پنڈدادنخان کے سیاسی نورتن

تحریر: چوہدری زاہد حیات

0

پنڈدادنخان والوں کی بد قسمتی یہ ہے کہ پنڈدادن خان والوں کو لیڈر مل ہی نہیں سکا جو لوگ بھی سیاسی میدان میں آئے وہ قائدانہ صلاحیتوں سے نہیں پیسے کے بل بوتے پر آئے یہ لوگ لیڈر نہیں بزنس مین تھے نا کہ سیاستدان۔

عوامی خدمت کا نعرے کی آڑ میں مفادات حاصل کرنے کا طریقہ اپنایا گیا اور اس کے نتائج بھی خوب ملے۔پھر دھڑے بندی کی سیاست کا سنہرا اصول بھی یہاں پوری قوت سے لاگو کیا گیا۔عوام کو یہ باور کروایا گیا کہ ان کے لیے صحت کی سہولیات سے زیادہ ضروری ہے کہ تھانہ کچہری میں ان کی بات سنی جائے ان کی تعلیم سے زیادہ ضروری ان کی پسند کا پٹواری ہے۔

اہل پنڈدادنخان کو یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ پانی اور گیس ضروری نہیں بلکہ اس کی جگہ تحصیل دار اور گردور سے واقفیت اور وہاں آپ کی شنوائی زیادہ ضروری۔ظلم تو یہ کہ ہر گاؤں میں کچھ مخصوص لوگ ہی پورے گاؤں اور علاقے کے فیصلے کرنے لگے۔نتجہ یہ ہوا کہ اہل اختیار اور منتخب نمائندوں نے بھی آپنے آپ کو انھی لوگوں تک محدود کر لیا اور عام عوام سے ان کا تعلق نا ہونے کے برابر تھا اور ان منتخب نمائندوں کو عام آدمی سے تعلق کی ضرورت بھی کیا تھی کہ جب فیصلے ان لوگوں نے ہی کرنے ہوتے تھے۔

ہر گاؤں اور ہر محلہ کہ یہ فیصلہ ساز لوگ اپنے مفادات کے لیے زیادہ کام کرتے رہے اور جہلم اور پنڈدادن خان پس ماندگی کے گڑھ میں گرتے رہے۔ مجھے خود یاد کہ میں نے ایک اپنے محترم جن کی اس وقت پہنچ بھی کافی سمجھی جاتی تھی عرض کیا کہ تحصیل کے کام نہیں ہورہے تو ان کا جواب یہ تھا کہ ہم عام لوگوں کے مشورے نہیں لیتے اور اوپر والے۔اور پھر بولے پنڈدادن خان کے لوگوں کا سب سے بڑا مسئلہ تھانہ کچہری اور پٹواری ہے اور وہ ہم کچھ دے دلا کر حل کروا دیتے ہیں۔

تحصیل میں ایسے لوگ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوں وہاں پس ماندگی اور تباہی ہی آتی۔ پچھلے بلدیاتی انتخابات میں ایک پٹواری کے تبادلے پر ایک امیدوار کو کم بیش ڈھائی تین سو ووٹ مل گئے۔اب ان لوگوں کا گلہ فضول ہے کہ سڑکیں نہیں ہیں پانی نہیں گیس نہیں۔ان لوگوں کے پاس ووٹ کی طاقت تھی اور اس طاقت سے انھوں نے پٹواری کا تبادلہ کروا لیا۔اب سڑکوں اور سکولوں کا رونا بنتا نہیں تھا۔ ایسی سوچ کے ساتھ ہسپتال سکول پانی نہیں صرف اور صرف پس ماندگی اور ذلت ملتی ہے اور وہ اہل پنڈدادنخان کو مل رہی۔

دو ہزار اٹھارہ کے جنرل الیکشن میں کچھ تبدیلیاں ہوئیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ موجود ایم این اے اور وفاقی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی چوہدری فواد ان فیصلہ سازوں کی بجائے عوام تک پہنچے اور پہلی دفعہ اس منفی سیاست کو کاری ضرب پڑی اور وہ فیصلہ ساز بہت حد تک کمزور ہو گئے۔

یہ ایک بہت مثبت تبدیلی تھی اور ہے لیکن افسوس کہ اب چوہدری فواد کے گرد بھی چند ایسے ہی دانشور جمع ہو چکے ہیں۔ جو اجتماعی کاموں اور تحصیل کی ترقی کی بجائے تھانے اور کچہری کی سیاست کرنا چاہتے جن کو لگتا کہ تحصیل کے سارے تھانیدار اور تحصیل انتظامیہ اب ان کی مرضی سے فیصلے کریں’ یہ ایک منفی روش اور قابلِ مذمت رویہ۔گو ان رتنوں کو زیادہ کامیابی نہیں مل رہی لیکن وہ لگے ہوئے چوہدری فواد جن کی سیاست عام آدمی کے گرد ہے اور رہے گی یہ سیاسی رتن ان کو عام آدمی اور تحصیل کے مسائل سے دور لے جانا چاہتے۔ ان سے موجود قیادت کو بھی بچنا ہو گا۔

چوہدری فواد کا ویژن جہلم اور تحصیل کی ترقی ہے اور انشاء للہ وہ اپنے وعدے پورے کریں گے۔لیکن ان سیاسی رتنوں کو بھی سوچنا ہو گا کہ عام آدمی اور چوہدری فواد میں فیصلہ پیدا کرکے نا تو چوہدری فواد اور نا تحریک انصاف اور نا تحصیل کی خدمت کر رہے۔ان سیاسی دانشوروں سے ہاتھ جوڑ کر بنتی کہ آپ جہلم اور پنڈدادنخان کے لیے ہسپتال سکول پانی گیس جیسی سہولیات کو آنے دیں۔اپ کو پولیس اور تحصیل انتظامیہ پر قبضے کا اتنا ہی شوق تو سی ایس ایس کرکے ڈی سی یا ڈی پی او وغیرہ لگ جائیں جہلم اور تحصیل کے اجتماعی کاموں پر دھیان دینے دیں۔

ماضی کی سیاست سے تحصیل کو پس ماندگی کے سوا کچھ نہیں ملا اب اگر چوہدری فواد کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے قد آور سیاسی لیڈر دیا ہے کہ چوہدری فواد نے مسائل کے حل کے لیے ایک سمت پکڑی ہے آٹھ ماہ کے قلیل عرصے میں بجلی کے مسائل پر کافی حدتک قابو پایا گیا تحصیل بھر میں ڈاکٹروں کی کمی پوری کی گئی پانی کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اندازہ میں کام کیا جا رہا۔

پاسپورٹ آفس پنڈدادنخان کے قیام کی منظوری للِہ سے پنڈدادنخان اور جہلم روڈ اور پلوں کی مرمت کی منظوری یہ سب کام اس وقت کروائے جا رہے کہ جب حکومت معاشی بحران کا شکار اور فنڈز کی کمی۔تو ان سیاسی نورتنوں سے ہاتھ جوڑ کر عرض کہ چوہدری فواد اور موجود قیادت کو جہلم اور پنڈدادنخان کے مسائل پر کام کرنے دیں ان کو تھانے کچہری پٹواری اور تبادلوں اور سیاسی انتقام کی فضول سیاست میں نا الجھائیں۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.