جہلم

سڑکوں کا میک اپ کرنے والے زیر زمین چلے گئے، شہر کی سڑکیں گڑھوں میں تبدیل

جہلم: سڑکوں کا میک اپ کرنے والے زیر زمین چلے گئے ، شہر کی سڑکیں گڑھوں میں تبدیل ، شہریوں کی قیمتی گاڑیاں کھٹارہ بننے لگیں ۔ منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی سمیت ضلعی انتظامیہ نے منہ موڑ لیا، شہری سراپا احتجاج ، وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق شہر کی محض چند کلو میٹر پر مشتمل سڑکیں خستہ حالی ، زبوں حالی کا شکار ، سڑکوں میں کئی کئی فٹ گہرے گڑھے بن گئے ، جس کی ذمہ دار متعلقہ محکموں کے افسران وا ہلکار ہیں متعلقہ محکموں کے اہلکاروں نے چند کوڑیوں کے عوض شہر کی سڑکوں کی کھدائی کروا کر ہوٹل مالکان اور بااثر افراد کو سیوریج کے پائپوں میں کنکشن کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

اس طرح راتوں رات بااثر افراد اور ہوٹلز مالکان سڑکوں کو کاٹ کر سیوریج کے پائپ ڈال دیتے ہیں اور اگلے روزسڑکوں کا پیچ ورک مکمل نہ ہونے کیوجہ سے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کر کھنڈرات کا منظر پیش کر نا شروع کر دیتی ہیں جس کیوجہ سے موٹر سائیکل سواروں سمیت چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ متعلقہ محکموں کی عدم دلچسپی و لاپرواہی کیوجہ سے شہریوں کی زندگیاں اجیرن ہوکر رہ گئیں ہیں۔

سڑکوں کی خستہ حالی آثار قدیمہ کا منظر پیش کر رہی ہیں اکثر مقامات پر سڑک کے علامتی نشانا ت بھی مٹ چکے ہیں، پچھلے 1 سال سے متعلقہ محکمہ نے نہ تو سڑکوں پر پیچ ورک کا کام کیا اور نہ ہی سڑکوں کی مرمت کے لئے کوئی اقدامات اٹھائے ہیں ، محض چند کلو میٹر کا فاصلہ سڑکیں درست نہ ہونے کیوجہ سے منٹوں کا سفر طویل ہو کر رہ گیا ہے ۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ہر سال متعلقہ محکمے جون کے مہینے میںسڑکوں کا میک اپ کرکے شہریوں کی مشکلات میں کمی کر دیتے تھے ، لیکن رواں سال متعلقہ محکمے خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں جبکہ منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلیوں سمیت ضلعی انتظامیہ نے بھی شہریوں کے مسائل سے منہ موڑ لیا ہے ۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو شکست کا سامنا اس لئے کرنا پڑا کہ انہوں نے عوامی مسائل سے لا تعلقی اختیار کر لی تھی جبکہ موجودہ ممبران قومی و صوبائی اسمبلی بھی سابق ممبران کے نقشِ قدم پر چل کر شہریوں کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ 2 سال بعد انتخابات کے موقع پر سوچ سمجھ کر ایسے ممبران کو منتخب کریں گے جنہیں اپنے ووٹرز کے مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی ہو ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close