جہلم

ضلع جہلم میں گندم کی سمگلنگ کے روک تھام کیلئے کتنی چیک پوسٹیں قائم کی گئیں، شہریوں نے سوالات اٹھا دیئے

جہلم: ضلع بھر میں گندم کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام کے لئے کتنی چیک پوسٹیں قائم کی گئیں داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کی ذمہ داریاں کون کا محکمہ ادا کر رہا ہے، گندم کی سمگلنگ میں ملوث بیوپاریوں کیخلاف کتنے مقدمات درج ہوئے اور کتنے بیوپاریوں سے گندم ضبط کر کے محکمہ خوراک کے حوالے کی گئی اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ مکمل خاموش، شہریوں نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیئے۔

ضلع جہلم کے شہریوں نے کہا ہے کہ گندم کی فروخت عروج پر پہنچ چکی ہے دوسرے اضلاع کے بیوپاری کسانوں سے گندم خرید کر پڑوسی اضلاع میں منتقل کر رہے ہیں، ضلعی انتظامیہ نے گندم کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام کے لئے کتنی چیک پوسٹیں قائم کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خارجی و داخلی راستوں پر کون سا محکمہ گندم کے بیوپاریوں کو چیک کرنے کے لئے خدمات سرانجا دے رہا ہے، کتنے بیوپاریوں کے خلاف گندم خریدنے پر مقدمات درج کئے گئے ہیں کتنے بیوپاریوں کے گودام سربمہر کئے گئے اس حوالے انتظامیہ میں کسی قسم کی معلومات فراہم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، جس سے بیشمار سوالات جنم لے رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ محکمے دفتروں تک محدود ہیں، پڑوسی اضلاع کے بیوپاریوں نے کسانوں سے گندم کی خریداری شروع کر رکھی ہے جبکہ متعلقہ ادارے خواب خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں۔

شہری سماجی، رفاعی، فلاحی تنظیموں کے عمائدین نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی خریداری میں عدم دلچسپی کا مظاہر ہ کرنے والے متعلقہ محکموں کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور پڑوسی اضلاع میں گندم منتقل کرنے والے بیوپاریوں کے خلاف مقدمات درج اور غیر قانونی قائم ہونے والے گوداموں کو سیل کیا جائے تاکہ گندم کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button