جہلم

چائلڈ لیبر کے خاتمے کے حوالے سے حکومتی منصوبے ناکام، بچے بدستور مشقت بھری زندگیاں گزارنے پر مجبور

جہلم: ضلع بھر میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے حوالے سے حکومتی منصوبے ناکام ، ضلعی افسران کی طرف سے بنائی گئیں، کمیٹیاں کاغذی کارروائیوں تک محدود ، شہریوں کا ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق ضلع بھر میں ننھے اور کم عمر بچے بدستور مشقت بھری زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں، ہوٹلوں ورکشاپوں، منی فیکٹریوں، کارخانوں، کباڑخانوں،گھروں اور دیگر شعبہ جات میں کام کرنے والے یہ بچے زندگی کی تمام آسائشوں سے ناآشناہیں۔

والدین کی مجبوریوں اور مناسب آمدنی نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے کی بجائے یہ ننھے ہاتھ رزق کی تلاش میں اپنی تمام خوشیاں بھول چکے ہیں اور کم عمرمعصوم بچوں کی مشقت کا منظر شہر کی ہر سڑک پر قائم ہوٹل، ورکشاپ، تجارتی مراکز اور عوامی مقامات پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت میلوں، ٹھیلوں سیاسی انعام و اکرام من پسند افرد کو لاکھوں روپے حکومت ناخواندگی ختم کرنے کے بلند و بانگ دعوے تو کررہی ہے لیکن اس کے برعکس شہر و مضافاتی علاقوں میں سینکڑوں معصوم بچے محنت مزدوری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

شہر کی سماجی، فلاحی، رفاعی، تنظیموں کے عمائدین نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ ان چھوٹے بچوں کی پرورش کے لئے خصوصی ادارے قائم کئے جائیں جہاں بچوں کو تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ہنر مند بنایا جائے تاکہ آنے والے کل کو یہ معصوم بچے وطن عزیز کا نام روشن کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button