سوہاوہاہم خبریں

ضلع جہلم میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی سیاسی موسم بھی تبدیل ہونا شروع ہوگیا

سوہاوہ: ضلع جہلم میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی سیاسی موسم بھی تبدیل ہونا شروع ہوگیا، آنے والے دنوں میں اسکے نئے سیاسی خدو خال سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔
باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دونوں دھڑے ایک دوسرے کے سامنے مورچہ زن دکھائی دیتے ہیں ابھی تک مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ن) ورکر گروپ میں قیادت نے صلح کروانے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور نہ ہی دونوںمیں باہمی مشاورت کا سلسلہ شروع کروایا جا سکا۔
دوسری طرف اس وقت جہلم سے پڑی درویزاںاور جہلم سے کندوال تک پاکستان تحریک انصاف کے دو دھڑے ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے ورکرز نے الگ الگ گروپ قائم کر رکھے ہیں ، اس پر مقامی تبصرہ نگار تبصرے کر رہے ہیں ، اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے منتخب ممبران اور پاکستان تحریک انصاف کی تنظیم کے درمیان واضح تقسیم نظرآتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق 50 فیصد پی ٹی آئی کے کارکن تنظیم کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ 50 فیصد منتخب قیادت کے دائیں بائیں موجود ہیں ، جبکہ سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد بھی پی ٹی آئی کے منتخب ممبران کے ساتھ فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں ۔
پی ٹی آئی اور (ن) لیگ کے دونوں دھڑوں کیوجہ سے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو آمدہ انتخابات میں ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔
بہرحال ضلع جہلم میں سیاسی توازن کا بحران پیداہوچکا ہے ، اگر دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت نے بروقت کردار ادا نہ کیا تو آمدہ بلدیاتی اور عام انتخابات میں دونوں سیاسی جماعتوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ بھی ہے اور تیسری جماعت اس کا بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button