ٹریفک دفتر جہلم سیاسی اکھاڑے میں تبدیل، لائسنسنگ برانچ کرپشن کا گڑھ بن گئی

0

جہلم: ٹریفک دفتر سیاسی اکھاڑے میں تبدیل ، لائسنسنگ برانچ کرپشن کا گڑھ بن گئی ، افسران و ملازمین نے اپنے اپنے گروپ تشکیل دے دیئے ، لائسنس حاصل کرنے والے نوجوان پسنے لگے ، متاثرہ نوجوانوں کا آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق ٹریفک دفتر کے شعبہ لائسنسنگ برانچ میں افسران نے اپنے اپنے گروپ تشکیل دے دیئے ، لائسنس بنوانے کے لئے آنے والے نوجوانوں کو مشکلات کاسامنا۔ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والے نوجوانوں نے بتایا کہ ٹریفک دفتر کے شعبہ لائسنسنگ برانچ میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔

موٹر سائیکل موٹر کار، ایل ٹی وی ، ایچ ٹی وی ، پی ایس وی لائسنس حاصل کرنے والے نوجوانوں نے بتایا کہ لائسنسنگ برانچ سیاسی اکھاڑے میں تبدیل ہو چکی ہے، سیاست دانوں کی آشیر بادسے تعینات ہونے والے افسران و اہلکاروںنے سیاست دانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے باقاعدہ کوٹہ مقرر کر رکھا ہے ، جہاں سیاست دانوں کے بھجوائے ہوئے نوجوانوں کو فرضی عمل سے گزار کر لائسنس جاری کر دیا جاتا ہے۔

میرٹ پر آنے والے نوجوانوں کو بار بار ڈرائیونگ ٹیسٹ کے نام پر فیسیں وصول کرکے فٹ بال بنایا جاتا ہے ، ٹریفک دفتر کے افسران نے دفتر کے باہر اپنے نامزد ٹاؤٹ بٹھا رکھے ہیں جو ٹریفک پولیس کے مقررہ کردہ نرخوں سے 30 گنا اضافی پیسے وصول کرکے نوجوانوں کو لائسنس جاری کرواتے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ٹریفک دفتر کے ایک آفیسر کے خلاف شہریوں کی جانب سے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم کو کرپشن کی درخواست دی گئی جس کی انکوائری تاحال جاری ہے ، تاہم ٹریفک آفیسر جو کہ ٹریفک دفتر میں تعینات ہے کہ بارے حتمی فیصلہ نہیں آسکا جس کی بنیادی وجہ سیاسی پشت پناہی ہے۔

بے روزگار پڑھے لکھے نوجوانوںنے آئی جی پنجاب ، آرپی او راولپنڈی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک دفتر میں ہونے والی کرپشن ، بدعنوانی کا نوٹس لیا جائے اور ٹریفک دفتر کے شعبہ لائسنسنگ برانچ میں فرض شناس ایماندار افسران وا ہلکاروں کو تعینات کیا جائے تاکہ لائسنسنگ برانچ میں ہونے والی کرپشن ، لوٹ مار، بدعنوانی کا خاتمہ ہوسکے۔

موقف جاننے کے لئے ڈی ایس پی ٹریفک کے دفتر رابطہ قائم کیا گیا،ٹیلیفون ایٹنڈ کرنے والے شخص نے بتایا کہ صاحب میٹنگ پر گئے ہوئے ہیں اگر وہ موقف دینا چاہیں تو ان کا موقف من و عن شائع کیا جائیگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.