ہو تا ہے۔

یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ دنیا کے فاتحین نے کبھی یو ٹرن لینا اپنی ناکامی تصور کرتے ہوئے اپنی جان پر کھیل جانا بہتر تصور کیا ۔ مثلاً طارق بن زیاد کی بڑی مثال موجود ہے جنہوں نے اپنے سپاہیوں کو ہدایت مرحمت فرمائی کہ کشتیاں جلا دی جائیں تا کہ واپسی کی توقع ختم ہوجائے اور صرف اپنی فتح کی خاطر جدو جہد کی جائے ۔ یہ تو کہہ دیا جاتا ہے کہ سیاست اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے لیکن جنگ اور سیاست میں بڑا فرق ہوتا ہے ۔

جنگ میں اب یا کبھی نہیں کی بنیاد پر فیصلہ کن مراحل طے کرنے ہوتے ہیں لیکن سیاست میں ہوتی جنگ ہی کی کیفیت ہے لیکن الفاظ نظریات اور منشور کی بنیاد پر اختلافات ہوتے ہیں اور فیصلے عوام (رائے دہندگان )نے کرنے ہوتے ہیں جیسا کہ ممتاز دانشور سید سبط حسن ایک مضمون میں رقمطراز ہیں کہ ’’ سیاست ایک جنگ ہوتی ہے بغیر خون ریزی کے ‘‘۔

سیاست میں نتائج کی بنیاد رائے دہندگان کی شعوری اور فکری کیفیت ہوتی ہے ۔ سیاست میں یو ٹرن ( اہداف سے واپسی ) اس وقت ہوتی ہے جب کوئی اندرونی یا بیرونی قوتوں کے دباؤیا خطرات مقابل ہوتے ہیں اگر پاکستانی سیاست کی تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی کی جائے تو گزشتہ 71 سالوں کے دوران کئی یو ٹرن لیے گئے۔چالیس سالہ دور میں سب سے پہلے پاکستان کے تیسرے فوجی صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے اس وقت یو ٹرن لیا جب انہوں نے نوے دن کے وعدے سے چشم پوشی کرتے ہوئے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے خود کو صدر منتخب کرا لیا اور ان کا اقتدار گیارہ سالہ دور تک طویل ہو گیا ایک فضائی حادثہ پر منتج ہوا۔

غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسمبلی کی کوکھ سے محمد خان جونیجو کی قیادت میں مسلم لیگ کا قیام بھی ایک یو ٹرن تھا ۔اس کے بعد 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے پی پی پی کے منشور سے ’’سوشلزم ہماری معیشت ہے‘‘ کے الفاظ کی بجائے نئے عمرانی معاہدے کی بات کی اور سوشلزم کی بجائے سوشل ڈیموکریسی کا پروگرام پیش کر دیا ، شہادت ہماری منزل پر اپنی سیاست کی بنیاد رکھی سامراج دشمنی کی سوچ کو نرم کیا گیا جیسا کہ ایک سیاسی جلسہ میں سامراج دشمنی پر مبنی ایک بڑے نعرے سے مذین ایک بینر کو اتارنا جلسہ کے منتظمین کے لیے مسئلہ بن گیالیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کی آمد اس بینر کا ہٹاناا اولین شرط ٹھہری۔

اگر پاکستان مسلم لیگ ن کی تاریخ میں یو ٹرن کو دیکھنا ہو تو 1993ء کا سال اہم دکھائی دیتا ہے کیونکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے صرف دو دنوں میں خوبصورت انداز میں یو ٹرن لے لیا ۔ 17اپریل 1993ء کو ببانگ دہل اعلان کیا کہ وہ کسی قیمت پر حکومت سے استعفیٰ نہیں دیں گے اور اگلے ہی روز 18اپریل کو خود ہی اپنے عہدے سے مستعفی ہونیکا اعلان کر دیا ،تاریخی یو ٹرن لیتے ہوئے انکار کو اقرار میں بدل دیا گیا۔

