جہلم

گورنمنٹ گرلز اسلامیہ ہائیر سکینڈری سکول جہلم میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

جہلم: گو رنمنٹ گرلز اسلامیہ ہائیر سکینڈری سکول جہلم میں بے ضابطگیاں عروج پر ،عوامی سماجی حلقوں کا پرنسپل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ ۔

ذرائع کے مطابق گو رنمنٹ گرلز اسلامیہ ہائیر سکینڈری سکول جہلم کی پرنسپل نے مدرسہ ہذا میں اپنی رہائش اختیار کر رکھی ہے ، اس طرح سرکاری خزانے کو ماہانہ کی بنیاد پر چونا لگایا جا رہاہے ۔بجلی ،پانی اور گیس کا بل بھی سرکاری فنڈز سے ادا کیا جاتا ہے۔ مدرسہ ہذا کا چوکیدار بمع اہل و عیال سکول کے اندر مستقل رہائش اختیار کر رکھی ہے ۔ چیک اینڈ بیلنس کا نظام موثر نہ ہونے کی وجہ سے چوکیدار بھی بجلی اور گیس کا بل بھی سرکاری فنڈ زسے اداکرنا اپنا قانونی حق سمجھتا ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیاہے کہ پرنسپل 25 اگست کو مدت ملازمت مکمل ہونے پر ریٹائرہورہی ہیں کے ذاتی کاغذات جن میں شناختی کارڈ ، میٹرک کی سند سمیت دیگر اسناد و ڈگریاں ہیں ان میں درج تاریخوں کا واضح فرق ہے۔شناختی کارڈ پر تاریخ پیدائش 29-01-1965 ہے جبکہ اسناد پر 1958 درج ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ پرنسپل کی آغاز ملازمت میں بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

عوامی سماجی حلقوں نے سیکرٹری سکول ،ڈی سی جہلم اور سی ای او ایجوکیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ سکول میں کھیلوں کے سلسلے میں جتنے انعامات خریدے گئے اور کھلاڑیوں نے جہاں جہاں سفر کیا اور سکول ہذا میں کھیلوں کے سلسلے میں جتنے بھی پروگرامز کا انعقاد ہوا 2013 سے اب تک اس کا آڈٹ کرایا جائے اس مد میں بھی بہت سی مالی بے ضابطگیوں کا شبہ پایا جاتا ہے جس کا آڈٹ ہونا انتہائی ضروری ہے ۔

موقف جاننے کے لئے گورنمنٹ گرلز اسلامیہ ہائیر سیکنڈری سکول کی پرنسپل سے رابطہ کرنے کے لئے فون کیا گیا لیکن فون اٹینڈ نہ ہوسکا اگر وہ اپنا موقف دینا چاہیں تو ان کا موقف بھی من و عن شائع کیا جائیگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button