جہلم

سول ہسپتال جہلم میں بدانتظامی اور نااہلی نے بیڑہ غرق کر دیا، ایک بیڈ پر تین مریضوں کا فارمولا لاگو

جہلم: سول ہسپتال جہلم بدانتظامی اور نااہلی نے بیڑہ غرق کر دیا ، پرچی بنوانا ہی پل صراط بن گیا، تین ہزار مریضوں کیلئے ایک ملازم تعینات ، مریض کئی کئی گھنٹے پرچی کی لائن میں ذلیل وخوار، پل صراط پار کرنے کے بعد بیڈ ہی ناپید ، ایک بیڈ پر تین مریضوں کا فارمولا لاگو، بیڈ نہ ہوں تو مریضوں کو کیسے داخل کریں سول ہسپتال انتظامیہ کا موقف، ڈی سی ، سی او ہیلتھ سب لمبی تان کر سو گئے، مریضوں کی ن لیگی حکومت کو بدعائیں۔

تفصیلات کے مطابق سول ہسپتال جہلم میں میک اپ کے نام پرکروڑوں روپے سے کی رقم ضائع کردی گئی لیکن کوئی نیا وارڈ بنانے کی زحمت نہ کی گئی جس کا خمیازہ اب جہلم کی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے جہاں مریضوں زیادہ اور جگہ کم ہو گئی ہے سول ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی اور بدانتظامی کا یہ عالم ہے کہ دو سے تین ہزار مریضوں کیلئے پہلا پل صراط پرچی بنوانا ہے جہاں تین ہزار مریضوں کیلئے پرچی بنانے کیلئے صرف ایک ملازم تعینات ہے جہاں پرچی بنوانے کیلئے تین سے پانچ گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔

پرچی بنوانے کے پل صراط کو پار کرنے والے جب متعلقہ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو میڈیکل سپیشلسٹ اپنی سیٹ پر ہی موجود نہیں ہوتے اور مریضوں کو ناتجربہ کار میڈیکل آفیسرز کے حوالے کر دیا جاتا ہے پرچی بنوانے کے دوران ہی مریضوں تڑپتے اور چیختے چلاتے نظرا ٓتے ہیں ایم ایس اور ڈی ایم ایس کے زیر کنٹرول سینکڑوں ملازمین میں سے یہاں کسی کو تعینات کرکے مریضوں کی مشکلات کو کم کرنا شاید ایم ایس چوہدری خالد نے اپنی توہین سمجھ رکھا ہے۔

ہسپتال میں بد انتظامی کا یہ عالم ہے کہ میڈیکل ، سرجیکل ، گائنی وارڈزمیں ایک ایک بیڈ پر تین تین مریضوں کو لٹا کر گزارہ کیا جارہا ہے جبکہ اکثر مریضوں کو بیڈ نہ ہونے کی وجہ سے داخل ہی نہیں کیا جاتا، ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی ا سقدر بڑھ چکی ہے کہ آپریشن کروانے والے مریضوں خصوصا خواتین کو آپریشن سے اگلے دن ہی بیڈ خالی کرنے کا حکم سنا کر گھر بھیج دیا جاتا ہے۔

اس حوالے سے انتظامیہ کے بعض افسران کا کہنا ہے کہ ہسپتا ل میں جگہ انتہائی کم پڑچکی ہے بیڈ دستیاب نہیں، میڈیکل سپیشلسٹ دن بھر میں صرف پچاس سے ستر مریضوں کو چیک کرکے گھروں کو چلے جاتے ہیں ہمارے پاس جگہ اور بیڈ ہی نہیں تو ہم مریضوں کو داخل کرکے کہاں رکھیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ن لیگی حکومت نے کروڑوں روپے میک اپ پر ضائع کردئیے کوئی وارڈ نہیں بنائی اب ہم جائیں تو کہاں جائیں ، پرچی بنانے کیلئے پانچ سے دس آدمی تعینات کرنے کی بجائے ایک ملازم تعینات کر دیا گیا ہے چھ چھ گھنٹے سے لائنوں میں لگے ہیں مریض بیماری سے تڑپ رہے ہیں ہماری آواز کون سنے گا ڈی سی ، سی او ہیلتھ نے ہسپتال کے معاملات سے مکمل لاتعلقی اختیار کر رکھی ہے ۔

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button