بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے لئے ضلعی افسران کو لیبر انسپکٹرز کے اختیارات کی منتقلی نہ ہو سکی

0

دینہ: دینہ میں چائلڈ لیبر ناسور بن گیا ،ورکشاپوں ،منی فیکٹریوں ،ہوٹلوں اور دیگر جگہوں پر بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے لئے ضلعی افسران کو لیبر انسپکٹرز کے اختیارات کی منتقلی نہ ہو سکی، چائلڈ لیبر کا خاتمہ حکومت پنجاب کے لئے ایک چیلنج بن کر رہ گیا۔

ذرائع کے مطابق دینہ شہر اور گردونواح میں ہوٹلوں ،ورکشاپوں،منی فیکٹریوں ،بھٹوں اور دوکانوں میں سینکڑو ں بچوں سے جبری مشقت کا سلسلہ جاری و ساری ہے ،حکومت پنجاب نے چائلڈ لیبر سے کام لینے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا مگر وہ عدم دلچسپی کے باعث زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکا اور کم عمر بچوں سے دوبارا کام لیا جانے لگا۔

بچے سر عام ہوٹلوں، منی فیکٹریوں، بھٹوں و دیگر مقامات پر کام کرتے نظر آتے ہیں لیکن اس سلسلہ میں کوئی عملی اقدامات نہیں اُٹھائے جا رہے ،حکومت کو چاہیے کہ بچوں سے مشقت کروانے والے مالکان کے خلاف کاروائی کی جائے اور چائلڈ لیبر کا خاتمہ کیا جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.