کالم و مضامین

مفاد پرستی کی سیاست

تحریر: سندس سیدہ

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 140 اے ملک میں مالیاتی، سیاسی اور انتظامی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی بات کرتا ہے۔ آرٹیکل 32 بلدیاتی اداروں کے فروغ کی بات کرتا ہے اسکے ساتھ ساتھ ہمیں قانون کی اسی کتاب کا آرٹیکل 37 سماجی انصاف کو یقینی بنانے اور ریاستی وسائل سے عوام کو براہ راست مستفید کرنے کے سنہرے خواب بھی دکھاتا ہے۔

ان خوابوں میں رنگ بھرنے کے لیے جب سیاسی جماعتیں اپنے منشور پیش کرتی ہیں تو ایسے بلند و بالا دعوے کیے جاتے ہیں کہ عوام تو سمجھتی ہے کہ بس انتخابات ہوتے ہی انکے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ بلدیاتی انتخابات کروانے کے حوالے سے اعلان ہونے کی دیر ہوتی ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنے لنگڑے لُولہے گھوڑوں کو دوڑانا شروع کر دیتی ہیں۔

یہ سیاسی جماعتوں کے وہی مُہرے ہوتے ہیں جو الیکشن ہوتے ہی غائب ہو جاتی ہے یا پھر محض گلی محلے اور تھانے کچہری کی سیاست میں ہی انکے چہرے دکھائی دیتے ہیں۔ انتخابات سر پر آتے ہی شہریوں سے رابطے بحال کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ عوام جو ایک بریانی کی پلیٹ پر بھی ووٹ دے دیتی ہے ان دنوں میں جب انکو موقع ملتا ہے کہ اپنے مفادات کے لیے ان نمائندوں سے کام کروا لے تو انکے لیے بھی یہی سنہری موقع ہوتا ہے اور دو چار چھوٹے چھوٹے کام لگے ہاتھوں کروا ہی لیتے ہیں۔ بھئی یہی موقع غنیمت ہوتا ہے کیونکہ بعد میں یہ ریس کے گھوڑے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اور نظروں سے اوجھل ہی رہتے ہیں۔

ترقی یافتی ممالک کی بات کریں تو وہاں پربلدیاتی نظام کو بہت اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ وہاں مقامی سطح پرترقی کے لیے عملی اقدامات کیے جاتے ہیں۔حقیقی طور پر عدلیہ، پولیس، صحت، تعلیم سمیت تمام شعبے بلدیاتی نمائندوں کی سرکردگی میں بہترین طور پر وہ امور سرانجام دے رہے ہوتے ہیں جن کا تعلق براہ راست عوام سے ہے۔

دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں ترقیاتی فنڈز بلدیاتی اداروں کیلئے مختص کئے جاتے ہیں، جن کا اصل مقصد مقامی سطح پرترقیاتی کام جیسے کہ گلیوں، محلوں، دیہاتوں، شہری علاقوں کے ترقیاتی کام اور صفائی ستھرائی سے عوام کے معیار زندگی کو بہترکرنا ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں یہ انتخابات بڑی کرسیوں پر اجاراداری کرنے کی بیساکھیاں ہوتی ہیں۔

افسوس تو یہ ہے کہ نام نہاد سیاسی جماعتیں کبھی بھی بلدیاتی انتخابات کروانے اور بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کے حوالے سے سنجیدہ نہیں رہیں۔ لیکن موجودہ حکومت نے تو بچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ایک جانب عوام کو مہنگائی اور سہولیات کے فقدان نے پریشان کر رکھا ہے دوسری جانب بلدیاتی انتخابات اور اداروں کے حوالے سے بھی مایوسی کا سامنا ہے۔

بلدیاتی انتخابات اور بلدیاتی اداروں کو مکمل طور پرسیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دینے سے عوام کے مسائل کسی حد تک کم کیے جا سکتے ہیں لیکن یہ بات سیاسی جماعتیں اچھی طرح جانتی ہیں اس لیے وہ اس پر توجہ نہیں دینا چاہتیں کیونکہ اس میں انکا اپنا مفاد کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات سے راہ فرارحاصل کرنے کا نتیجہ یہ حکومت اگلے الیکشن میں بھگتے گی۔

پاکستان میں بدقسمتی سے بلدیاتی نظام اپنی جڑیں اس طرح مضبوط نہیں کر سکا ہے جس کا عکس دیگر جمہوری معاشروں میں نظر آتا ہے۔ بلدیاتی نظام کے اس عدم استحکام کی وجہ روایتی موروثی سیاستدانوں، خود سر بیورو کرویسی اور معاشرے کے با اثر طبقات کا اتحاد ہے جو کسی بھی صورت اپنے اختیارات سے دستبردار ہو کر یہ اختیارات عوام کے حقیقی نمائندوں کو دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہونا چاہییہے کہ مالک (عوام) ملازم (منتخب نمائندوں) کو نوکری پر رکھنے کے بعد دیھان رکھے کہ جس کام کے لیے ملازم کو مقرر کیا جا رہا ہے وہ بہتر طریقے سے سرانجام دیا جا رہا ہے یا نہیں؟

اگر مالک ہی سوتا رہے گا تو ملازم چوری کرے اسکا قصوروار مالک ہی ہوگا کیونکہ اس نے بروقت اس پر نگاہ نہیں رکھی اور چھوٹی چوری پر اس کی پکڑ نہیں کی اور اس سے سوال نہیں کیا۔ مثال کے طور پر بلدیاتی اداروں کو پنجاب کے بجٹ کا اگر 33 فیصد حصہ دیا جاتا ہے اور ہم سوتے رہتے ہیں تو یقین کریں اس میں سے 10 فیصد بھی ترقیاتی کاموں میں خرچ نہیں ہوگا۔

جمہوری حکومتوں نے ہمیشہ غیر جمہوری رویے ہی اپنائے ہیں۔ پاکستان کے آئین کا جتنا مزاق جمہوری دور میں اڑایا جاتا رہا ہے تاریخ اسکی گواہ ہے۔ اگر ہم آمریت کو الزام دیں کہ جب کوئی آمر ملک پر قابض ہوتا ہے تو آئین کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں تو یہ غلط ہوگا کیونکہ آئین کو دو کوڑی کا کرنے، اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے، عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھنے اور عوام کے مسائل سے نظریں چُرانے میں جمہوری حکومتیں سرِ فہرست ہیں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button