دینہ

دینہ میں اوور ہیڈ برج یا انڈر بائی پاس نہ ہونے سے پیدل چلنے والوں کو سڑک کراس کرنے میں شدید دشواری کا سامنا

دینہ: اوور ہیڈ برج یا انڈر بائی پاس نہ ہونے سے پیدل چلنے والوں کو سڑک کراس کرنے میں شدید دشواری کا سامنا، سڑک کراس کرتے ہوئے گزشتہ کچھ عرصہ میں 100سے زائد اموات اور لاتعداد افراد ہاتھ پاؤں سے محروم ہو چکے ہیں، شدید زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد بچوں، بوڑھوں اور خواتین کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکو مت ٹریفک کی روانی میں بہتری کیلئے سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر پر اگرچہ اربوں روپے خرچ کر رہی لیکن پیدل افراد کی سہولت کیلئے اوور ہیڈ برج یا انڈر بائی پاس کی تعمیر پر توجہ نہیں دی جا رہی۔

مدوکالس، دینہ، نکودر، ہڈالہ، ساگری، کرلہ، چک الماس اور اس کے گردونواح کے عوام نے ’’میڈیا‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر سیاستدان نے جب بھی ووٹ لینے کا وقت آیا تو عوام سے سوئی گیس لانے ، انڈر بائی پاس اور اوور ہیڈ برج بنوانے کا وعدہ کر کے ووٹ حاصل کئے مگر تمام سیاسیوں کے وعدے آج تک وفا نہ ہو سکے۔ اس کے برعکس دینہ جی ٹی روڈ پر کئی خواتین ، مرد، بوڑھے ، بچے وغیرہ کراس کرتے ہوئے لقمہ اجل بن گئے لا تعداد چولہے ٹھنڈے ہو گئے کئی ماؤں کی گود اجڑ گئی مگر نہ تو حکومت کو خیال آیا اور نہ ہی سیاست دانوں کی روش بدلی۔

انہوں نے کہا کہ روزانہ سینکڑوں افراد ایک طرف سے دوسری طرف آتے جاتے ہیں جبکہ رش کے اوقات میں طلباء ، خواتین کی کثیر تعداد اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر روڈ کراس کرتی ہیں جبکہ بزرگ افراد کو سڑک کراس کرنے کیلئے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے ۔

عوام نے کہا کہ مین چوک اور کشمیر کا گیٹ وے پر عوام کا ہجوم لگا رہتا ہے یہاں مین روڈ کے دونوں اطراف شاپنگ بازار ہیں جہاں اکثر و بیشتر گاہکوں کا رش لگا رہتا ہے اور گاہک خریداری کے سلسلے میں بھی مین چوک دینہ کو کراس کرتے ہیں اس طرح تیز رفتار گاڑیاں انہیں کچل کر اکثر بیشتر بھاگ جاتے ہیں۔ کئی شدید زخمی ہو کر بستر مرگ پر زندگی کی آہوں، سسکیوں کے دوراہے پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

شہریوں کی بڑی تعداد نے دینہ سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے وفاقی وزیر فواد چوہدری،ایم این اے چوہدری فرخ الطاف،ایم پی اے راجہ یاور کمال سے اپیل کی ہے کہ دینہ میں اوور ہیڈ برج یا انڈر بائی پاس کی اشد ضرورت ہے، اسے جلد از جلد تعمیر کیا جائے تا کہ مزید اموات نہ ہو سکیں اور شہری سکون سے شہر کے ایک طرف سے دوسری طرف بغیر کسی تکلیف کے پہنچ سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button