دینہ

دینہ کا گاؤں پیر بھچرشریف جاگ گیا، مفت میں ووٹ دینے کی روایت توڑ ڈالی

دینہ (رپورٹ:سید ذوالقرنین شاہ ) دینہ کا گاؤں پیر بھچرشریف جاگ گیا،’’مفت‘‘ میں ووٹ دینے کی روایت توڑ ڈالی۔’’حقوق دو ،ووٹ لو ‘‘کا نعرہ بلند کر دیا۔چار سرکردہ برادریوں کا اعلان۔ن لیگ کی غلامی کو توڑنے کی آواز بلند کر دی۔جو پارٹی الیکشن سے پہلے ہمارے مسائل حل کرے گی۔پورا گاؤں متفقہ طور پر اس کو ووٹ دے گا۔بصورت دیگر الیکشن کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔برادریوں کا فیصلہ۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل دینہ کی یونین کونسل مدوکالس کے معروف گاؤں پیر بھچر شریف کے مکین’’میڈیا‘‘ سے ایک ملاقات میں ن لیگ کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف پھٹ پڑے۔اس گاؤں کی5 سرکردہ برادریوں السادات،چوہدری ،ملک،بٹ،راجہ برادری کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔معززین اور نوجوان طبقہ میں نمبر دار طارق محمود شاہ ،ملک شہزاد الرحمن ،ملک بنارس ،ظہور شاہ ،عمران شاہ ،سید ذوالقرنین شاہ ،چوہدری شفیق ،چوہدری افتخار ٹھیکدار،ملک ظفر اقبال،واجد مسعود بٹ و دیگر شامل تھے۔تمام برادریوں کے سربراہوں اور نوجوانوں نے بھر طریقے سے شرکت کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ گاؤں پیربھچر شریف میں بجلی کا100KV ایک ٹرانسفارمر لگا ہوا ہے،اس کی حالت بھی انتہائی بوسیدہ ہے،گرمیاں تو گرمیاں،سردیوں میں بھی جواب دے جاتا ہے۔فوری طور پر کم از اکم250KVکا ٹرانسفارمر لگایا جائے۔گاؤں کی گلیاں خستہ حالی کا شکار ہیں،بچوں کا پرائمری سکول تک میسر نہیں ہے،صحت کی سہولتیں موجود نہیں ہیں۔ تمام تر بنیادی سہولیات سے محروم یہ گاؤں بھیڑ بکریوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

اجلاس کے شرکاء نے بتایا کہ پورا گاؤں ن لیگ کا ووٹر اور سپورٹر ہے۔ہر الیکشن میں ن لیگ نے یہاں سے کامیابی کے جھنڈے گاڑھے ہیں۔مگرجیتنے کے بعد حلقہ کے ایم پی اے اور ایم این اے گاؤں کا راستہ بھول جاتے ہیں۔سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔مگر اس دفعہ معاملات ایسے نہیں چلیں گے۔ابھی الیکشن ہونے میں چند ماہ باقی ہیں،جو بھی پارٹی،خواہ اس کا تعلق اپوزیشن سے ہی کیوں نہ ہو ہمارے مسائل کو حل کرے گی،سو فیصد اس کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔بصورت دیگر الیکشن کے بائیکاٹ کا بھی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button