جہلماہم خبریں

ایم ایس سول ہسپتال جہلم کے ناروا رویہ کیخلاف چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹرکا فیملی کے ہمراہ دھرنا

جہلم: ایم ایس سول ہسپتال کے ناروا رویہ کے خلاف چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر عدنان سیٹھی کا فیملی کے ہمراہ دھرنا، ایم ایس نے ڈاکٹروں کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز رویہ اختیار کر رکھا ہے بلاوجہ تنگ کرنا معمول بنایا ہوا ہے ڈیوٹی اوقات کے بعد بھی کام پر مجبور کر تا ہے ڈاکٹر کا شدید احتجاج، سیکرٹری ہیلتھ سے نوٹس کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کے چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر عدنان سیٹھی نے اپنی بیوی اور بچوں کے ہمراہ چوک شاندار میں اپنے خلاف ہونے والے ایم ایس کے ناروا رویہ کے ضمن کیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیپارٹمنٹ میں سہولیات کا فقدان ہے ایم ایس سے بات کی تو بدتمیزی پر اتر آیا،وارڈ میں آکسیجن کی کمی تھی مانگنے پر برا بھلا کہ کر کمرے سے نکال دیا۔مریضوں کے لیے سہولیات مانگتا ہوں تو انکوائری کا کہہ کر بلیک میل کرتا ہے،مجھے سخت ہراساں کیا جاتا ہے مجبور ہو کر بیوی بچوں کو لے کر شاندار چوک پر دھرنا دے کر بیٹھو گا،جب تک مجھے انصاف نہیں ملتا میں بیوی بچوں کو لے کر بیٹھا رہوں گا،میں اپنی بیوی بچے خوشی سے لے کر نہیں آیا ان بڑے افسران نے مجبور کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ڈی ایچ کیو ہسپتال میں چائلڈ ڈیپارٹمنٹ کا انچارج ہوں اور اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے سرانجام دیتا ہوں لیکن مجھے اس سے قبل بھی غیر قانونی طور پر ایم ایس اور ڈاکٹر نثار خالد نے ڈیوٹی نہ دینے پر لیٹر جاری کیے۔

اس ضمن میں ان کی بیوی نے بتایا کہ ان انکوائریوں میں ڈاکٹر عدنان سیٹھی کو کلیئر کر دیا گیا لیکن گزشتہ روز پھر ایم ایس کی طرف سے ایک لیٹر ملا جس میں مجھے کہا گیا کہ آپ وارڈ میں ڈیوٹی اور راؤنڈنہیں کرتے ،جس پر میں احتجاج کرنے کیلئے چوک شاندار میں اس لیے آیا ہوں کہ میں نے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر اور تمام ڈاکٹرز سے اس ضمن میں بات کی ہیے لیکن انہوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی جس پر مجھے احتجاج کرنا پڑا۔

ڈپٹی کمشنر جہلم کیپٹن(ر) عبدالستار عیسانی نے ڈاکٹر عدنان سیٹھی کے احتجاج کا نوٹس لیتے ہوئے اسی وقت اے سی جہلم کو چوک شاندار میں بجھوایا انہوں نے اس معاملہ کو حل کرنے کیلئے ڈاکٹر عدنان سیٹھی اور ان کی فیملی کو اعتماد میں لیا اور یہ احتجاج ختم ہو گیا۔جبکہ اس احتجاج کو ختم کروانے میں ڈاکٹر تفسیر گوندل اور ڈاکٹر فواد مجید چوہدری کا بھی اچھا کردار ہے۔

ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ سیکرٹری ہیلتھ سے ایم ایس کے رویہ کے نوٹس کا مطالبہ کرتا ہوں اس موقع پر شہریوں نے کہا کہ سول ہسپتال میں ایک ذہنی مریض شخص کو ایم ایس لگا دیا گیا ہے جو ہر کسی کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کرتا ہے مریضوں کی شکایات سننے کی بجائے ان کے دفتر میں داخلے پر ہی پابندی لگا رکھی ہے وزیر اعلی پنجاب کو فوری طور ایسے شخص کو تبدیل کرکے کسی ذمہ دار شخص کو ایم ایس لگانا چاہیے ۔

ایم ایس ڈاکٹر خالد محمود سے جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ خادم اعلیٰ پنجاب نے صحت کے شعبہ میں انقلاب لا نے کیلئے تمام ماہر امراض ڈاکٹرز کو شام کو مریضوں کی دیکھ بھال کیلئے چالیس ہزار روپے تنخواہ کے علاوہ ملتا ہے ۔لیکن ڈاکٹر عدنان سیٹھی کی وارڈ میں بچوں کے ساتھ نہ تو سلوک اچھا ہے نہ ہی وہ رات کو اپنے وارڈ کا راؤنڈ کرتے ہیں اس ضمن میں ان کو متعدد بار ان کی اس ناقص کارکردگی کے باعث آگاہ کیا گیا جبکہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمن ،نائب صدر ڈاکٹر تفسیر حسین گوندل،ڈاکٹر فواد مجید چوہدری کے علاوہ متعدد ڈاکٹروں نے مثبت پیش رفت کر کے ڈاکٹر عدنان سیٹھی کے ساتھ تعاون کیا تاکہ ہسپتال کا ماحول خراب نہ ہو۔لیکن ڈاکٹر عدنان سیٹھی نے اپنی روش جب تبدیل نہ کی تو محکمانہ طور پر انہیں ایم ایس نے لیٹر جاری کیا جس پر وہ سیخ پا ہو گئے اور چوک شاندار میں احتجاج کرنے کیلئے چلے گئے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button