جہلم

پرائیویٹ سکولوں میں داخلہ اور ماہانہ ہزاروں روپے فیسیں جبکہ پڑھائی صفر، گلی گلی میں کارروباری مراکز قائم ہوگئے

جہلم: پرائیویٹ سکولوں میں داخلہ اور ماہانہ ہزاروں روپے فیسیں جبکہ پڑھائی صفر، گلی گلی میں کارروباری مراکز قائم ہوگئے، ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی۔

تفصیلات کے مطابق شہر کے گلی محلوںمیں پرائیویٹ سکولوں کی بھرمار ہو چکی ہے 5 مرلے کے مکانوں میں سکول بنا کر مڈل میٹرک پاس اساتذہ سے انگلش میڈیم بچوں کی پڑھائی کا کام لیا جارہا ہے ، پہلے داخلہ کے نام پر ہزاروں روپے فیس وصول کی جاتی ہے اور پورا سال ہزاروں روپے ماہانہ فیس کے نام پر بٹورے جاتے ہیں، جبکہ پڑھنے والے بچے تعلیم کی الف ب سے بھی نا آشنا ہوتے ہیں۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بیشتر سکول غیر رجسٹرڈ ہیں بااثر مالکان نے ایک سکول کی رجسٹریشن کروانے کے بعد جگہ جگہ ایک ہی رجسٹریشن پر سکول قائم کررکھے ہیں جہاں تعلیم کے نام پر کھلواڑ کیا جارہاہے تمام غیر رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولزمالکان نے اپنے اپنے سلیبس اور اپنی مخصوص وردیاں سکولوں سمیت مخصوص دکانوں پر رکھوا رکھی ہیں جہاں وردی سمیت کتابوں کی مد میں لاکھوں روپے اینٹھے جا رہے ہیں۔

صرف نرسری اور پریپ کی کلاسوں کی کتابوں کا سیٹ بھی خریدنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں ، اسی طرح وردی بھی 1 ہزار روپے سے کم نہیں آتی اور سکول انتظامیہ کی طرف سے بچوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ جیب خرچ ضرور لائیں اور سکول کی کینٹین سے ہی اشیاء خوردونوش کی خریداری کر یں جبکہ جو بچہ جیب خرچ نہ لائے اسے مختلف طریقوں سے ذہنی ٹارچر کیا جاتا ہے اور کینٹین پر جو اشیاء فروخت کے لئے رکھوائی گئیں ہیں وہ بچوں کے لئے انتہائی مضر صحت ہیں۔

اس طرح5روپے والی اشیاء 10 روپے میں فروخت کی جاتی ہے جبکہ سکولز میں سکیورٹی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے بچوں کے سروں پر خطرات کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں ، سکولز کا چپڑاسی، کلرک اور سیکورٹی گارڈ کا کام ایک ہی شخص کو سونپ رکھا ہے، ضلعی حکومت اور محکمہ تعلیم کی جانب سے ان غیر رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولز کا کوئی ریکارڈ یا چیک اینڈ بیلنس نہیں۔

شہریوں نے کمشنر راولپنڈی ، ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر و گردونواح میں کھلنے والے کارروباری مراکز کی باضابطہ رجسٹریشن کی جائے اور سکولوں کی فیسیں مقرر کی جائیں تاکہ غریب امیر اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button