یوم پاکستان کے تقاضے

تحریر: غضنفر علی اکرام

0

کل ایک ٹی وی چینل پر ایک صاحب کو دیکھا کہ وہ پبلک سے پوچھ رہے تھا کہ 23 مارچ ہم کیوں مناتے ہیں اس دن کیا ہوا تھا اور جوابات سن کر سر پیٹ لینے کو جی چاہا کہ یہ کیسی قوم ہے جو اپنے قومی دن کی چھٹی تو بہت ذوق و شوق سے منالیتی ہے اور قومی دن پر ساری واہیات حرکتیں تو کر لیتی ہے۔

آتشبازی،سڑکوں پر ون ویلنگ اور موٹر سائیکل کے سائلنسر نکال کر ہر خاص و عام کا ناک میں دم کرنا وغیرہ مگر قومی دن کی تاریخ اور پس منظر کا انہیں ذرا بھی پتہ نہیں آج 79 سال گزر گئے اس تاریخی قرارداد کو پاس ہوئے یہ قرار داد ایک نشان منزل تھی ایک آزادی کا روڈ میپ تھی اپنے عظیم مقصد یعنی پاکستان کے حصول کے لئے ایک واضح سمت کا تعین تھا مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل میں اکثریت کو بظاہر پڑھا لکھا ہونے کے باوجود یہ معلوم نہیں کہ اس دن کیا ہوا تھا اور کیوں ہوا تھا جب کہ ہندو کلچر کے سارے تہوار انھیں یاد ہیں اس ساری صورت حال کی ذمہ دار پچھلی دو نسلیں ہیں جنہوں نے اپنے قومی دنوں کی اہمیت کے حوالے سے کبھی اگلی نسل کو ضروری معلومات سے بہرہ مند نہیں کیا۔

دوسری بڑی ذمہ داری ہمارے نظام تعلیم کی تھی جو مکمل طور پر اپنے اسلاف کے کارناموں کو اپنے نونہالان کو منتقل کرنے میں ناکام رہا ہمارے کارپردازان حکومت بھی مطالعہ پاکستان کے نام سے ایک مضمون کا اضافہ کر کے اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو گئے اس مضمون کا نفس مضمون بھی انتہائی خشک اور پھیکا سا ہے اور پڑھنے اور پڑھانے والے دونوں کا مطمع نظر امتحان پاس کرنے کی حد تک ہے اور یہ اوپر سے یہ مضمون بھی سرکاری سکولوں کی حد تک ہی ہے اور اس کا سلیبس بھی آج مغربی اقوام کر رہی ہیں کہ ہم نے پاکستان کا کتنا ”مطالعہ” اپنی نوجوان نسل کو کرانا ہے۔

دوسری طرف جو مہنگے پرائیویٹ سکول سسٹم دونوں ہاتھوں سے دولت کے انبار لگا رہے ہیں وہاں مطالعہ پاکستان پڑھایا ہی نہیں جاتا اور ستم ظریفی یہ کہ طبقہ اشرافیہ کے بچے انہی سکولوں میں تعلیم حاصل کر کے ملک کے بیوروکریٹ بنتے ہیں انہوں نے واجبی سا مطالعہ پاکستان بھی نہیں پڑھا ہوتا اور وہ پاکستان کی اساس نظریہ پاکستان کے بارے میں کچھ جانتے ہی نہیں ہوتے اس لئے ساری پالیسیاں مغرب کو خوش کرنے کے لئے بناتے ہیں جس سے ہمارے ادارے بھی مغرب کی غلامی میں چلے جا رہے ہیں اس نام نہاد اشرافیہ کا تعلق اپنے عوام سے اتنا ہی ہے جو ان کی حکمرانی کو تحفظ دے سکے۔

آج ہمیں اپنی نظریاتی اساس کی حفاظت کی جتنی ضرورت ہے پہلے شائد اتنی نہیں تھی آج دشمن پاگل کتوں کی طرح ہمارا پیچھا کرنے میں لگے ہیں اور ان کے گماشتوں نے NGOs کے روپ میں ہمارے ہر شعبہ ہائے زندگی میں نفوذ کر لیا ہے اور نوجوانوں کو طرح طرح کے خوشنما خواب دکھا کر ان کی منزل سے بھٹکایا جا رہا ہے اس منزل سے جس کا خواب قائد اعظم اور ان کے رفقا نے دیکھا تھا تیسری طرف ہمارا میڈیا ہے جو بغیر کسی ضابطہ اخلاق کے شتر بے مہار بنا ہوا ہے اور دن رات انڈین ڈرامے دکھا دکھا کر ہندو کلچر کو پروموٹ کر رہا ہے اور قائد اعظم اور ان کے ساتھیوں کو سیکولر ثابت کرنے میں جتا ہوا ہے اور بھاری پیسہ لے کر اپنی اساس کی جڑیں کاٹ رہا ہے اور نظریاتی اور جغرافیائی محافظ اداروں کو متنازعہ بنا رہا ہے۔

زرق برق لباس میں ملبوس اینکرز خواتین و حضرات دو قومی نظریہ کے خلاف بھاشن دے رہے ہوتے ہوتے اور امن کی آشا کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں اور جن کے ایما پر یہ سب کچ کرتے ہیں وہ ہزاروں ٹن کا پے لوڈ ہم پر گرا کر ہمیں دہشت گرد قرار دے کر مزید سرجیکل سٹرائیکس کرنے بلکہ پوری جنگ مسلط کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں لہٰذا میڈیا کے اس مست سانڈ کو بھی قابو کرنا بہت ضروری ہے۔

آج ضرورت ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے تحریک پاکستان کے ارفع مقاصد سے نوجوان نسل نہ صرف روشناس ہو بلکہ ان پر فخر کر سکے ورنہ تاریخ کا فیصلہ تو یہی ہے بنیاد کھوکھلی ہو جائے تو شاندار عمارت کو زمین بوس ہوتے دیر نہیں لگتی۔۔۔۔۔ ہمیں اپنی عمارت کو نہ صرف محفوظ بلکہ مضبوط بھی بنانا ہے اور اپنے قومی دنوں کی اہمیت کو ان کے صحیح تناظر اور تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے تعلیمی نصاب اور میڈیا کوریج کا حصہ بنانا ہو گا اور یہ مقصد صرف گانوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے حاصل ہو گا۔
اللہ کریم ہماری اس شاندار عمارت کو اپنی حفاظت میں رکھے جسے پاکستان کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ آمین

پھلا پھولا رہے چمن یا رب میری امیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے ہم نے پالے ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.