کالم و مضامین

کب تک اُلّو بنو گے؟

تحریر: محمد امجد بٹ

بات پرانے زمانے کی ہے مگر ہم نئے زمانے میں سنانے پر مجبور ہیں میرے احباب کو گلہ ہے کہ میں اپنی تحریروں میں جانوروں کے حوالہ جات کچھ زیادہ ہی دیتا ہوں لیکن بات اپنی اپنی سو چ کی ہے میں اشرف المخلوقات کو جانوروں کے حوالے دے کر کیا کچھ سمجھا پاوں گا ہم تو پرورش لوح قلم کرتے رہیں گے ۔

چلیں آج چوپایوں کی بجائے پرندوں کی بات کرتے ہیں اور پرندہ بھی ایساجس نے نے چاہتے ہوئے بھی الو لکھنا اور پکارنا پڑتا ہے کیونکہ الو ، الو ہی ہوتا ہے خواہ وہ پرانے زمانے کا ہویا نئے زمانے کا ، ایک کہانی سناتا ہوں غور کرنا آپ کا کام ہے ایک بے ستارہ شب کو الو کسی شاخ پر گم سم بیٹھاتھا اتنے میں دو خرگو ش ادھر سے گزرے انکی کوشش تھی کہ وہ اس درخت کے پاس سے چپ چاپ گزر جائیں وہ جونہی آگے بڑھے الو بولا ذرا ٹھہرو،اس نے دیکھ لیا تھا کون ؟ خوگوش مصنوعی حیرت سے چونکتے ہوئے بولے کیونکہ ان کو یقین نہیں تھا کہ اتنی تاریکی میں کوئی ان کو دیکھ رہا ہے ۔

خرگوش ۔۔بھائیو،،،، ذرا بات سنو
الو نے انہیں پھر کہا ،،،لیکن خرگوش تیزی سے بھاگ نکلے اور دوسرے پرندوں اور جانوروں کو خبر دی کہ الو صاحب سب سے بڑے مدبر اور دانا ہیں کیونکہ وہ اندھیرے میں بھی دیکھ سکتا ہے لومڑی نے کہا کہ کہ ذرا مجھے اس بات کی تصدیق کر نے دواگلی شب وہ اسی درخت کے پاس پہنچی اور الو سے مخاطب ہو کر کہنے لگی، بتاؤ میں نے اس وقت کتنے بچے اٹھا رکھے ہیں الو نے فورا کہا دو اور جواب درست تھا ۔

اچھا بتاؤ یعنی کا مطلب کیا ہو تا ہے لومڑی نے پوچھا، الو نے کہا یعنی کا مطلب مثال دینا ہوتا ہے۔ لومڑی بھاگتی ہوئی واپس آئی اس نے جانوروں اور پرندوں کو اکٹھا کرکے گواہی دی کہ الو ہی سب سے بڑا دانا اور مدبر ہے وہ اندھیر ے میں دیکھ سکتا ہے اور پیچیدہ سوالوں کے جواب دے سکتا ہے۔ ایک بوڑھے بگلے نے پوچھا کیا وہ دن کے وقت بھی دیکھ سکتا ہے

یہی سوال جنگلی بلے نے کیا سب جانور چیخ اٹھے کہ یہ سوال احمقانہ ہے جورات کو گہرے تاریکی میں دیکھ سکتا ہے وہ دن میں تو ضرور دیکھتا ہو گاپھر زور زور سے قہقہے لگانے لگے جنگلی بلے اور بوڑھے بگلے کو احمقانہ سوچ پر جنگل سے نکال دیا گیا اور متفقہ طور پر الو کو پیغام دیا گیا کہ وہ انکا سربراہ اور رہنما بن جائے ان دنوں الو ٹھنڈے موسم سے لطف اندوز ہو رہا تھا کیونکہ وہی سب سے دانا اور مدبر ہے اور اسی کو انکی رہبری اور راہنمائی کا حق ہے۔

