دینہ

روزے اللہ تعالیٰ کی رضا اور راتوں کا قیام اس کی خوشنودی کے لیے اختیار کیا جائے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: شب قدر وہ عظیم رات ہے جس میں کلام ذاتی (قرآن مجید) کے نزول کی ابتداء ہوئی اور اس رات کو اللہ نے اتنی برکت عطا فرمائی اس رات کو راتوں کی سردار رات کہا گیا اور آپ کی حسرت کے میری اُمت سابقہ اُمتوں کے مقابلے میں اتنی عبادت نہ کر پائے گی کیونکہ سابقہ اُمتوں کی عمریں بہت زیادہ تھیں، تو اللہ کریم نے احسان فرمایاکہ لیلتہ القدر عطا فرمائی جس رات کی عبادت ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ الوداع کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بندہ مومن کو اگر یہ ادراک نصیب ہوجائے کہ زندگی کا ایک ایک لمحہ کتنا قیمتی ہے تو وہ غفلت سے نکل کر اپنے آپ کو متوجہ الی اللہ کر لے اور یہ احساس بندہ مومن میں تب پیداہوتا ہے جب اپنی زندگی کے معمولات میں ذکر الٰہی کو اولین ترجیح دے گا۔

انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں ہر عبادت ،نماز ،جہاد ،حج اور روزی کمانے کے حکم کے ساتھ ذکر الہی کا تاکیدی حکم فرما دیا ہے ،اب اس کو اختیار کرنے کے لیے جیسے تعلیمات نبوت کے لیے علماء کے پاس جانا پڑتا ہے اسی طرح اس شعبہ کے حاملین صوفیاء کی خدمت میں حاضر ہونا اتنا ہی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے روزے اللہ کی رضا کے لیے ،راتوں کا قیام اس کی خوشنودی کے لیے اختیار کیا جائے اور تیسرے عشرے میں یہ قیمتی رات جس کی نشاندہی آپ ﷺ نے فرمائی کہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کیا جائے ،یہ محض پانچ راتیں ہیں جن میں ہم لیلتہ القدر کو پا سکتے ہیںلیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم بے عملی اور انحطاط کا اس حد تک شکار ہو گئے ہیں کہ ان راتوں کو بھی رواجات کی نذر کر دیتے ہیں جو کہ ہم سب کے لیے ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئیں ہم اپنے آپ کو اللہ کے حضور پیش کر دیں اور اس طرح کی محبت کی جھلک ہم میں بھی نظر آئے کہ اگر نہاں خانہ دل میں کہیں کوئی شیطنت ہے تو اس رات کی برکت سے دھل جائے اور اللہ کریم سے جہاں اپنی اور اپنے اہل و عیال کی بخشش طلب کی جائے وہاں اس کورونا بیماری سے نجات کے لیے بھی دعا کی جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button