جہلم پولیس کے نکے تھانیدار نے شہری کو نجی ٹارچر سیل میں مخالفین کے سامنے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

0

جہلم: پولیس چوکی کینٹ کے نکے تھانیدارخادم بٹ کا شہری پر نجی ٹارچر سیل میں مخالفین کے سامنے مبینہ وحشیانہ تشدد، نجی بینک میں ساتھ لے جاکر چیک کیش کروا کر رشوت وصول کی، مقامی تاجر عامرغفور کو مزید بلیک میل کرنے کیلئے دوران حراست 21لاکھ روپے کا چیک اور اشٹام پیپر بھی تحریری کروا کے اپنی تحویل میں لے لیا، صحافیوں نے بینک اور عدالتی کاغذات بطور ثبوت حاصل کر لیے۔

تفصیلات کے مطابق جہلم پولیس چوکی کینٹ کے اے ایس آئی خادم بٹ کے خلاف مقامی تاجر عامرغفور نے آئی جی پنجاب سے رجوع کر لیا ، آئی جی پنجاب کو دی گئی درخواست میں تحریر کیا ہے کہ پولیس چوکی کینٹ میں تعینات اے ایس آئی خادم بٹ نے کارروباری لین دین کا جھوٹا مقدمہ درج کرکے عدالت سے 5روز ہ ریمانڈ حاصل کرکے مجھے نجی ٹارچر سیل میں منتقل کر دیا اور میرے اوپر مخالفین کے سامنے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

تاجر عامرغفور نے تحریر کیا کہ مزید تشدد سے بچنے کیلئے بھاری رشوت کا تقاضا کیا اور مجھ سے میرے گھر ٹیلیفون کروا کر چیک بک منگوائی اور اپنی گاڑی میں بٹھا کر نجی بینک لے گیا اور چیک کیش کروا کر رشوت وصول کی اور اسطرح متعدد مرتبہ اے ایس آئی نے مجھ سے ٹیلیفون کروا کر رقم حاصل کرتا رہا۔

تاجر عامرغفور نے تحریر کیا کہ دوران حراست اے ایس آئی مجھے ضلع کچہری لے گیا اور اشٹام فروش سے اشٹام پیپر پر21 لاکھ رو پے تحریر کروانا چاہی جس پر اشٹام فروش نے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں دیکھ کر اشٹام جاری کرنے سے انکار کر دیا، ا س طرح اے ایس آئی نے دوران حراست میری ہتھکڑیاں کھول کر 21لاکھ روپے کا اشٹام پیپر تیار کروایا اور دوران حراست 21 لاکھ کا چیک وصول کرکے اپنے پاس محفوظ کر لیا، اب آئے روز اے ایس آئی خادم بٹ مجھے مختلف حیلوں بہانوں سے بلیک میل کرتا ہے۔

تاجر عامرغفور نے انکشاف کیا کہ دوران ریمانڈ خادم بٹ نے اپنے گھر کے لئے ایک عدد بیڈ اور ایک عدد یوپی ایس بھی حاصل کئے جن دکانداروں سے بیڈ اور یو پی ایس اے ایس آئی نے حاصل کئے وہ دونوں دکاندار گواہی دینے کے لئے موجود ہیں ۔

موقف جاننے کے لئے جہلم پولیس کے ترجمان اسسٹنٹ سب انسپکٹر راجہ ضمیر احمد سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ عامرغفور ریکارڈ یافتہ ہے جو الزامات اس نے اے ایس آئی پر عائد کئے ہیں، اس حوالے سے اس نے جہلم پولیس کو کسی قسم کی شکایت نہیں کی اگر عامرغفور کے ساتھ کسی قسم کی کوئی زیادتی ہوئی ہے تو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے دفتر سے رجوع کرے انکوائری کروا کر میرٹ پر انصاف مہیا کیا جائیگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.