اس کے بعد جنرل پرویز مشرف کو دور آیا جس میں انہوں نے کئی مواقع پر کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں محمد نواز شریف اب کبھی بھی پاکستان کی سیاست میں نہیں آئیں گے لیکن 2007ء میں اچانک پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید پاکستان آئیں بعد میں میاں نواز شریف بھی پاکستان پہنچ گئے دونوں کی سیاسی جماعتوں نے الیکشن 2008ء میں بھرپور طریقے سے حصہ لیا، اس انتخابی مہم کے دوران27دسمبر2007ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو لیاقت باغ راولپنڈی کے ایک انتخابی جلسہ کے بعد نامعلوم طریقے سے شہید کر دی گئیں اور انتخابات طے شدہ پروگرام کے مطابق منعقد ہوئے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت وجود میں آگئی اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پورے پانچ سال تک قائم رہی قطع نظر دیگر عروج و زوال کے ۔

اس لیے یو ٹرن کے متعلق سیاست میں انکار نہیں کیا جا سکتا اگر موجودہ وزیراعظم پاکستان نے یو ٹرن پر کوئی بات کر ہی دی ہے تو صرف اور صرف منفی نکتہ نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ سیاسی سفر کے دوران کئی ایسے مواقع آتے ہیں وجوہ اولذکر میں موجودہیں کہ جب حکومت کو اپنے فیصلے سے ہٹنا پڑتا ہے ۔

راقم الحروف نے صرف اپنی شعوری عمر کے چالیس سالوں کو سامنے رکھ کر ان سطور کا انتخاب کیا ہے حالآنکہ1971ء کے انتخابات کے نتائج جب اس وقت کے فوجی حکمران جنرل یحییٰ خان کی موافقت کے مخالف آگئے تو ایسا یو ٹرن لیا گیا کہ ملک دو لخت ہوگیا ۔ حالیہ دنوں میں موجودہ حکومت نے ایک اور لیکن مثبت یو ٹرن لیا ہے کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کا چیئر مین بنانے سے انکار کرنے کے باوجود پی اے سی کا چیئر مین مقرر کرنے پر آمادگی کا اظہار کر دیا ہے جو ایک احسن فیصلہ ہے۔

پاکستانی موجودہ سیاست کی نوشتہ دیوار یہ بتا رہی ہے کہ موجودہ حکومت کو ابھی بہت سے فیصلوںسے یو ٹرن لینا پڑے گا کیونکہ سیاست اور حکمرانی تجربے کی متقاضی ہوتی ہے مثلاً اپنا گھر سکیم ، گھریلو سطح پر مرغیوں اور جانورپال کر ملک سے غربت دور کرنے کا خواب ، اسے بھی بڑھ کر یہ کہ منی لانڈرگ کا پیسہ ملک میں واپس لانے کی بات کہاں تک صادق آ سکتی ہے ؟یہ تو وقت ہی فیصلہ کرے گا ۔

ایک ذی شعور شہری اچھے اندازمیں سمجھ سکتا ہے کہ غربت کا خاتمہ صرف اور صرف بھاری صنعتی انقلاب کے ذریعے آسکتا ہے ۔ جناب وزیر اعظم پاکستان حکومت میں آنے سے قبل تو ملائیشیا اور انڈونیشیا کی مثالیں دیا کرتے تھے انہیں علم ہونا چاہیے کہ بنگلہ دیش کی برآمدات 38ارب ڈالر ہیں جبکہ ملائیشیا کی برآمدات 300ارب ڈالر تک ہیں جبک پاکستان کی برآمدات 21.4ارب ڈالر سالانہ ہیں اب انہیں سوچنا پڑے گا کہ کیسا یو ٹرن لے کر اپنے اہداف پورے کر سکتے ہیں ۔

فون نمبر :۔ 0301/03065430285
ای میل :۔ [email protected]

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.