امن اور مذہبی ہم آہنگی

تحریر: سندس سیدہ

0

قائداعظم محمد علی جناح کے نظریے پر عمل کرنے کے لیے بے شمار کوششیں ہو چکی ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ مذہبی عدم تشدد پاکستان کا نظریہ یا تصور بالکل بھی نہیں تھا جیسا کہ ہم آج دیکھ اور سمجھ رہے ہیں۔

جناح ایسا پاکستان چاہتے تھے جہاں امن و امان اور مذہبی رواداری ہو، جہاں سب اپنے اپنے خدا کی عبادت کرنے کے لیے آزاد ہوں،جہاں وہ اپنی عبادت گاہیں قائم کر سکیں اور جہاں لوگ ایک دوسرے کی اس مذہبی تفریق کو براداشت کریں۔وہ پاکستان کو ایک ایسا جامع مقام بنانا چاہتے تھے جہاں مختلف ذات پات، عقائد اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے امن و امان اور مذھبی ہم آہنگی سے زندگی گزار سکیں لیکن آج سب کچھ اس کے برعکس چل رہا ہے۔

ہمارے نظریات تصورات اور خیالات صرف علم کے نتیجے میں بنتے یا بگڑتے ہیں، نفسیات کے ماہر کہتے ہیں کہ معلومات اور رویے گھر اور معاشرے سے سیکھے جاتے ہیں بعد از جس کے اہم سماجی اثرات ہم پر ہو سکتے ہیں۔

تعلیم اکثریت کی سماجی رائے کو تبدیل کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔کسی بالغ کے خیالات کو تبدیل کرنا نسبتاً مشکل کام ہے، جبکہ بچے، نوعمر نوجوان کوئی بھی نئی بات سیکھنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں اور ان کی رائے بنانا یا بگاڑنا نہایت آسان کام ہے۔

پاکستان کے نوجوان ہی پاکستان کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔ انتہا پسند نظریات کے حامی افراد اور تنظیمیں ان ہی نوجوانوں کو اپنا آسان حدف بناتی ہیں تا کہ وہ آسانی سے اپنے سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور معاشرتی تصورات ان تک پہنچا کر ان کی رائے اپنے حساب سے تبدیل کر سکیں اور انہیں بر وقت اپنے لیے استعمال کر سکیں۔

نوجوانوں کو اس معاشرے کے بارے میں آگاہ کرنا اور ان کی معلومات میں اضافہ کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اس متنوع معاشرے سے آگاہ ہو سکیں۔حکومت کی جانب سے نوجوانوں کو ایسے پلیٹ فارم اور مواقعے مہیا کیے جانے چاہیں جس سے وہ دوسرے مذاہب کے عقائد کے بارے میں جان سکیں اور ان میں یہ احساس پیدا ہو کہ کسی دوسرے کی مذہبی رسومات بھی اتنی ہی محترم ہیں جتنی ہمارے مذہب کی۔

یہ حقیقت ہے کہ ہم نے مشترکہ اقدار اور انسانیت کے دروس پر توجہ مرکوز رکھنے کے بجائے ہمیشہ معمولی اختلافات کو بڑھایا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مشترکہ اقدار اور انسانیت کے دروس پر توجہ دی جائے۔ ریاست کی جانب سے نوجوانوں کو اس بات سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح وہ دوسروں کی رائے او ر مختلف روحانی اصولوں کا احترام کریں۔

بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے لیے مضبوط انسدادی عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے تعلیمی نصاب اور درس و تدریس کے طریقوں پر بین المذاہب ہم آہنگی سمیت معاشرتی اقدار کی روشنی میں نظر ثانی کرنے کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے اور نفرت، تنازعات اور تقسیم کے سیاسی نظریات کو فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

سب سے اہم بات یہ کہ مذہبی رہنما جو کہ مختلف نظریات سے تعلق رکھتے ہوں ان کو امن، محبت اور رواداری کی اقدار کی تبلیغ دینے کی جانب راغب کیا جائے۔ فی الحال پاکستان میں بہت کم ایسے ادارے ہیں جو ہم آہنگی کے عنوانات پر کام کر رہے ہیں۔

محض چند غیر سرکاری اداروں کی انسدادِ انتہا پسندی اور امن کی راہ میں کی جانے والی کوششیں کافی نہیں ہیں، بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز جن میں ماہرینِ تعلیم، نفسیات دان، سماجی و سرکاری ادارے اور پالیسی ساز ہوں ان کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

نوجوانوں کو مختلف نوعیت کے نقاط کی آگاہی ہونی چاہئے تا کہ وہ پُر امن پاکستان کے لیے کچھ کر سکیں۔ فی زمانہ ہم مزید انتہا پسندی کے واقعات برداشت نہیں کر سکتے چاہے انکا تعلق لسانی، مذہبی، سیاسی مسلکی یا کسی بھی چیز سے جوڑا جائے۔

ان سب سے ہٹ کر ایک اور جانب بھی توجہ مرکوز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور وہ ہے سیاسی وجوہات کی بنا پر کسی بھی علاقے میں شورش کا پیدا کرنا جس کا یکسر تعلق مذہب سے نہ بھی ہو مگر سیاسی چال باز افراد مذھب کو اہنے لیے کس طرح استعمال کرتے ہیں یہ عموماً ہمارے ہاں دیکھنے میں آتا ہے۔

ہم پچھلے پندرہ بیس سال سے لاتعداد ایسے واقعات دیکھتے آئے ہیں جن میں خالصتاً ذاتی عناد یا پھر سیاسی محرکات کا عمل دخل پس پردہ کافی حد تک شامل رہتا ھے اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے سماجی طور پر ریاست کو خود سے کام کرنا ہوگا۔

مگر ایک اہم بات وہ یہ بھی ہے کہ ہمارا سماج کافی حد تک اعتدال پسندی کی جانب رواں دواں ہے بنسبت ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی طرح جہاں آئے روز بڑے پیمانے پر مذھب اور سیاست کو لیکر جینوسائڈ ہوتے ہیں۔

ہم اس حوالے سے تو بہرحال خوش قسمت ہیں کہ ہمارے ہاں ریاست کے فیصلے مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں نہیں نہ ہی کبھی کوئی انتہا پسند لیڈر وزیراعظم کے عہدے تک پہنچا ہے اسکی وجہ عوام میں کچھ حد تک شعور کا ہونا ہے مگر ہمیں مزید پر کام کرنا ہوگا۔

پڑوسی ملک میں اب فضا کافی خطرناک ہوچکی ہے وہاں اعتدال پسند اداکار آرٹسٹ مسیحی ڈاکٹرز سمیت کئی لوگ بیرون ممالک جا بسے ہیں اور جو آج تک رکے ہوئے ہیں انکی حالت ایسی ہے کہ جیسے ان پر خطرے کی تلوار ہر وقت لٹکی رہتی ہو اور اس حساب سے ہمارے ہاں ایسے حالات بالکل نہیں اور نہ ہی ہم اکا دکا واقعات کو لیکر اپنے ہاں عروج پانے والی اعتدال پسندی پر حروف سازی کریں۔۔
مگر بہرحال کام کرنے کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.