دینہ

سمارٹ لاک ڈاؤن؛ دینہ کی تاجر برادری کو تحصیلدار اور پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جانے لگا

دینہ: کورونا لاک ڈاؤن دینہ کی تاجر برادری کو تحصیلدار دینہ و پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جانے لگا ،اوقات کار کے بعد دوکانیں کھلی رکھنے والے دوکانداروں کو پولیس اسٹیشن لے جا کر جرمانہ وصول کرنے پر تاجر برادری سرا پا احتجاج ،آئندہ کا لائحہ عمل کے لیے مشاورت جاری۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے ہفتہ میں دو دن لاک ڈاؤن اور شام 6بجے کاروبار زندگی بند کرنے کے حوالے سے لا علمی پر گزشتہ دنوںتحصیلدار و پولیس نے متعدد دوکانداروں کو اٹھا کر پولیس اسٹیشن لے گئی اور ان سے وہاں جرمانے لیکر چھوڑ دیا گیا جو کہ دوکانداروں کی عزت نفس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

دوکانداروں نے میڈیا نمائندگان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تاجر برادری حکومت کو ٹیکس دیتے ہے اور اس کی اس طرح پولیس کے ذریعے تزلیل نا قابل برداشت ہے ،دوکانداروں کو پہلے تو ٹائمنگ کا علم ہی نہیں ان کو ایک وارننگ دینی چاہیے اور اگر جرمانہ ہی وصول کرنا ہے تو دوکانوں پر جرمانہ لیا جائے نہ کہ ان کو پولیس کی گاڑیوں میں بیٹھا کر تھانے لے جا کر جرمانہ وصول کیا جائے ،دوکانداروں کی اتنی بڑی تعداد کو ایک چھوٹے سے کمرے میں لے جاکر بند کر دیا گیا کیا اس سے کورونا پھیلنے کے امکانات نہیں تھے۔

امجد محمود سیٹھی نے کہا کہ ہم تاجر برادری کی تزلیل کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے تاجر برادری کا فوری اجلاس طلب کیا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر جہلم ،ڈی پی او جہلم ،اسسٹنٹ کمشنر دینہ تاجر برادری کے ساتھ ناروا سلوک کا فوری نوٹس لے۔

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button