پڑی درویزہ

ہزاروں طالب علم ترقی یافتہ ممالک میں پڑھ کر پاکستان واپس نہیں آتے۔ نعیم خان

پڑی درویزہ: ہر سال ہزاروں ذہین و فطین طلباء و طالبات ترقی یافتہ ممالک میں میڈیکل کے شعبہ میں تحقیق کرنے جاتے ہیں لیکن تعلیم کی تکمیل کے بعد واپس نہیں آتے جو پاکستان کا بڑا نقصان ہے ۔ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت اور ایسے طلباء و طالبات کے انتخاب کے وقت خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے تا کہ یہ ذہین و فطین افراد متعلقہ شعبوں میں تعلیم مکمل کرنے بعد پاکستان آکر یہاں وطن عزیز کی خدمت کریں ۔

ان خیالات کا اظہار کینیڈا (اوٹاو ا ) چانسلری کے موجودہ سربراہ نعیم خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ۔

انہوں نے کہا کہ ہر سال کئی پاکستانی ذہین و فطین طلباء و طالبات میڈیکل کے شعبہ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک ترقی یافتہ ممالک میں حکومت کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں لیکن بد قسمتی سے یہ طلباء و طالبات اپنی اعلیٰ تعلیمات مکمل کرنے کے بعد وطن عزیز پاکستان کی طرف رجوع نہیں کرتے بلکہ دیگر ممالک میں رہائش پذیر ہوجاتے ہیں ۔

نعیم خان نے بتایا کہ مثا ل کے طور پر2005ء میں جب پاکستان میں شدید زلزلہ آیا تھا تو اس وقت امداد کے طور پر کیوبا کی حکومت نے 908ذہین و فطین طلباء و طالبات تین مختلف گروہوں میں میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم کے لیے بلائے تھے ۔ اُس وقت کیوبا میں دنیا کے دیگر ممالک سے بھی وہاں طلباء و طالبات میڈیکل شکالر شپ کے طور پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔

یاد رہے کہ اس وقت نعیم خان کیوبا میں پاکستانی سفیر کے فرائض انجام دے رہے تھے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستانی طلباء و طالبات دیگر ممالک کے سکالرز سے زیادہ ذہین ہونے کے سبب گولڈ میڈل تک لینے میں کامیاب ہوئے لیکن سب کے سب کیوبا سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک میں چلے گئے اور پاکستان واپس آنا گوارا نہ کیا ۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایک ڈاکٹر پر پاکستان اور دوسرے ملک کے سالانہ بنیادوں پر 50سے60لاکھ روپے تک صرف ہوجاتے ہیں ۔ نعیم خان نے حکومت پاکستان کو اس سلسلے میں رائے دی ہے کہ جب بھی کسی بھی شعبہ میں غیر ملکی سکالر شپ کا انتخاب کیا جائے تو منتخب طلباء و طالبات پر پابندی عائد کی جائے کہ ماہرین بن کر پاکستان لازمی طور پر واپس آئیں اور یہاں وطن عزیز کے محنت کش عوام کی خدمت کریں ۔ اس طرح ملک کا بہت سا نقصان ہونے والا زر مبادہ بچ سکتا ہے اور عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button