سوشل میڈیا کی تباہ کاریاں

تحریر: عمیر احمد راجہ

1

سیاہ رات کی تاریکی ختم ہونے کو نہ تھی ایک واقعہ ذہن سے نکلنے کو تیار ہی نہ تھا بہت دیر سے سونے کی کوشش بھی کرتا لیکن جوں ہی آنکھ بند کرتا تو اندر سے جیسے کوئی جھنجھوڑتا اور پھر آنکھ کھل جاتی بستر پر کروٹیں بدل بدل کر سونے کے جتن کئے جا رہا تھا جسکا کوئی فائدہ نہیں ہو پا رہا تھا پھر دل میں خیال آیا اور عرصہ دراز سے زنگ آلود قلم کا سہارا لینا ہی پڑا۔

اس کی وجہ شاہد ہی کوئی سمجھ سکے اور میرا فرض پورا ہو جائے کسی کو سمجھانے کی بجائے میرے ساتھ سوئے مستقبل کے سپوت تھے اپنی اولاد کی فکر ہر والدین کو ہوتی ہے جن کے لئے نہ وہ رات دیکھتے ہیں نہ دن جن کے لئے وہ اپنا من دھن اپنا سکون و آسائشیں ایک کونے میں دبا کر انکی بہتری کے لئے سب کچھ قربان کر دیتے ہیں یہی سوچ کر اس واقعہ کو قلم بند کرنے کی ٹھان لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سمیت سب پڑھنے والے کسی نہ کسی دور میں سکول کالج و یونیورسٹی کے طالب علم رہ چکے ہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارا زمانہ طالب علمی بہت سنہری دور تھا لیکن اتنا ضرور تھا اس وقت سماجی رابطہ بہت ہی مشکل تھا جس کو ہم آج کل کے دور میں سوشل میڈیا کا نام دیتے ہیں۔

گزشتہ روز ایک وڈیو وائرل ھوئی جس میں ایک طالبعلم جی ٹی روڈ پر بس روک کر اس کے سامنے پش اپ لگا رہا تھا مذکورہ ویڈیو جوکہ کمسن طالب علم نے ناجانے کیا سوچ سمجھ کر بنائی تھی یا کیوں بنائی تھی یا کس کے کہنے پر بنائی تھی اس سے قطع نظر۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس معاشرے کا، معاشرتی اقدار کا، اخلاقی قدروں کا، حقوق و فرائض اور ذمہ داری کا جنازہ نکالنے کے لئے کافی تھی۔

وائرل ہونے والی ویڈیو پر والدین اور اساتذہ کی تربیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، بحیثیت والد میں کوئی صفائی دے کر اساتذہ کو بری الذمہ قرار نہیں دے رہا وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں یہ نہ ممکن سی بات ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی ہجوم کی مانند افراد کا ایسا گروہ ہیں جسکو نہ اپنی منزل کا علم ہے اور نہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کا احساس ہم تو لکیر کے فقیر بھی نہیں ہم نصیحت دوسروں کو کرتے ہیں پر خود اس پر عمل پیرا ہونے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ہم تیز رفتار دنیا سے پیچھے نہ رہ جائیں۔

اس قوم کو سوشل میڈیا کھا گیا ہے چھوٹے بڑے سے لے کر ہر عمر کے لوگ اسکے سحر میں گرفتار ہوچکے ہیں والدین دیکھو تو ان کی نظریں واٹس ایپ، فیس بک،ٹویٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر بچے پر نظر ڈالو تو کارٹون گیمز وغیرہ وغیرہ اگر طلب علموں دیکھنا ہو تو زیر نظر تحریر کا محور ہی کہوں گا سوشل میڈیا کا بخار ان نہ سمجھوں پر کیوں نہیں ہو۔

جب ہمارے رہبر سیاستدانوں سے لے کر مولویوں تک جنہوں نے اس معاشرے کو سدہارنے میں اپنا کردار ادا کرنا تھا وہ بھی اس سوشل میڈیا پر اپنا چورن فروخت کریں منصف ٹی وی دیکھ کر سوموٹو لیں ریٹنگ کی دوڑ میں بیٹھا میڈیا لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے لگے قانون نافذ کرنے والے خود قانون توڑ دیں تو پستی مقدر بن جاتی ہے۔

افسوس جن کی یہ ایجاد ہے وہ آج کہاں پہنچ چکے ہیں اور ہم آج بھی روڈوں پر پش اپ لگا کر یہ فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہماری ویڈیو کتنی وائرل ہوگئی۔ مہذب معاشرے کا یہ ناسور ادھر سے نکل کر ہماری جڑوں میں رچ بس چکا ہے جسکا انجام نہ جانے کیا ہوگیا ؟؟؟؟؟؟؟؟ بس خدا سے ایک ہی دعا ہے کہ اس ہجوم نما افراد کو قوم بنا دے تاکہ قسمت کے مارے اپنی آنے والی نسلوں کو تو کم از کم سنوار سکیں۔

  1. ملک عبدالرازق اعوان کہتے ہیں

    عمدہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.