جہلم

جہلم کے نجی ہسپتالوں میں قائم کی گئی بچوں کی نرسریاں نومولود بچوں کے لئے بیماریوں کی آماجگاہ بن گئیں

جہلم: نومولود بچوں کے علاج معالجہ کیلئے نجی ہسپتالوں میں قائم کی گئی بچوں کی نرسریاں نومولود بچوں کے لئے بیماریوں کی آماجگاہ بنتی جارہی ہیں، اضافی اخراجات کی وصولی اور مطلوبہ سہولیات کے فقدان کے ساتھ ساتھ یہ نرسریاں آنیوالوں کیلئے اضافی بوجھ بنی ہوئی ہیں۔

غیرمعیاری انکوبیٹر سمیت دیگر آلات و سامان بھی ڈبلیو ایچ او کے دیئے گئے معیار کے مطابق نہیں جس کی وجہ سے نومولود بچوں میں بھی ہیپاٹائٹس سمیت دیگر متعدی بیماریاں بڑھ رہی ہیں ، ایک ان کوبیٹر میں دو سے تین بچوں کو ٹھونس دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے بیماریاں ایک بچے سے دوسرے بچے میں منتقل ہوجاتی ہیں جبکہ ورثاء سے فی کس کے حساب سے پیسے وصول کئے جاتے ہیں ، نرسریوں میں موجود عملہ کی اکثریت ناتجربہ کار ہے، صفائی، ستھرائی کا بھی کوئی معقول انتظام نہیں۔

ذرائع کے مطابق اس وقت شہر میں نصف درجن کے قریب پرائیویٹ ہسپتالوں میں یہ دھندہ زور و شور سے جاری ہے۔

محکمہ صحت کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ عملاً کم ہی نرسریاں چیک کی جاتی ہیں ِ صرف سٹور چیک کرکے کاغذوں کا پیٹ بھر دیا جاتا ہے، محکمہ صحت کی اس غفلت سے جہاں متعدی بیماریاں بچوں میں بڑھ رہی ہیں وہیں سادہ لوح شہریوں سے لوٹ مار کا سلسلہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button