جہلم

موسم سرماکی آمد، لنڈا بازاروں میں خریداروں کا رش، غریب طبقہ بے بسی کی تصویر بن گیا

جہلم: موسم سرماکی آمد ، لنڈا بازاروں میں خریداروں کا رش ، غریب طبقہ بے بسی کی تصویر بن گیا۔

موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی شہر کے مخصوص مقامات پر لنڈے کا کاروبار کرنے والے افراد نے اپنے سٹال قائم کر لئے ، سردی کی شدت سے خود کو محفوط رکھنے کے لئے متوسط اور غریب طبقہ کے افراد نے جرسیاں ، سوئٹر ، جوتے اور دیگر اشیاء خرید نے کے لئے لنڈا بازاروں کا رخ کرلیا۔

گزشتہ سالوں کی نسبت امسال لنڈے کی اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے ، منہ مانگے دام وصول کئے جانے کیوجہ سے صارفین اور دکانداروں میں تکرار روز کا معمول بن چکا ہے۔

سروے کے دوران کمر توڑ مہنگائی کے ستائے صارفین نے حکمران طبقہ پر شدید تنقید کے نشتر برساتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے روٹی کپڑا مکان کا جھوٹا دلفریب نعرہ لگا کر سادہ لوح عوام سے ووٹ حاصل کرکے کرسی اقتدار پر قبضہ کیا تو کسی نے قرض اتارو ملک سنوارواور غربت مکاؤ کا نعرہ دیکر سادہ لوح عوام کو اپنے جال میں پھنسایا اور اقتدار کے مزے لوٹے ، اب تبدیلی کی دعوے دار حکومت عوام کے مسائل سے بے خبر حکمرانی کے نشہ میں چور ہے ، مشکل حالات میں غریب طبقہ کے لئے تن کو ڈھانپنا کسی چیلنج سے کم نہیں ۔

لنڈا بازار غریبوں کو ریلیف فراہم کرنے کا واحد ذریعہ تھا مگر کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں طوفانی اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت غریبوں کا معاشی قتل کرنے کے درپے ہے۔

دوسری جانب لنڈا بازار کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ یورپین ممالک سے آنے والی لنڈا بازار کی اشیاء انہیں کراچی ، لاہور اور دیگر شہروں سے مہنگے داموں ملتی ہیں جس کی وجہ سے نرخوں میں اضافہ دکانداروں کی مجبوری ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button