کسی بھی قانون میں اگر کوئی بہتری دیکھیں تو اس کی بنیا د نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ ہو گی، امیر عبدالقدیر اعوان

0

دینہ: دین اسلام نے وہ اصول بتائے اور زندگی گزارنے کا وہ اسلوب عطا فرمایا کہ آج بھی کسی قاعدے ،ضابطے میں تبدیلی کی ضرورت نہیں،اتنا خوبصورت قانون تشکیل دیا کہ جوبھی اس پر عمل کرے چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اسے بھی دنیاوی فائدہ ہو گا۔

ان خیالات کا اظہار چالیس روزہ سالانہ تربیتی اجتماع کے اختتام کے موقع پر امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے دارلعرفان منارہ جو کہ مرکز ہے تمام سالکین ِ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کا ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ آج اگر دنیا کے سارے دانشور بھی مل کر کوئی قانون بنائیں تو چند سالوں بعد اس میں پھر تبدیلی کی ضرورت پڑتی ہے آپ کسی بھی قانون میں اگر کوئی بہتری دیکھیں گے تو اس کی بنیا د آپ ﷺ کی ذات ِ مبارکہ ہو گی ،اُمت مسلمہ میں اتحاد و اتفاق کا سبب آپ ﷺ کے ارشادات ہیں ،جہاں بھی کسی کو کوئی اختلاف ہو تو وہ آپ ﷺ کے ارشاد سے راہنمائی لے گا تو کوئی تضاد جو اس میں ہو گا وہ نہ رہے گا۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس وقت ضرور اس امر کی ہے کہ ہم اگر اپنے آپ کو ان کٹھن میں مطمئن اور سکون میں رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں دین اسلام کو اپنانا ہو گا اس کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا اپنا ہر عمل دین اسلام کے مطابق گزارنا ہو گا ،جیسے نمرود کی آگ میں ابراھیم ؑ کو راحت ملی بلکل اسی طرح بندہ مومن کو بھی اس ساری سختی میں سکون میسر ہو گا ،اگر ایسانہ کیا تو پھر ہر چوکھٹ پر سجدہ ریز ہونا پڑے گا ہر ایک کے آگے کاسئہ گدائی پھیلانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت وقت بھی اگر دین اسلام کے اصولوں کو عملی طورپر نافذ کرے گی تو اسے دنیا میں عزت و وقار بھی ملے گا اور معاشی طورپر بھی مستحکم ہونگے اپنی عقل و دانش کو ایک طرف رکھ کر اپنے آپ کو اسلام کے سپر د کردیں اور پھر دیکھیں کہ اس کے ثمرات ہم تک کیسے پہنچتے ہیں۔

یاد رہے کہ سالانہ اجتماع پوری دنیا کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 29 جون سے جاری تھا جس میں پوری دنیا اور اندرون ملک سے سالکین نے شرکت کی ،گزشتہ روز آخری روز تھا اور اس موقع پر اختتام خطاب شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ امیر عبدالقدیر اعوان نے کیا اور اجتماعی دعا فرمائی کہ اللہ کریم اس ملک کو تاحیات سلامت رکھے جو بے انتہا قربانیوں کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا اللہ کریم اس کو دشمنوں سے پاک فرمائے اور اس کے خلاف اُٹھنے والی ہر آنکھ ہر ہاتھ کو تباہ کر دے ہمیں وہ ہمت عطا فرمائے کہ ہم ایک جان ہو کر اس کا دفاع کر سکیں۔

انہوں نے شہدائے فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی ترقی درجا ت کے لیے خصوصی دعا فرمائی مزید یہ کہ ہمارے کردار میں وہ تبدیلی عطا فرمائے جو حالات کا دھارا بدل کر رکھ دے ہم آج حج عمرے بھی کر رہے ہیں لیکن معاشرے میں تبدیلی نہیں آرہی کیوں نہیں آرہی اس لیے کہ ہماری بنیاد درست نہ ہے اور وہ بنیا د ہے خالص نیت اللہ ہماری نیتوں کو درست فرمائیں،گرمی کی شدت اور حبس کے باوجود ہزاروں لوگ بڑے انہماک کے ساتھ آپ کے ارشادات سے مستفید ہوتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ قربانی کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ہم جانور قربان کرتے ہیں یہاں سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں چھری ان خواہشات پر بھی چلانی ہے جو دین اسلام سے باہر ہیں عملی قربانی دینے کی ضرورت ہے وطن عزیز دوسری ریاست ہے دنیا میں جو اسلام کے نام پر بنی ہے پہلی ریا ست مدینہ منورہ اور دوسری مملکت پاکستان ،جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا ہمیں عملی طور پر ثابت کرناہو گا کہ ریاست مدینہ ایسی ہوتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ صبح سے شام تک ہر عمل کو پرکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں میرے اللہ کریم سے ناراضگی کا سبب تو نہیں بن رہا یہ وہ ڈر ہے جو تقوی کہلاتا ہے اگر ہم زندگی اس طرح پرکھ کر گزاریں گے تو پھر امید ہے کہ اللہ کریم ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائیں گے ،اس موقع پر مختلف ذمہ داران کو اعزازی شیلڈ سے بھی نوازا گیا جن کی کارکردگی گزشتہ سال بہتر رہی ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.