دینہ

والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فن کی خدمت کی ہے۔ عارف لوہار

دینہ: جگنی میرے والد کا ہاتھ کا لکھا ہوا لفظ ہے ،والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فن کی خدمت کی ہے ،اچھی یادیں انسان کو مرنے نہیں دیتیں ،چمٹا ایک درویشی ساز ہے جو ہمیشہ ساتھ رہتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستا ن کے معروف گلوکار عارف لوہار نے دینہ میں صدر پریس کلب امجد محمود سیٹھی اور معروف صحافی رضوان سیٹھی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خاندان نے نصف صدی سے بھی زیادہ اس کی ملک کی ثقافت کو زندہ رکھا میں نے اپنے فن کو عبادت سمجھ کر کام کیا میرے والد عالم لوہار کی وفات کے بعد میرے لیئے بہت بڑا چیلنج تھا اور میں نے دن رات محنت کر کے اپنے والد کی دعاؤں سے اس مقام کو حاصل کیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ مجھے گانے کا بہت شوق تھا کیونکہ میں نے سب سے زیادہ وقت اپنے والد کے ساتھ گزارا ،صوفی گانے کے لئے صوفی ہونا پڑتا ہے ،میں نے تقریباً پوری دنیا میں پرفارم کیا ہے اور اپنے ملک کی ثقافت کو دنیا کے سامنے لایا ہے پاکستان سے بے پناہ محبت کرتا ہوں یہاں کے لوگ بہت اچھے اور ملنسار ہیں ،جس نے اپنے ماں پاب کی خدمت کی وہ دنیا اور آخرت میں ہمیشہ کامیاب رہتا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button