گوہرِ نایاب (سردار عابد حسین فرحت)

رپورٹ: ظفرغوری

0

ہمت اگر ہوتو انسان کیا نہیں کرسکتا! اس کے عزم و حوصلے کے سامنے کوئی عذر کوئی جسمانی معذوری رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ایسی ہی ایک مثال تحصیل سوہاوہ کے ایک دور افتادہ گائوں پوٹھہ میں 1977ء میں جنم لینے والے شخص سردار عابد حسین فرحت کی ہے۔ سردار عابد حسین فرحت کا المیہ یہ ہے کہ وہ پیدائشی طور پر جسمانی معذوری کا شکار ہے مگر اس کا عزم و حوصلہ چٹانی ہے۔

گورنمنٹ پرائمری سکول پوٹھہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد منازل علم وفن کی مزید سیڑھیاںچڑھنا محدود وسائل میں ممکن نہ رہا لہٰذا اس سفر کو ادھورا چھوڑنا پڑا۔ ان نامساعد حالات کے باوجود روایتی تعلیم کا سفر تو جاری نہ رہ سکا مگر پرواز تخیل کے سفر پر گامزن ہوکر سردار عابدحسین فرحت نے لفظوں کو ترتیب دینا شروع کردیا اور خطہ پوٹھوہار سے تعلق کی بنا ء پر اپنی مادری زبان میں شعروسخن کی مشق جاری رکھی ۔

ہاتھوں سے معذور ی کی وجہ سے اپنے منہ میں قلم پکڑ کر لکھنے والے عابد حسین فرحت کی آج برسوں گزر جانے کے باوجود جسمانی معذوری بھی دور نہ ہوسکی اور غربت و افلاس کے عفریت سے بھی جان نہ چھوٹ سکی۔ تاہم پوٹھوہاری زبان میں شاعری کرنے کی اپنی خداداد صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے عارفانہ کلام پر مبنی سینکڑوں اشعار مرتب کر لئے مگر پیدائشی معذوری کے ساتھ ساتھ معاشی مجبوری کا شکار عابد حسین فرحت اس کمر توڑ مہنگائی کے دور میں اپنا مجموعہ کلام شائع کرانے کا متحمل بھی نہیں ہوسکا۔

جہلم اپڈیٹس سے خصوصی گفتگو کے دوران اپنی دلی آرزو کا اظہار کرتے ہوئے عابد حسین نے کہا کہ معذور افراد کو فالتو شے سمجھ کر گھر کے کسی کونے کھدرے میں نہ پھینکا جائے ۔ ہر انسان کا اولین فریضہ ہے کہ ایسے افراد کے ساتھ مثبت رویوں کو فروغ دیتے ہوئے انسانیت کے تقاضوں کو پورا کیا جائے ۔

انہوں نے حکومت پاکستان سے گزارش کی کہ وہ معذور افراد کے لئے بھرپور وسائل مہیا کرے اور جو افراد کسی جسمانی معذوری میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنی خداداد صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرنے کے قابل ہیں انکی نہ صرف دل کھول کر حوصلہ افزائی کی جائے بلکہ انکو ایسا ماحول مہیا کیا جائے جس میں رہتے ہوئے وہ اپنی فنی صلاحیتوں کے اظہار میں کسی قسم کی کوئی دشواری محسوس نہ کریں۔سرکاری سطح پر ایسے باصلاحیت افراد کو بھرپور پذیرائی ملنی چاہیے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.