بجلی کے کم وولٹیج اور لوڈ شیڈنگ — تحریر: شہباز بٹ

1

بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پاکستان کا درینہ مسئلہ بن گیا ہے مشرف دور میں جب میڈیا آزاد اور نجی ٹیلی ویژن کی نشریات شروع ہوئیں تو اسکے کچھ عرصہ بعد جب آزاد میڈیا نے آئینہ دکھانا شروع کیا تولوڈ شیڈنگ کا آغاز ہوا مشرف دور میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ یومیہ تین گھنٹے تھا ،،پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو یہ جن بے قابو ہو گیا مسلسل چار چار گھنٹے بجلی بند ہوئی یومیہ دورانیہ بیس بیس گھنٹے تک گیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائدین نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے یہاں تک کہ بطور وزیر اعلی پنجاب نے منٹو پارک میں عارضی دفتر بنایا اور ہاتھ والے پنکھے جھولتے دکھائی دئیے حکومت آئی تو کبھی چھ ماہ اور کبھی ایک سال میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے اعلانات کیے گئے لیکن یہ محض اعلانات تک ہی محدود رہا سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے بطور وزیر اعظم پاکستان آخری لمحات میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا اعلان کیا لیکن حقیقت میں ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوئے تو عوام نے ان سے امیدیں وابستہ کیں لیکن سخت گرمی اورحبس میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ جاری ہے ،،،جہلم کی بات کی جائے تو گزشتہ چند روز میں بجلی کی بار بار بندش اور کم وولٹیج سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا،،،بچے گرمی اور حبس میں تڑپتے رہے ، نواحی علاقوں میں لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج کا دورانیہ شہر کی نسبت زیادہ رہا،،پی ٹی آئی کے مقامی راہنماء اور کارکنان بھی واپڈا حکام کو کوستے رہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا ،،،جہلم کا سپوت حرکت میں آیا اور سیکرٹری پانی و بجلی سمیت دیگر حکام کی سے میٹنگ کی اور جہلم میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج جیسے مسئلہ پر باز پرس اور سرزنش کی ،،، فواد چوہدری نے سیکرٹری پانی و بجلی کو جہلم سے غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ختم اور کم وولٹیج کا مسئلہ فی الفور حل کرنے کی ہدایت کی جسکے بعد غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ میں واضح کمی آئی ہے بلکہ لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے ،،،جہاں کم وولٹیج ہیں وہاں پر جلد کام شروع ہونے والا ہے نئے ٹرانسفارمر اور تاریں لگائی جائیں گی ضلع بھر میں Revamping کا کام شروع ہو گا۔

فواد چوہدری نے جہلم کی عوام کا احساس کیا ،جہلم کا سپوت ہونے کا حق ادا کیا ،،،، تیس سال جہلم کی عوام نے غلاموں کی طرح زندگی بسر کی لیکن منتخب نمائندوں کو انکے دکھ درد کا احساس نہ ہوا ،،، اب تو کہہ دو ،فواد آیا سواد آیا۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
  1. Raja iftikhar کہتے ہیں

    Why are you telling lie even you know that in previous government load shedding was very low but now a days load shedding on its peak. Try to speak about realistic situation & don’t try to cover a situation that is in alarming to humiliation if jhelum citizens.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.