جہلماہم خبریں

الیکشن کمیشن نے ضلع جہلم کی نئی حلقہ بندی جاری کر دی

جہلم: الیکشن کمیشن نے ضلع جہلم کی نئی حلقہ بندی جاری کر دی ، قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلی کے تین حلقے ہوں گے پی پی 24کا حلقہ ختم کر دیا گیا ، ووٹرز اور ایریا میں اضافہ سے امیدواروں کو کامیابی کے کیلئے سخت جدوجہد اور بھاری وسائل درکار ہوں گے ۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے حکم پر جاری حلقہ بندیوں کا کام مکمل ہونے پر ضلع جہلم کے دونوں حلقوں کی تفصیلات جاری کردی ہیں جس کے مطابق ضلع جہلم کے دو حلقوں این اے 62اور 63کو تبدیل کرکے 66اور 67میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کی چار کی بجائے تین حلقوں میں ضلع بھر کو تقسیم کرتے ہوئے حلقہ پی پی 24کو ختم کر دیا گیاہے اس طرح اب ضلع میں دو ایم این ایز اور تین ایم پی ایز بنیں گے ۔

الیکشن کمیشن کی جاری کردہ حلقہ بندی کے مطابق پی پی 24کے خاتمے کے بعد پی پی 25میں تحصیل دینہ ، تحصیل سوہاوہ شامل ہوں گے اس حلقہ میں اہم ترین یونین کونسلز مدو کالس، مغل آباد، سوہن ، دھنیالہ ،کھوکھا ، گڑھ محل ،چک الماس اور پنڈ رتوال شامل ہوں گے جبکہ حلقہ پی پی 26میں کالا گوجراں ، مونسپل کمیٹی جہلم ، بشمول پٹوار سرکل خورد، بوکن ، مونن ، کوٹلہ فقیر ، سنگھوئی، جہلم کینٹ، چک خاصہ، چک جمال ، چک دولت اور دیگر شامل ہوں گے ۔

پی پی 27 میں تحصیل پنڈدادن خان کے ساتھ ناڑا، چوٹالہ، دارا پور، کندوال، بیر فقیراں ، شاہ پور، جمرغال ، نتھوالہ ، ڈھوک بدر، ڈھوک کنیال سمیت دیگر علاقے شامل ہوں گے الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندی کے بعد حلقہ این اے 66میں تحصیل سوہاوہ مکمل ، تحصیل جہلم سے حدود مونسپل کمیٹی جہلم اور تحصیل دینہ کے کچھ علاقے شامل کئے گئے ہیں جبکہ این اے 67میں جہلم کینٹ یونین کونسل کوٹلہ فقیر کے ساتھ تحصیل پی ڈی خان کو شامل کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی جاری کردہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد پی پی 25میں ووٹرز کی تعداد 401608، پی پی 26میں 406312اور پی پی 27میں 414730ووٹرز اپنے حق رائے دہی استعمال کریں گے اسی طرح قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 66میں کل ووٹرز کی تعداد676537جبکہ این اے 67میں 546113ووٹرزشامل ہوں گے ۔

نئی حلقہ بندیوں کے بعد ایم پی اے اویس خالد کا حلقہ ختم ہوجانے پر ان کے سیاسی مستقبل کو تاریک سمجھا جا رہا ہے جبکہ ایم پی اے مہر محمد فیاض ، ایم پی اے چوہدری لال حسین اور ایم پی اے چوہدری نذر گوندل کو اپنی سیٹوں کو بحال رکھنے کیلئے بھرپور محنت کرنا پڑے گی قومی اسمبلی کے حلقوں میں اضافہ سے امیدواروں کو بھاری وسائل خرچ کرنا ہو ں گے اور نئی حلقہ بند ی سے سیاسی حالات یکسر بدل جانے سے کئی ایک امیدواروں کی امیدوں کے چراغ گل ہو جانے کا خدشہ ہے ۔

سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ نئی حلقہ بندیاں بہتر ضرور لیکن عوامی مسائل کے حل کیلئے شہریوں کو زیادہ پریشانی کا سامنا کرناپڑے گا حلقہ بڑے ہوجانے سے جہاں فنڈز زیادہ ہوگی وہیں کام کاایریا بڑھ جانے سے منتحب نمائندوں کو عوامی توقعات پر پورا اترنا مشکل ہو گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button