پنڈدادنخان

10 ویں صدی میں تعمیر ہونے والے تاریخی قلعہ نندنا فورٹ کی تزئین و آرائش کا کام مکمل کر لیا

پنجاب ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے قدیم پہاڑوں پر قائم 10 ویں صدی میں تعمیر ہونے والے تاریخی قلعہ نند نا فورٹ کی تزئین و آرائش کا کام مکمل کر لیا ، وزیراعظم فروری کے آخری یا مارچ کے پہلے ہفتہ میں اس نئے سیاحتی مقام کا باقاعدہ افتتاح کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق جہلم کی تحصیل پنڈدانخان کے علاقہ باغاں والا میں 1013 سال قدیم نندنا فورٹ میں ہی مشہور مسلم ریاضی دان ابوریحان البیرونی نے زمین کی پہلی بار پیمائش کی ، فورٹ کے اس حصہ کو البیرونی کی تجربہ گاہ بھی کہا جاتا ہے ، قلعہ نندنا قدیم تاریخ کے مطابق اس وقت کے انتہائی متمول ہندو راجہ جے پال نے بنوایا تھا اس کے بعد اس کے بیٹے آنند پال نے یہاں ایک بڑا مندر بھی بنوایا۔

1013 میں محمود غزنوی نے اس قلعہ کو بڑی جنگ کے ساتھ فتح کر لیا، یہاں ایک انتہائی خوبصورت مسجد بھی بنوائی ، مغلیہ دور میں اکبر بادشاہ کا یہ قلعہ پسندیدہ مسکن بھی رہا اس کے ساتھ خوبصورت 3 قدرتی چشمے بھی ہیں ، جو آج بھی موجود ہیں ، ان چشموں کے باعث اکبر بادشاہ نے یہا ں ایک خوبصورت باغ بھی بنوایا تھا ، اکبر بادشاہ یہاں اڑیال کا شکار کیا کرتا تھا، جس میں تمام اقسام کے پھل لگائے گئے تھے۔

مغلوں کے بعد یہ قلعہ سکھ ریاست کے کنٹرول میں چلا گیا، سکھوں کی حکومت ختم ہونے پر یہ پورا علاقہ برطانوی راج کا حصہ بن گیا تھا، یہ ایک بہت اونچائی میں پہاڑی سلسلہ ہے ، اور یہ فوجی لحاظ سے انتہائی محفوظ قلعہ سمجھا جاتا تھا، یہ دفاعی لحاظ سے بہت ہی محفوظ پہاڑی سلسلہ بھی ہے۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر سیاحت آصف محمود نے اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قدیم ترین نندنا فورٹ کی بچی کھچی حالت ، آثار قدیمہ کو ہم نے بڑی مشکل اور محنت کے ساتھ جمع کیاہے ، ابھی یہ کام جاری ہے یہ ایک انتہائی خوبصورت نیا سیاحتی مقام ہوگا، ہم قلعہ روہتاس سے ٹلہ جوگیاں پہاڑی سلسلہ تک ایک انتہائی خوبصورت جیب ٹریول ٹریفک بھی بنا رہے ہیں یہ 22 کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاح جب اس جیب ٹریول ٹریک پر سفر کریں گے ، تو خوب انجوائے کریں گے ، اس کے راستہ میں پکنک پوائنٹ بھی بنارہے ہیں، آرام کے لئے بنچز ، واش رومز، لائٹس بھی لگائی جارہی ہیں ، یہاں خوبصورت ہائیکنگ ٹریفک بھی بن رہاہے ، یہ ہمارا بہت ہی قدیم تاریخی ورثہ ہے ، مندر اور مسجد دونوں کو سیاحو ں کے لئے محفوظ بنا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریاضی دان البیرونی کی زمین کی پیمائش کے مقام کو خصوصی طور پر محفوظ بنایا گیا ، البیرونی کی یہ ریاضی تجربہ گاہ سیاحوں اور ریاضی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ طالبات کے لئے ایک اثاثہ ہوگی ، اس کی قدیم تاریخی اور روایات بھی باقاعدہ تحریر ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button