انسانی وسائل اور معاشی ترقی — تحریر: آفتاب سرور

ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر، پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ جہلم

0

اقوام عالم میں آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا چھٹا نمبر ہے۔ دنیا کی کل آبادی تقریباً ساڑھے سات ارب افراد پر مشتمل ہے جبکہ پاکستان کی آبادی2017؁ء کی مردم شماری کے تحت 20 کروڑ 77 لاکھ افراد ہیں۔ لیکن جب ہم اقوام عالم کی ترقی کا تجزیہ کریں تو پاکستان ہمیں ان بلندیوں پر نظر نہیں آتا جہاں پر آبادی کے لحاظ سے ہم موجود ہیں۔

اگر ہم خام قومی پیداوار (GDP) کے لحاظ سے دیکھیں تو پاکستان دنیا میں 42 ویں نمبر پر ہے۔ اور فی کس آمدنی کے لحاظ سے 145 ویں نمبر پر ہے۔ انسانی ذرائع کی ترقی (Human Development) کے لحاظ سے تو صورتحال اور بھی تشویشناک ہے اور جو نہ صرف دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بلکہ ترقی پذیر ممالک سے بھی بہت پیچھے ہیں۔ بلکہ تمام ہمسایوں ( افغانستان جو کہ جنگ زدہ علاقہ ہے کے علاوہ ) سے بھی کم ہے۔ اور دنیا میں 147 ویں نمبر پر ہے۔

اس ساری بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں افراد کا صرف زیادہ تعداد میں ہونا ہی واحد شرط نہیں ہے بلکہ جب تک ہم اس آبادی کو تعلیم یافتہ ، تکنیکی ہنر مندی سے آراستہ ، صحت مند اور بہترین ٹیکنالوجی سے مزین نہیں کریں گے تو ترقی ایک خواب ہی رہے گا۔

سنگا پور کا کل رقبہ 721 مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے جبکہ ضلع جہلم سنگاپور کے کل رقبہ سے 5 گنا زیادہ ہے سنگاپور کی کل آبادی تقریباً 56 لاکھ افراد پر مشتمل ہے ۔ خام قومی پیداوار (GDP) کے لحاظ سے سنگاپور دنیا کا 41 واں بڑا ملک ہے جبکہ پاکستان خام قومی پیداوار (GDP) کے لحاظ سے دنیا میں 42 ویں نمبر پر ہے پاکستان کا کل رقبہ سنگاپور سے تقریباً1100 گنا زیادہ اور آبادی سنگاپور سے 38 گنا زیادہ ہے ۔ لیکن سنگاپور زیادہ پیداوار کا حامل ملک ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ صرف آبادی اور وسائل کا ہونا ہی ملکی ترقی اور وقار کا ضامن نہیں بلکہ آبادی اور وسائل کی پیداوار یت اور وسائل کا بہترین استعمال قوموں کی ترقی اور وقار کا باعث ہیں۔

یہ بات دنیا کے چھٹے بڑے (آبادی کے لحاظ سے) اور مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کے لیے باعث عزت نہیں ہے کہ ہم سنگاپور جیسے ایک چھوٹے سے ملک (آبادی اور رقبہ دونوں کے لحاظ ) سے بھی خام قومی پیداوار میں پیچھے ہیں۔ سنگاپور انسانی ذرائع کی ترقی (HDI) کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بہترین ملک ہے جو کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ افراد کی تعداد نہیں بلکہ ان کی پیداواری استعداد ، تعلیم اور صحت کا معیار وہ بنیادی شرائط ہیں جوکہ ترقی کا باعث ہیں۔

ارشادیِ باری تعالیٰ ہے کہ’’ ہر انسان کے لیے وہی ہے جس کی وہ سعی ی؍ کوشش کرتا ہے ۔‘‘ پس اگر ہم بھی اقوام عالم میں عزت و مرتبہ اور ترقی کی منازل طے کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے تفویض کئے ہوئے مادی قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل کا بھی بہترین استعمال کرنا ہوگا اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ہم آبادی اور دیگر دستیاب وسائل میں توازن برقرار نہیں رکھتے اور اپنی آبادی خاص طور پر نوجوانوں کو تعلیم ، تکنیکی ہنر مندی اور درکار ٹیکنالوجی سے بہرہ مند نہیں کرتے۔

ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ آبادی میں بے ہنگم اضافہ کو نہ صرف کنٹرول کرنا ہے بلکہ اس آبادی کے پیداواری معیار کو بڑھانے کے لئے تمام ضروری عملی اقدامات کرنے ہیں تاکہ ہم اپنے انسانی و مادی وسائل کی پیداواریت بڑھا کر ترقی کی منازل طے کر سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.