جہلم

اراضی ریکارڈ سنٹر جہلم بدعنوانی کا گڑھ بن گیا، سائلین ذلیل و خوار

جہلم: اراضی ریکارڈ سنٹر جہلم بدعنوانی کا گڑھ بن گیا، سائلین کو ذلیل و خوار کرنا عملے کا وطیرہ ، کئی کئی ہفتے شہری ذلیل و خوار ہونے پر مجبور ، سائلین نے وزیر اعلیٰ پنجاب، ڈپٹی کمشنر جہلم سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے کروڑوں روپے کی لاگت سے پٹواری نظام کا خاتمہ کرکے کمپیورٹرائزڈ اراضی ریکارڈسنٹر بنائے تاکہ عوام کو اپنی اراضی کے انتقالات ، حصول فرد ملکیت و دیگر کام بروقت اور رشوت کے بغیر ہو سکیں لیکن جہلم میں موجود اراضی ریکارڈ سنٹر میں تعینات عملے نے شہریوں کو ذلیل وخوار کرنا وطیرہ بنا لیا ہے۔

ریکارڈ سنٹر میں کوئی بھی کام اعتراض لگائے بغیر ممکن نہیں ، سائلین علی الصبح اراضی ریکارڈ سنٹر پہنچنا شروع ہوجاتے ہیں اس طرح 10 بجے تک مخصوص افراد کو ٹوکن جاری کرکے 10 بجے کے بعد آنے والے سائلین کو اگلے روز آنے کا کہہ کر بھجوادیا جاتا ہے ، جبکہ ٹوکن حاصل کرنے والے سائلین کو سہ پہر کے وقت اعتراض لگا کر واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سائلین نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ اراضی ریکارڈ سنٹر کا انچارج اور سیکنڈ افسر سائلین کے مسائل سننا اور عملے کی طرف سے لگائے گئے اعتراضات دور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے عملہ پٹواری گرداور سے رجوع کرنے کا کہہ کر اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔

شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے اراضی ریکارڈ سنٹر میں جنگل کا قانون نافذ ہے ، سنٹر کے ذمہ داران گرم کمروں کے دروازے بند کرکے موبائلز فونز پر گپیں ہانکتے رہتے ہیں جبکہ سائلین سارا دن سردی میں ذلیل و خوار ہونے کے بعد شام کو مایوس گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔

سائلین نے وزیر اعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر جہلم سے نوٹس لینے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button