کالم و مضامین

مسلم لیگ (ن) کی نئی تنظیم بمقابلہ ووٹ کو ’’رسوا‘‘ کرو یا ’’ورکر‘‘ کو عزت دو؟

ویسے تو سیاست میں ’’ٹانگیں توڑنے‘‘والا کام زیادہ ہوتا ہے مگر جب سیاستدان ’’ٹانگیں توڑنے‘‘کی عمر اور اختیار سے محروم ہو جاتے ہیں تو پھر وہ ’’ٹانگیں کھینچنے‘‘والا کام شروع کر دیتے ہیں۔ہمارے جہلم کے کچھ سیاستدان بھی اب اقتدار سے محروم ہو کر عمر کے اس حصّے میں پہنچ چکے ہیں جہاں اب وہ ’’ٹانگیں توڑنے ‘‘ سے تو رہے ۔۔۔ مگر ’’ٹانگیں کھینچنے ‘‘ والا ہنر آزما رہے ہیں۔

اس سیاسی مقابلے کی خاص بات یہ ہے کہ ٹانگوں کی کھینچا تانی کے اس کھیل میںجو کھلاڑی مقابلے میں ہیں وہ اپنی شکست کو بار بار یاد کر کے کہڑتے رہتے ہیں اور اب انکے لئے کوئی دوسرا کھیل کھیلنا ممکن بھی نہیں۔مسلم لیگ (ن ) نے اپنی نئی تنظیم سازی مہم کے تحت جہلم میں بھی نئے عہدیداروں بلکہ کچھ سابقہ کو نئے عہدے جاری کر دیے ہیں۔

تنظیم سازی کے اس فیصلے کے مطابق سابق صدر چوہدری محمد بوٹا جاوید کو دوبارہ صدر جبکہ سابقہ جنرل سیکرٹری حافظ اعجاز جنجوعہ کو سینئر نائب صدر کے علاوہ جہلم کی تحصیل پنڈ دادنخان سے اکلوتے ایم پی اے حاجی ناصر للہ کو جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا ہے انکے علاوہ سابق ایم پی اے سوہارہ راجہ اویس خالد ، راجہ احمد حسین شوکت اور سابق ضلعی چیئرمین راجہ قاسم علی خان کو بھی سینئر نائب صدر کے عہدے جاری کیے گئے ہیں ۔

نئی تنظیم سازی پر جہلم کے وہ لیگی کارکن بھی سراپا احتجاج ہیں جنہوں نے 2018 ء کے انتخابات میں نہ صرف مسلم لیگی امیدواروں کی مخالفت کی بلکہ ’’ ووٹ کو عزت دو ‘‘ کے نعرے کو پاؤں تلے روندتے ہوئے خود اپنے ووٹ پی ٹی آئی اور آزاد امیدواروں کے حق میں ڈال دیئے ۔ اب انکے اعتراض اور احتجاج کو موجودہ قائدین ضلع کسی خاطر میں نہیں لا رہے ۔

اگر بات مسلم لیگ (ن) مخالف ووٹ کی کی جائے تو پھر موجودہ عہدیداروں میں راجہ قاسم علی خان وہ ہیں جنہوں نے ضلع چیئرمین کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار حافظ اعجاز جنجوعہ کے مقابلے میں آزاد انتخاب لڑ کر پارٹی سے بغاوت کی تھی۔ اب اگر راجہ قاسم علی خان کو نہ صرف ورکر بلکہ لیگی عہدیدار تسلیم کیا جا سکتا ہے تو پھر ورکر گروپ کی بغاوت بھی قابل معافی ہو سکتی ہے ۔

یہ فیصلہ یا تو مقامی قیادت یا مرکزی و صوبائی قیادت نے کرنا ہے مگر ایک بات واضع ہے کہ تنظیمی عہدیداروں کے چناؤ کے بعد سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ٹانگیں کھینچنے کا یہ کھیل اب تک جاری و ساری ہے۔مقابلے کی اس دوڑ میں ’’فتح و شکست‘‘ کس کا مقدر بنے گی یا پھر کھلاڑی یہ کھیل کھیلتے تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے اور وکٹری اسٹینڈپر کوئی تیسرا کھڑا نظر آ جائے گا۔سیاسی میدان کے ان کھلاڑیوں کے جاری ’’ٹانگیں کھینچنے ‘‘کے اس کھیل میں کھیل کھیلنے سے زیادہ ’’شیخیاں بگھانے ‘‘ پر زور دیا جا رہا ہے ۔

دونوں اطراف کے کھلاڑی اپنے اپنے حواریوں کی ہمدردیاں حاصل رکھنے کی خاطر ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے ایسی ایسی ’’شیخیاں بگھارتے‘‘ ہیں کہ سننے والا کانوں میں انگلیاں دینے کی بجائے کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔جہلم کے عوام میں شامل ہونے کے ناطے میں بھی کئی روز سے یہ کھیل دیکھ رہا ہوں ۔مجھے یہ کھیل دیکھ کر ایک ’’ کہانی‘‘ یاد آ گئی ۔

