بے حس معاشرہ اور صحافی

تحریر: زرمینہ شکیل راجہ

0

کہیں رحمدلی اخوت و ایثار کی مثال کہیں انسانیت کے آخری پیمانے تک سے گرے ہم عوام کہیں بے حس کہیں ظالم اور کہیں وقت کے فرعون بنے ہم عوام معاشرے میں ہوتے مظالم اور انسانیت سوز واقعات کا رونا روتے ہم عوام اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ معاشرہ ہم سے ہی بنتا ہے لیکن مفاد کو ایمان بنائے خود غرضی میں ڈوبے عوام کو بھلا کیا پرواہ دوسروں پر ہونے والے مظالم کی، بس ان کا مفاد پورا ہو دوسرا کوئی چاہے جان سے ہی کیوں نہ چلا جائے ان کو کیا پرواہ!

گزشتہ ہفتے سراے عالمگیر میں ہونے والا انسانیت سوز واقعہ شاید آپ کی نظروں سے گزرا ہو گا ایک معروف صحافی مرزا وسیم جو کہ اپنے عوام کی جنگ لڑنے میں مصروف تھے معاشرے میں ہوتے مظالم پر عوام کی خاطر الم بغاوت بلند کیا اور اپنے قلم سے امراء کا ضمیر جھنجھوڑنے کی کوشش اس لئے نہیں کہ ان کا کوئی، ذاتی مفاد تھا اس لیے کہ عوام مدد کے لئے ان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے اپنے عوام کی امید کی لاج رکھی اور سر پر کفن باندھ کر عوام کے حقوق کی جنگ لڑنے لگے پر شاید کچھ طاقتور عناصر کو انکا یہ اقدام اچھا نہ لگا اور ہمیشہ کے لئے انکی زبان بند کر دی گئی۔

گزشتہ ہفتے مرزا وسیم کو ان کے گھر کے باہر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا انکے اہل خانہ فائرنگ کی آواز سن کر باہر دوڑے تو دیکھا ملزمان فرار ہو چکے ہیں اور مرزا صاحب خون میں لت پت لیکن آس پڑوس کے گھروں کسی کو باہر نکل کر دیکھنے کی توفیق نہ ہوئی انکے اہل خانہ مدد کے لئے دہائیاں دیتے رہے پر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی نہ کسی کو مدد کے لئے آنا تھا نہ کوئی آیا ان کے 13 سالہ معصوم ڈرائیونگ سے نا بلد بیٹے نے گھر میں کھڑی پک اپ نکالی اور جیسے تیسے باپ کی جان بچانے کی خاطر گاڑی چلا کر ہسپتال لایا والدہ اور بہن والد کا سر گود میں رکھے لبوں پر بے تحاشہ دعائیں اور آنکھوں میں بے بسی بھرے آنسو لئے ہسپتال پہنچی پر مرزا صاحب جان بر نہ ہو سکے کاش کے کوئی مدد کو آ جاتا کاش وہ وقت پر ہسپتال پہنچا دیے جاتے پر 6 گولیاں لگنے کے بعد کوئی حامد میر کی طرح خوش نصیب تو نہیں ہوتا کہ بچ سکے۔

مرزا وسیم تو شہید ہو گئے شاید وہ سچ کے مسافر تھے اللہ پاک نے ان کو عظیم رتبے سے نوازا پر جن لوگوں کی خاطر ان سے زندگی کا حق چھین لیا گیا وہ موقع پر کیوں نہیں آئے۔ شہید کی اہلیہ نے لوگوں کے دروازے کھٹکھٹا کر مسلسل مدد مانگی کسی کے دل میں رحم کیوں نہیں آیا یہ جنگ ہمارے اس شہید بھائی کی تو نہیں تھی نہ کوئی زاتی مفاد تھا نہ عناد مسائل تھے تو عوام کے جھگڑے تھے تو عوام کے مرزا صاحب تو چلے گئے پر ہم سب کے لیے سبق چھوڑ گئے کہ کسی کی جنگ میں نا پڑیں نہ کسی کے مسائل میں کوئی کسی کی مدد کرے نہ احساس کیونکہ اب ہم معاشرے میں نہیں جنگل میں رہتے ہیں اور جانوروں کے اصول نہیں ہوتے۔۔۔۔۔!

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.