کھیوڑہ پولیس چوکی کے خلاف احتجاج کے دلچسپ حقائق سامنے آ گئے

0

پنڈدادنخان:کھیوڑہ میں منشیات فروشوں کے ساتھ فراڈ، پشاور کا منشیات فروش چرس کی بجائے نسوار دے گیا ۔کھیوڑہ پولیس چوکی کے خلاف احتجاج کے دلچسپ حقائق سامنے آ گئے،ایس ایچ او پنڈ دادنخان عبدالغفور بٹ کی بروقت اور سمجھداری سے مسئلہ پر قابو پا لیا گیا، سماجی حلقوں کا خراج تحسین ۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کے دن پولیس چوکی کھیوڑہ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور مظاہرین نے مین روڈ کو بند کر دیا جس سے ٹریفک کی لمبی قطاریں لگ گئی، مظاہرین پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کر تے رہے جب میڈیا وہاں پہنچا تو دلچسپ حقائق سامنے آئے۔

ایس ایچ اوعبدالغفور بٹ نے چیئرمین میونسپل کمیٹی کھیوڑہ ملک فیصل اور دیگر ممبران کی موجودگی میں مظاہرین سے مذکرات کیے کہ حقائق آپ سب کے سامنے آ جائیں گے ۔ایس ایچ او پنڈدادنخان نے جب ملزم وقار جو پولیس نے گرفتار کیا ہوا تھا کو سامنے پیش کیا تو وقار نے بتایا کہ میں نے اورصلاح الدین نے پشاور کے منشیات فروش رحمت خان سے ڈیڑھ کلو چرس 75 ہزار روپے میں خریدی اور کھیوڑہ میں ہی رحمت خان کو پورے پیسے دیئے۔

یہ بھی پڑھیں: کھیوڑہ پولیس چوکی کے سامنے احتجاج، مظاہرین نے چکوال روڈ بند کر دی

کھیوڑہ شمامہ چوک میں رحمت خان نے ہم کو چرس دی جو لے کر ہم صلاح الدین کی بیٹھک پر گئے جب چرس کو چیک کیا تو وہ چرس کی بجائے نسوار دے گیا۔صلاح الدین نے مجھے مارنا شروع کر دیا کہ تمھاری وجہ سے میرے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اس دوران ان کی آپس میں پنچایت بھی چلتی رہی۔

پولیس نے جب ملزم وقار کو گرفتار کر لیا تو پولیس صلاح الدین سے پوچھ گچھ کرنے اور برآمدگی کیلئے جمعرات کے روز جب صلاح الدین کے گھر گئی تو صلاح الدین گھر موجود نہ تھاجس کے بعد اہل محلہ کی بڑی تعداد نے چوکی کے سامنے احتجاج کرنا شروع کر دیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس نے ہماری خواتین سے بدتمیزی کی اور کانسٹیبل جیلانی اور نواز گوندل کو فوری برطرف کیا جائے جس پر کانسٹیبل جیلانی کو فوری طور پر پنڈدادنخان تھانہ ٹرانسفر کر دیا اور مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔

کھیوڑہ میں منشیات فروشوں کا منظم نیٹ ورک موجود ہے اور جس کو فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے ،رفاعی سماجی تنظیموں نے ڈی پی او جہلم حافظ عبدالغفارقصرانی سے مطالبہ کیا ہے کہ کھیوڑہ میں بھرپور آپریشن کیا جائے، سرعام لاکھوں روپے کی منشیات موبائل فون کے ذریعے فروخت ہو رہی ہے جو باعث تشویش ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.