کہانی کچھ اس طرح ہے کہ۔۔۔ایک دفعہ ایک چوہدری ریل گاڑی میں سفر کر رہا تھا۔ڈبے میں اس کا ہمسفر ایک بنگالی بابو تھا۔چوہدری ہٹا کٹا اور لمبا تڑنگا۔۔۔۔۔جبکہ بنگالی دبلا پتلا۔بنگالی اپنا صندوق اٹھا کر اوپر والی سیٹ پر رکھنے کی کوشش کر رہا تھا،اس سے اٹھ نہیں رہا تھا۔چوہدری یہ دیکھتے ہوئے اپنی سیٹ سے اٹھا اورآرام سے صندوق اٹھا کر اوپر والی سیٹ پہ رکھ دیا۔اور بنگالی سے طنزیہ لہجے میں بولا۔۔۔اوئے بنگالیووووووو!!!!!!!’’کنک تے دودھ مکھن کھایا کرو،طاقت آؤندی اے۔۔۔۔۔۔مچھی چاول کھا کھا مکھی مارن جوگے وی نی۔(گندم ،دودھ اور مکھن کھایا کرو طاقت آتی ہے۔

مچھلی چاول کھا کھا کے مکھی مارنے کے قابل بھی نہیں)۔۔۔۔بنگالی بے چارہ یہ سن کر چپ ہو رہا۔۔۔ تھوڑی دیر بعدبنگالی نے تازہ ہوا لینے کے لئے کھڑکی کھولنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔۔۔بہت زور لگایا مگر کھڑکی پھر بھی نہ کھلی۔۔۔۔۔چوہدری اٹھا اور آستین چڑھا کرزور لگا کر کھڑکی کھول دی اور پھر اس کو کہا کہ۔۔۔اوئے بنگالیوووووو!!!!!! ’’چاول دی بجائے کنک کھایا کرو،طاقت آؤندی اے‘‘(چاول کی بجائے گندم کھایا کرو طاقت آتی ہے)۔۔۔۔۔۔بنگالی پھر چپ رہا۔۔۔

تھوڑی دیر بعد اسے بھوک لگی۔۔۔اس نے اپنا کھانے والا ٹفن کھولنے کی کوشش کی مگر اس کا ڈھکنا پھنسا ہوا تھا۔۔۔اسے زور لگاتا دیکھ کرچوہدری نے اس کے ہاتھ سے ڈبہ لیکرزور لگا کر ڈبہ کھولااس میں مچھلی چاول دیکھ کربولا۔۔اوئے ئے ئے ۔۔۔۔فیر مچھی تے چاول؟؟؟ تینوں میں وار وار کہہ رہیا واںکہ۔۔۔۔کنک تے دودھ مکھن کھایا کرو،طاقت آؤندی اے۔۔۔۔۔ (گندم ،دودھ اور مکھن کھایا کرو طاقت آتی ہے)۔

اب کی بار بنگالی کو غصہ آ گیا۔۔۔اس نے اٹھ کرگاڑی روکنے والے زنجیر کھینچنے کی کوشش کی تاکہ گاڑی روکے اورریل کا ڈبہ بدل سکے۔۔۔۔مگر وہ زنجیر بھی نہ کھینچ سکا۔۔۔۔۔۔وہ واپس اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ چوہدری یہ دیکھ کر اٹھا۔۔۔۔ایک جھٹکے سے زنجیر کھینچی۔۔۔۔۔گاڑی رک گئی۔۔چوہدری نے پھر بنگالی کو طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔’’ویکھیاں نے کنک دیاں طاقتاں۔۔۔۔توں وی کنک کھایا کر‘‘(دیکھی ہیں گندم کی طاقتیں۔۔۔۔تم بھی گندم کھایا کرو)۔۔۔۔۔۔

گاڑی رکی تو ریلوے پولیس آ گئی اور مسافروں سے پوچھنے لگی کہ زنجیر کس نے کھینچی تھی؟؟؟؟؟۔سب مسافروں نے چوہدری کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔پولیس والوں نے چوہدری سے وجہ پوچھی۔۔۔اب چوہدری کے پاس زنجیر کھینچنے کی کوئی وجہ ہوتی تو بتاتا۔۔۔۔۔پولیس نے بلا وجہ زنجیر کھینچنے کے جرم میں چوہدری کو گرفتار کے ہتھکڑی پہنا دی۔

جب پولیس والے چوہدری کو گرفتار کرکے لے جارہے تھے تو پیچھے سے بنگالی بابو نے آواز لگائی۔۔۔۔چوہدرررررری جی!!!!!!!!!!!!! ۔’’مچھلی چاول بھی کھا لیا کرو۔۔۔اس سے عقل آتی ہے‘‘۔چوہدری بے چارے کو ’’شیخیاں بگھارنے‘‘ کی سزا مل گئی۔اللہ کرے ’’ٹانگیں کھینچنے ‘‘ اور ’’شیخیا ں بگھارنے‘‘ والے بھی ’’ہوش کے ناخن‘‘ لیں۔ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی با نسری

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close