یکجہتی آور

تحریر: زرمینہ شکیل راجہ

0

کشمیر کے لاک ڈاون کے چوتھے ہفتے اور 26 ویں روزکے بعد بل آخر حکومت پاکستان کو سوشل میڈیا سے نکل کر کشمیر سے یکجہتی کا خیال آ ہی گیا اور اپنے حالیہ خطاب میں معزز عمران خان صاحب نے اپنی حکومت کی لمبی داستان سنانے کے بعد کشمیر سے یکجہتی کا اظہار اپنی زبان مبارک سے کیا عملی طور پر یہ اقدام اچھا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس سے کشمیری عوام کو کوئی فائدہ پہنچے گا؟

جواب یہ ہے کہ یقینی طور پر نہیں۔۔۔بھلا سگنل پر سرخ بتیاں جلا کر ٹریفک روک کر یہ عوامی اجتماع ریلیاں یہ کشمیر آور حکومت اور سول سوسائٹی کے ششکے سے زیادہ کچھ نہیں۔۔ آدھا گھنٹہ ٹریفک روک کر مالیاتی نقصان تو پہنچایا جا سکتا ہے عوام کو پر فائدہ کسی کو بھی نہیں۔۔پہلے ہی آپکی حکومت میں عوام معاشی طور پر بہت خوشحال ہیں اسلئے خان صاحب برائے مہربانی ایسے اقدامات نہ بھی کریں تو گزارہ ہو سکتا ہے۔۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ اس طرح کے اقدام سے کشمیری بہن بھائیوں کو فائدہ ہو تو عوام آدھا گھنٹہ کیا طویل عرصہ بھی یہ سب کر لیں مگر یہ سب بے سود ہے۔۔سکولوں کالجوں میں جلدی چھٹی اور دفاتر میں چند گھنٹے کی چھٹی کر کے ریلیاں منعقد ہوئیں خدارا کوئی اہل عقل انکو یہ بتائے کہ اس سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو گا۔۔

ٹویٹس پر ٹویٹس، اپنی ہی قوم سے خطاب اور ہر بات میں سب سے پہلے نواز شریف کا زکر خان صاحب آپکو سچ میں نواز شریف فوبیا ہو گیا ہے مجھے تو لگتا ہے کہ آپ مسئلہ کشمیر پر کوئی غیر ملکی دورہ بھی اسلئے ہی نہیں کرتے کہ آپکی غیر موجودگی میں کہیں نواز شریف آپکی کرسی پر دوبارہ نہ آ بیٹھیں پر خان صاحب نواز شریف تو کیا آپ انکی پوری جماعت کا ہی بندوبست کر چکے ہیں بے فکر رہیں اور برائے مہربانی مسئلہ کشمیر پر توجہ دیں۔

آپکے اس یکجہتی آور سے کشمیریوں کو خوراک کی فراہمی ہو گی نہ ان پر ہونے والے مظالم میں کمی خدارا آنکھیں کھولئے۔۔. بین الاقوامی سطح پر کچھ تو کیجیے دنیا کر لے گی دنیا دیکھ لے گی۔۔. دنیا کیا دیکھے گی اگر ٹرمپ صاحب اتنے انسانیت دوست ہوتے تو مودی سرکارکی پشت پناہی نہ کر رہے ہو تے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک نہ ہو رہا ہوتا۔

کوئی تو دانش مندانہ اسٹریٹجی اپنائیے کوئی موثر حکمت عملی ہے نہ کوئی فارن پالیسی عمران خان صاحب کشمیر منتظر ہے مدد کا۔۔۔۔

بھارتی وزیر اعظم آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد 12 ممالک کے سربراہان سے ملاقات کر چکے ہیں اور وزیر خارجہ 40 ممالک کے دورے اور پاکستان کے وزیر اعظم 23 ٹویٹس میں اپنی ہی قوم سے خطاب اور وزیر خارجہ کے 26 ممالک کو فون جیسی ان تھک محنت کے بعد کشمیر سے یکجہتی کا آور منعقد کروا چکے ہیں۔۔ وزیر خارجہ صاحب آپکو اتنی بہترین سفارت کاری باقیوں کو بھی سکھانے کے لئے انٹرنیشنل یونیورسٹیوں میں لیکچر دینے چاہئیں شاید کسی اور ملک کا بھی بھلا ہو جائے۔۔

اور وزیر اعظم صاحب آپ بھی سمجھ لیجیے کہ اونچے ایوانوں کے ائر کندیشنر کمروں میں بیٹھ کر ٹوئٹر پر حکومت چلتی ہے اور نہ صرف اور صرف سیاسی مخالفین کا احتساب کرنے سے۔۔۔!

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.