گورنمنٹ ہائی سکول کھیوڑہ کا ٹیچر محمد یونس طلباء کومحفل میلاد مصطفی ﷺ کا بائیکاٹ کرنے کی تعلیم دینے لگا

0

کھیوڑہ: گورنمنٹ ہائی سکول کھیوڑہ کا ٹیچر محمد یونس طلباء کومحفل میلاد مصطفی ﷺ کا بائیکاٹ کرنے کی تعلیم دینے لگا اور ربیع الاول کے موقع پر طلباء کو کلاس روم سجانے سے روک دیا،ٹیچر محمد یونس نے سرکاری احکامات کی دھجیاں اڑا دیں حالانکہ تمام ادارے ربیع الاول کے پروگرام سرکاری طور پر بھی بھرپور طریقے سے منا رہے ہیں لیکن سکول ٹیچر محمد یونس نے سرکاری احکامات ماننے سے انکار کر دیا ہے اور سکول کے قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

سید قمرالحسن سیالوی نے محمد یونس کے خلاف قرارداد مذمت پیش کی اور مطالبہ کیا کہ اس ٹیچر کا فوری طور پر کھیوڑہ ہائی سکول سے تبادلہ کیا جائے جس پر علماء اہلسنت اور عاشقان رسول ﷺ نے قرارداد کی بھرپور تائید کی ڈی سی او جہلم ای ڈی او ایجوکیشن جہلم اے سی پنڈدادنخان سے اس کے خلاف سرکاری احکامات کی دھجیاں اڑانے پر محکمانہ کاروائی کی جائے۔

تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ ہائی سکول کھیوڑہ میں ہر سال ربیع الاول کے مہینے میں محفل نعت کا انعقاد اور کلاس روم کی سجاوٹ کر کے حضورﷺ سے محبت کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس بار تو سرکاری طور پر بھی تمام اداروں کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ ربیع الاول کے موقع پر تمام ادارے بھرپور طریقے سے محفل میلاد و ذکرونعت اور سجاوٹ کرکے حضورﷺ سے عقیدت کا بھرپور ثبوت دیں۔

اس بار بھی گورنمنٹ ہائی سکول کھیوڑہ کی انتظامیہ نے سکول میں محفل میلاد کاانعقاد کیا اور تمام کلاس رومز کو سجایا گیا مگر افسوس کہ سکول ٹیچر محمد یونس نے کلاس نہم سیکشن غوری کے تمام طلباء کو کلاس روم سجانے سے روک دیا اور سکول میں محفل میلاد میں شرکت نہ کرنے دی اور ٹیچر محمد یونس خود سکول آیا اور حاضری لگا کر چلا گیا جب سکول کے ہیڈ ماسٹر اکرم درانی سے رابطہ کیا گیا تو ہیڈ ماسٹر نے بھی ٹیچر محمد یونس کے اس رویہ پر افسوس کا اظہار کیا اور محکمانہ کاروائی کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔

اس واقعہ کی شہر کے علماء کرام سیاسی سماجی تنظیموں نے بھرپور مذمت بھی کی اور جامع مسجد گلزار مدینہ میں محفل نعت کے موقع پر سید قمرالحسن نے گورنمنٹ ہائی سکول کھیوڑہ کے ٹیچر محمد یونس کے خلاف مذمتی قرارداد پیش کی اور فوری طور پر اس ٹیچر کا کھیوڑہ سکول سے ٹرانسفر کرنے اور ڈی سی او جہلم ای ڈی او ایجوکیشن جہلم اے سی پنڈدادنخان سے اس کے خلاف سرکاری احکامات کی دھجیاں اڑانے پر محکمانہ کاروائی کا مطالبہ کیا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.