پنڈدادنخاناہم خبریں

تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال پنڈدادنخان ہسپتال کم اور پوسٹ آفس زیادہ لگنے لگا۔ رپورٹ

کھیو ڑہ: تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال پنڈدادنخان ہسپتال کم اور پوسٹ آفس زیادہ لگتاہے کسی بھی حادثہ کی صور ت میں ایمرجنسی مریضوں کو فرسٹ ایڈ کے نام پر چیک کر کےسینکڑوں کلو میٹر دور کے شہروں میں ریفر کر دیا جاتا ہے جبکہ او پی ڈی میں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑو ں کے قریب مریضوں کے لیے ایک جنرل ڈاکٹر دستیاب ہوتا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈینٹل سرجن کی آسامی پر بھاری تنخواہ وصول کرنے والا ڈاکٹر تو ہے تاہم اس کی مشینری دو سال سے ناکارہ بتائی جارہی تھی جوکہ چند روز قبل مرمت کروا لی گئی ہے۔ دو منٹ کے چیک اپ کے لیے مریضوں کو کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ ادوایات کی قلت ایک الگ سنگین مسئلہ ہے ۔

گزشتہ سال کے آخر میں پنڈدادنخان ہسپتال سے سینئر ڈاکٹرز کا تباد لہ اس تحصیل کی عوام پر ظلم ہے حکومت پنجاب کے سستے سرکاری علاج کی مد میں خرچ ہونے والے اربوں روپے اس وقت تک کارآمد نہیں ہوسکتے جب تک ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور اہل انتظامی عملہ دستیاب نہ ہو۔

ذرائع کے مطابق تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال میں کم از کم تیس ڈاکٹرز کی اشد ضرورت ہے اور ان میں سپیشلسٹ ڈا کٹر بھی ہونے چائیں۔ٹی ایچ کیو ہسپتال تحصیل کی سب سے بڑی علاج گاہ ہے جس سے پوری تحصیل مستفید ہونی چاہیے ،اربوں روپے مالیت کی وسیع و عریض پرشکوہ عمارت جس کی تزین وآرائش کے لیے خرچ ہونے والے سرکاری خزانے کے کروڑوں روپے اور بھاری ماہانہ اخراجات جو کہ حکومت برداشت کر رہی ہے اس وقت تک بے کار ہیں جب تک ہسپتال کی بنیادی ضرروت ڈاکٹرز ہی موجود نا ہوں، اس وقت ہسپتال میں سینئرز ڈاکٹرز کی شدید قلت ہے روزانہ کی بنا پر سینکڑ وں مریضوں کے چیک اپ کے لیے ایک جنرل ڈاکٹر مو جود ہے۔

صبح او پی ڈی مریضوں کو دو منٹ کے چیک اپ کے لیے کئی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے انتظامی امور کی نالائقی کی وجہ سے ڈاکٹرز کے کمروں کے باہر بے ہنگم رش بنا رہتا ہے ڈاکٹرز کی کمی کے سبب ہی سے حادثات کی صورت میں معمولی پٹی کے بعد مریضوں کو دور دراز کے شہروں میں بھیج دیا جا نا معمول بنا ہوا ہے ۔

حا ل ہی میں تحصیل پنڈدادنخان ہسپتال میں نئے تعینات ہو نے والے ایم ایس ڈاکٹر جمالی کا منفر د اقدام سول ہسپتال کا راجہ ہو ٹل کی طرف کھلنے والا گیٹ بیریر لگا وا کر بند کروا دیا گیا جس کی وجہ سے تحصیل بھر کے عوام کو شد ید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ لو گ مریضوں کو موٹر سا ئیکلو ں پر بھی لے کر آتے ہیں ۔

گزشتہ دنوں ایک واقع تحصیل پنڈدادنخان کے نواحی علا قہ لِلہ میں رورل ہیلتھ سینٹر میں پیش آیا جو کہ ڈ یلیوری کیس کی مریضہ کو رشو ت نہ دینے پر رات دو بجے شدید سردی اور دھند میںلیڈی ہیلتھ ورکر نے جواب دے دیا کہ مریضہ کو سرگودھا ہسپتال میں لے جائیں جبکہ مریضہ نے جوہر آباد کے ہسپتال میں نارمل کیس کے بعد بچہ کو جنم دیا لیڈی ہیلتھ ورکر اور رورل ہیلتھ سینٹر انتظامیہ کی اندھیر نگری پر ابھی تک خاموشی کیو ں ہے ؟۔

متا ثرہ خاندان کے شخص محمد وقار اشرف نے یہ انکشاف کیا کہ رورل ہیلتھ سینٹر لِلہ میں ایل ایچ وی سٹاف نے اندھیری نگری مچائی ہوئی ہے ان کے نزدیک انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔رشوت نہ دینے کی وجہ سے ڈلیوری کے سلسلہ میں دو دن سے داخل میری بیوی کو رات دو بجے شدید سردی اور دھند میں سرگودھا ریفر کر دیا جبکہ دھند کی وجہ سے رات کو موٹر وے بند تھی۔

آر ایچ سی میں ایمبولینس بھی موجود نہیں ہے کیونکہ تمام ایمبولنس کی سہولت تحصیل سے واپس لیکر 1122کی ڈیوٹی لگا دی گئی ہے اورلِلہ تحصیل ہیڈ کواٹر سے کم از کم 25 کلو میٹر دور ہے۔ اور لِلہ میں لیڈی ڈاکٹر کی سہولت صرف صبح آ ٹھ سے لیکر دو بجے تک میسر ہے۔زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا مریضہ کو اس کے خاندان والے لیکر جوہر آباد چلے گئے جہاں مریضہ نے نارمل کیس میں بچے کو جنم دیا۔

تقریبا ساڑھے چھ لاکھ پر مشتمل آبادی والی تحصیل پنڈدادنخان تقریبا تین رورل ہیلتھ سینٹر ہیں رورل ہیلتھ سینٹروں میں ڈاکٹروں کی کمی کے ساتھ ساتھ عملہ کی طرف سے ادویات کی کمی کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے تحصیل پنڈدادنخان کے غریب عوام گورنمنٹ آف پنجاب کی طرف سے دیںگئیں سستے اعلاج معالجہ جیسی بنیادی سہولیا ت سے محروم ہیں ۔

آبادی کے لحاظ ضلع جہلم کے دوسر ے بڑے شہر کھیو ڑہ کے سول ہسپتا ل میں ماہانہ ہزاروں مر یضوں کا چیک اپ کیا جاتا ہے جہاں پر تعینات ڈاکٹر و عملہ محنت اور دل جوئی سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں لیکن یہاں پر ادویات کی مکمل فراہمی یقینی نہیں کیونکہ اس سے پہلے شہر دو یونین کونسل پر مشتمل تھا لیکن دوائیوں کا بجٹ ایک یونین کونسل کا دیا جاتا ہے جو کہ ذمہ داران کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور کھیوڑہ کے عوام کے ساتھ ناانصافی بھی ۔

عوامی سماجی حلقوں نے وزیر صحت، سیکریٹری ہیلتھ،سمیت ڈی سی او جہلم سے پر زور اپیل کی ہے کہ ہسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی کو فوری پورا کیا جائے ۔تحصیل پنڈدادنخان کے اکلوتے سول ہسپتال میں تزین و آرائش پر تو بھرپور زور لگایا جا رہا ہے لیکن ہسپتال سینئر ڈاکٹروں سے خالی ہوتا جا رہا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button