الو نے درخواست قبول کر لی جب وہ پرندوں او ر جانوروں کے پاس پہنچا ، دوپہر تپ رہی تھی سورج کے تیور بدل چکے تھے دھوپ پھیل چکی تھی اور الو کو کچھ بھی دکھائی نہ دے رہا تھا وہ پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہا تھا جس سے اسکی چال بدل گئی اور شخصیت میں رعب اور وقار پیدا ہو گیا جو بڑی شخصیتوں کا خاصہ ہوتا ہے وہ اپنی گول گول آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا سب جانور اور پرندے اس کے انداز سے متاثر ہو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ ہمارا رہنما ہی نہیں دیوتا ہے دیوتا، دیوتا۔

ایک موٹی مرغابی نے زور سے کہا دوسرے پرندوں او ر جانوروں نے بھی اس کی تقلید کی او رراہنما، دیوتا، رہنما اور دیوتا کے نعرے لگانے لگے اب الو ان سب کے آگے اور وہ سب اندھا دھند اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے الو کو روشنی میں نظر تو آتا نہ تھا اس لئے وہ چلتے چلتے درختوں اور پتھروں سے ٹکراتا رہا اور اس کے پیرو کار بھی یوں ہی ٹکریں کھاتے رہے۔

آخر کار وہ جی ٹی روڈ پر جا نکلے جہاں الو نظر نہ آنے کی وجہ سے روڈ کے درمیان چلنے لگا اور پیروکار چرند پرند بھی اس کی پیروی میں روڈ کے درمیاں چلنے لگے قافلے کی نگرانی پر مامور عقاب نے الو کی مشیر لومڑی کو بتایا کہ ایک بڑا ٹرک ان کی طرف بڑھ رہا ہے لومٹری نے کہا دیوتا آگے خطرہ ہے الو نے کہا کیسا خطرہ ہم کسی خطرے سے خوف نہیں کھاتے۔

لومڑی نے عقاب کو کہا کہ ہمار ا رہنما نہ صرف دانا اور مدبر ہے بلکہ بہادر بھی ہے اور سب جانوروں نے اس کی ہاں میں ہاں ملا کر نعرے بلند کئے ٹرک بہت قریب آگیا لیکن الو کو نظر نہ آیا اور الو بے خبری میں چلتا رہا اچانک ٹرک الو کو پوری رفتار سے کچلتا ہو ا گزر گیا عٖظیم ، دانا ، مدبر رہنما اور اس کے پٹھوں کا بھی ’’ نہ رہا بانس نہ بجی بانسری‘‘

پیارے پڑھنے والو!
اندھی تقلید ذہانت کے دروازے بندکر دیتی ہے اور اندھی تقلید ہمیشہ گمراہ کن ہوتی ہے چاہے وہ کسی ملا، پنڈت،پادری کی ہو،چاہے کسی سیاسی لیڈر یا ڈکٹیٹرکی،کسی دانشور کی یا معاشی یا معاشرتی نظام کی۔رہنما سازی میں عقیدت کے ساتھ ساتھ عقل و شعور کا استعمال بھی ضروری ہے۔

شاید ہم بھی اندھی عقیدت رکھنے والے لوگ ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ہر ایک کی اندھی تقلید کی جاتی ہے کوئی سیاستدانوں کا پیرو کار ہے تووہ آنکھ بند کر کے اپنے لیڈر کی پیروی کرے گاجو اسکا لیڈر کہہ رہا ہے وہی ٹھیک ہے چاہے وہ کچھ بھی کہہ رہا ہوہم نہ اسے جاننے اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیںبس وہ جو کہہ رہا ہے وہی اٹل ہے۔

کھوج اور سنجھ کی دوری کی وجہ سے ہم تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں اور اسکی وجہ ہماری بے خبری اور اندھی عقیدت ہے۔ ہم ایک جذباتی اور فوری رد عمل دینے والی قوم ہیں، ہم سوچتے سمجھتے مہیںکہ ہم کیا کر رہے ہیں اور انہی جذبات میں ہم نے بہت سے نقصانات اٹھاتے آئے ہیں ۔ضرورت ہے سمجھنے کی پرکھنے کی کہ آخر کب تک اُلو ہمارے رہنما بنتے رہیں گے یا ہم اُلو بنتے رہیں گے؟

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button