ہوٹلوں، ورکشاپس، منی فیکٹریوں اور دکانوں پر سینکڑوں بچوں سے جبری مشقت کا سلسلہ جاری و ساری

0

جہلم: ضلع بھر میں ورکشاپوں ،منی فیکٹریوں ، ہوٹلوں اور دیگر جگہوں پر بچوں سے جبری مشقت کے خاتمہ کیلئے ضلعی افسران کو لیبر انسپکٹرز کے اختیارات کی منتقلی نہ ہو سکی، چائلڈ لیبر کا خاتمہ حکومت پنجاب کے لئے ایک چیلنج بن کر رہ گیا۔

ذرائع کے مطابق جہلم ضلع بھر میں ہوٹلوں ،و رکشاپس ،منی فیکٹریوں اور دکانوں پرسینکڑوں بچوں سے جبری مشقت کا سلسلہ جاری و ساری ہے ، بھٹہ خشت کے بعد متذکرہ جگہوں پر بچوں کی جبری مشقت کے خاتمہ اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے اقدمات کا آغاز کرتے ہوئے اس حوالے سے سیکرٹری لیبر اینڈ ہومن ریسورسز ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی طرف سے جہلم سمیت راولپنڈی ڈویژن کے چاروں اضلاع کے ڈی سیز و ڈی پی اوز کو خصوصی گائیڈ لائن ارسال کی گئی تھیں۔

اس کے بعد نگرانی کیلئے ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنر ز، ڈی پی اوز ، ایس ڈی پی اوز اور اسسٹنٹ کمشنرز پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دیگر ممبران کو لیبر انسپکٹرز کے اختیارات تفویض کر دیئے گئے تھے ،لمحہ فکریہ ہے کہ متذکرہ کاغذی کارروائی پر عملدرآمد ہی نہیں ہوسکا ۔ ایک سال سے یہ کاغذی کارروائی عملی اقدامات کی منتظر ہے۔

ڈپٹی سیکرٹری امپلی می ٹیشن لیبر اینڈ ہیومن ریسورسز ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جہلم سمیت راولپنڈی ڈویژن کے چاروں ضلعی سربراہان کو ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کارروائی جبکہ غیر قانونی اقدامات کرنیوالے مالکان کیخلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.