تبدیلی والی کابینہ

تحریر: محمد امجد بٹ

0

بادشاہ موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا تھا جبکہ دربار سے عوام تک ہر خاص وعام میں زبان پر ایک ہی سوال تھا کہ ’’ اب کون بنے گا نیا بادشاہ ؟

کیونکہ بادشاہ بے اولاد تھا اور ملکہ عالیہ کا بھی کچھ روز قبل انتقال ہو چکا تھا اب شاہی خاندان میں صرف بادشاہ کا بڑا بھائی مو جودتھا لیکن ان کے والد نے بادشاہت کے لئے چھوٹے بھائی کو نامزد کیا تو وہ ناراض ہو کر دوسرے ملک چلا گیا اور وہاں درس تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا اسے جب بادشا ہ کی ناسازی طبیعت کا پتہ چلا تو وہ مو قعہ غنیمت پا کر اپنے ملک پہنچا اور اعلان کیا کہ وہ ملک کا نیا بادشاہ وہو گا کیونکہ اسکی رگوں میں شاہی خون ہے وزرا نے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ آپ تو اس منصب کیلئے نااہل قرار دئیے جاچکے ہیں ۔

اس نے کہا ’’ ابا جان پرانی سوچ کے مالک ہیں ہر شخص میں گونا گوں صلاحتیں موجود ہوتی ہیں اور منصب ملنے پر وہ آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے ‘‘

وزرا کے پاس کوئی چار ہ نہ تھا بادشاہ کی وفات کے بعد یہ نیا بادشاہ بن گیا اور آتے ہی بہت سی تبدیلیاں کیں، قوانین بدل دئیے اصلاحات کے نام سے نئے سلسلے شروع کئے گئے جو سارے فلاپ ہوتے گئے ایک روز نئے بادشاہ نے اعلان کیا کہ ہر شخص میں گونا گوں صلاحتیں موجود ہوتی ہیں اور منصب ملنے پر وہ آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے ‘‘او ر یہ کیا کہ کئی ملازمین میرے دادا کے زمانے سے ایک ہی کام کررہے ہیں ہم حکم دیتے ہیں کہ کسی بھی شخص کو تمام عمر ایک جگہ نہ رکھا جائے بلکہ کچھ وقت کے بعد تبدیل کر دیا جائے ۔

بادشاہ نے فوج کی تعداد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی فوج فارغ بیٹھی رہتی ہے لہذا شاہی فرمان کے تحت جس محکمہ میں جگہ خالی ہو وہاں فوج کو لگایا جائے ‘‘۔

فیصلہ پر کھلبلی مچ گئی اور سب نے اسے غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے مخالفت کی لیکن بادشاہ کے آگے سب کو خاموش ہو ناپڑا ، ایک صبح بادشاہ نے شاہی لباس منگوایا تو اس کی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ اس کا رنگ پھیکا اور وہ جگہ جگہ سے پھٹا اور ادھڑاہو اتھا ۔ اس نے غصے سے پوچھا ’’ یہ کیا مذاق ہے‘‘‘؟؟؟ جاہ پناہ سب دھوبی دربار سے جاچکے ان کی جگہ آپ کے حکم پر فوجیوں کو لگایا گیا ہے اور ہر شخص میں گونا گوں صلاحتیں موجود ہوتی ہیں اور منصب ملنے پر وہ آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے ‘‘دوسرے وزیر نے کہا۔

بادشاہ غصے میں ناشتے کی میز پر بیٹھا اور ناشتہ دیکھتے ہی آگ بگولہ ہو گیا اور کہا ’’یہ کس قسم کا ناشتہ ہے‘‘؟؟

وزیر نے کہا تما م باورچی فارغ کر کے فوجیوں کو لگایا گیا ہے۔ دوسرے وزیر نے کہا۔

ہر شخص میں گونا گوں صلاحتیں موجود ہوتی ہیں اور منصب ملنے پر وہ آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے ‘‘بادشاہ غصے میں وہاں سے چل دیا اور اپنی گھوڑا گاڑی پر سوار ہو گیاتھوڑی دیر بعد ایک جھٹکا لگا اور بادشاہ گر گیا اور اسکی ٹانگ ٹوٹ گئی بادشاہ چلایا کیا تم کو گھوڑا گاڑی چلانی نہیں آتی؟؟؟

وزیر نے کہا کہ گھوڑا گاڑی والے کو دوسر ے محکمہ میں بھیج کر چرواہوں کو بھرتی کیا گیا جہاں پناہ ہر شخص میں گونا گوں صلاحتیں موجود ہوتی ہیں اور منصب ملنے پر وہ آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے ‘‘۔

بادشاہ چلایا ارے بد بختو طبیب کو بلاو

طبیب آیا تو اس نے ایک سفوف بادشاہ کی ٹانگ پر لگایا جس سے جلن اور بڑھ گئی بادشاہ چلایا یہ کیا لگا دیا ہے؟؟؟؟؟؟ میری ٹانگ کا گوشت پھٹ گیا ہے اسے جلدی سے اتارو، وزیر نے کہا کہ شاہی طبیب کی جگہ دھوبی بھرتی کیا گیا ہے اور حضور والا ہر شخص میں گونا گوں صلاحتیں موجود ہوتی ہیں اور منصب ملنے پر وہ آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے ‘‘ یہ بھی سیکھ جائے گا۔

بادشاہ غصے سے لال پیلا ہو گیا اور کہا کہ بکواس بند کرو اور مجھے شفاخانے لے چلو

فوری طور پر پالکی منگوائی گئی جوں ہی بادشاہ سوار ہو ا وہ ڈولنے لگی ۔ بادشاہ کھبی یہاں کبھی وہاں،،،،،،اس نے دیکھا تو درباری رقاص اسکی پالکی اٹھائے ہوئے تھے۔

بادشاہ چیخا ۔۔۔۔۔ اف خدایا!!!!!!!! یہ تو ہماری جان لینے کا منصوبہ ہے اسکو روکو نہیں تو میں گرجاوں گا پالکی روکنے سے قبل ہی الٹ گئی اور بادشاہ زمین پر دراز ہو گیا

درباری رقاص اسکے ٓگے پیچھے رقص کر رہے تھے اور اپنے تائیں کوس رہے تھے۔بادشاہ ادھر ادھر ہمدردانہ نظرو ںسے دیکھنے لگا

اسی اثناء ایک بھاری بھرکم شخص نے بادشاہ کو کندھے سے اٹھا کر سر کے برابراٹھایا تو بادشاہ چیخا ْْْ او ے ۔۔۔۔۔۔۔میں بادشاہ ہو ں کوئی بوری نہیں۔

وزیر نے کہا کہ بادشاہ سلامت یہ تن ساز ہے اور سرکاری ویٹ لفٹر ہے فوجی کی جگہ یہ آپ کا باڈی گارڈ ہے۔

جناب ہر شخص میں گونا گوں صلاحتیں موجود ہوتی ہیں اور منصب ملنے پر وہ آہستہ آہستہ سیکھ جاتا ہے ‘‘

بند کرو یہ بکواس ، بادشاہ چلایا اور کہا آج سے ہر عہدے کیلئے مناسب اور موزوں شخص کو بھرتی کرو لیکن جہاں پناہ آپ نے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟

دوسرا وزیر کہنے والا تھا کہ بادشاہ چلایا۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔۔ ہاں۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں

فورا کسی قابل اور ذہین شخص کو لایا جائے اور اس کو بادشاہ بنایا جائے اگر میں مذید اس عہدے پر فائز رہا تو پھر تمہارا

’’نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری‘‘

زندگی کے کسی شعبے کے لیے جہاں نئے خون اور جذبوں کی ضرورت ہے وہیں پرانے اور تجربہ کارلوگوں کا وجودنا گزیر ہوتا ہے۔ یہ تو سب نے سن رکھا ہے کہ ــ’’ نیا ایک دن پرانا سو دنــ‘‘

نئے پاکستان کی تعمیر کے لیے بھی تجربہ کار مستری ضروری ہیں ۔ ملک کو تجربہ گاہ بنانے کی بجائے امن گاہ بنائیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.