شیخ المحدثین پیر سیدجلال الدین شاہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ اور آپ کی خدمات

تحریر: محمد برھان الحق جلالی (جہلم)

0

کو کب برج معرفت ــ، شیخ ، المحدثین،فخرالمدرسین ،سیدالمفسرین ،عمدۃالمحققین ،زبدۃالمدققین ،فخرالامائل والا کابر،سند المحدثین ، سراج السالکین ، دلیل الکاملین ، شیخ الاسلام والمسلمین ،حافظ شروح ومتون، جامع البواطن الظواہر ، حامل علوم وفنون ، حاوی فروع و اصول ، پیکرعلم و عمل ، رأ س الفقہا، بحرالعلو م والفنون ، جنید زمان ، واقف علوم ظاہری و باطنی، عابد شب زندہ دار، برق رضا، وارث سید الا نبیاء بے لوثی و بے نفسی کے عظیم پیکر ، کوہ علم واستقامت، عظیم مصلح، مناظر اسلام ، ر ضوی سلاسل کے عظیم مقتدی،حافظ القرآن والحدیث جناب پیر سید محمد جلال الدین شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے کہ جن کا ہر عمل قرآن وحدیث کی روشنی میں ہواکرتا ہے جو کہ خاص و عام کیلئے مینار ہ نور ہوتی ہیں۔ جن کے عمل کے بحر بیکراں سے ہر کوئی استفادہ کرتا ہے۔ جنہوں نے زندگی کے ہر شعبہ میںکام کیا ہوجن کا مبارک وجود آ نے و الی نسلوں کیلئے ایک چراغ کی حیثیت رکھتا ہے دوسرے الفاظ میں کوئی بھی شخصیت جتنی فیض رساں ہوتی ہے خلق خدا اسے اتنا ہی یاد کیا کرتی ہے۔
حضور حافظ الحدیث پیر سید محمد جلال الدین شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ آپ حقیقت ، معرفت، طریقت اور شریعت کے بحر بے کنار تھے آپ علوم عالیہ اور آلیہ پر کامل دسترس رکھتے تھے۔
۱) بحیثیت مدرس
آپ کے انداز تربیت وتدریس پر کچھ گفتگو کریں تو شیح الخووالصرف ، ماہر امور فصاحت و بلاغت ،استاذالاساتذہ، استاذالعلماء ، حضرت علامہ مولانا حافظ محمد نذیر صاحب دامت بر کا تہم القدسیہ فرماتے ہیں کہ
۱۔ قبلہ شاہ صاحب زیادہ سے زیادہ محنت کے قائل تھے۔
۲۔ طلبا ء کی معقول بات پر حوصلہ افزائی فرماتے۔
۳۔ آپ ایک ہی طالب علم سے عبارت پڑھوانے کے قائل نہ تھے نہ ہی باری کے ساتھ بلکہ کسی سے بھی پڑ ھوالیتے۔
۴۔ آپ پابندی سے عبادت پڑھواتے۔
۵۔ آپ اکثر فرماتاکر تے کہ اساتذہ کو اپنا ظاہر وباطن درست رکھنا چاہیے تا کہ طلباء کیلئے عملی نمونہ بننا چاہیے۔
۶۔حضرت حافظ الحدیث فرماتے کہ دینی تعلیم کو مبادی علوم وفنون کے ساتھ عبادت وریاضت قرار دیتے۔
پیر سید جلال الدین شاہ صاحب اعلیٰ پائے کے مدرس تھے۔ شاہ صاحب معقول ومنقول اسباق خود پڑھایا کرتے تھے کی مختصر کلام میں ذہین و فطین ذی استعداد طلباء ــــــ,,کند ذہن ،، بھی مطمئن ہو جایا کرتے تھے ۔ میرے حضورحافظ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ کے طریقہ تدریس میں اصلاح احوال اور تحقیق کا پہلو نمایاں ہوتا اور تربیت میں یہاں تک سختی کہ جامعہ کے بورڈکے اوپر لکھا ہوا تھا کہ طلباء کی مستحبات کی پابندی ہے۔
جب کوئی آپ سے کوئی مسٔلہ دریافت کرنے آتا تو آپ بیان کرنے کے بعد فرماتے کہ میرے فلاں کمرہ کی فلاں الماری کی فلاں شیلف میں فلاں کتاب ہو گی اس کے صفحہ کی سطر نمبر فلاں پر تمہارا مسٔلہ رقم ہے ۔المختصر آپ کا انداز تدریس ایسا کہ ہر طرف طلباء آپ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔
۲ ) بحیثیت مربی
قبلہ شاہ صاحب لوگوں کے ظاہر و باطن کی اصلا ح فرماتے جب آپ کے طلباء مہمان وغیرہ جمع ہوتے تو آپ مختصر اصلاح احوال پر مبنی فقرہ لازمی ارشاد فرماتے ۔
آپ نے طلباء وغیرہ کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کیا اور زنگ آلودمزاج کو صیقل کیا آپکی ہر ہر ادا میں وعظ و نصیحت ہو تی تھی آپ نے طلباء کی تربیت جلال سے بھی کی کمال سے بھی کی اسباق سے بھی کی۔ اخلاق سے بھی کی قول و فعل ،علم و عمل سے بھی کی دعا سے بھی کی دوا سے بھی کی۔درسگاہ سے بھی کی نگاہ سے بھی کی ۔ آپ نے اپنے مکتوبات ؍ خطوط کے ذریعے بھی ہر خاص و عام اصلاح کیاور ہر خط کے آخر پر رقم فرماتے۔
,,اللہ بس ماسوری اللہ ہوس ۔ دنیا یوم چند آخر کار باخدا وند،،
آپ سے صرف شاگردی اختیار کرنیوالوں پر بھی آپکی تربیت حاصل نہ کی بلکہ زندگی میں ایک بار ملاقات کرنیوالوں پر بھی آپ کی تربیت کا اثر ہوا۔
۳ ) بحثییت مرشد
میرے حضور حافظ الحدیث شریعت و طریقت کا علم و عرفان کا حسین امتزاج تھے آپ ایسے مرشد کامل تھے کہ جس مرید کو جس طرح کی اصلاح کی ضرورت ہوتی اصلاح فرماتے ۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ اولیاء کرام کے قائم کردہ خانقاہ ہی نظام اسلوب تربیت اور انداز اصلاح کے مطابق تربیت فرماتے ۔ آپ آج کل کے نام نہاد مرشد وں کی طاقرح نہ تھے کہ جن کا مقصد مریدوں کی تعداد میں اضافہ کرنا اور بس بلکہ آپ تو مریدوں کو ہر طرح سے اصلاح فرماتے ۔ اگر ان پر تنگ دستی ہو تو مدد فرماتے الغرض کوئی بھی مسئلہ ہوتا شفقت و مہربانی فرماتے۔
۴ ) بحثییت سماجی ورکر
آقا ئے نامدار ، مدنی تاجدار ، تاجدار مدینہ ﷺ نے خدمت خلق پر بہت زور دیا ہے حقوق العباد پراسلام نے بہت زور دیا ہے اسلام نے حکم دیا ہے کہ بھوکوں کو کھانا کھلائیں، بے سہاروں کا سہارا بنیں ، غمزدوں کا غم دور کریں، تخلیق انسانیت کے حوالے سے اگر عمیق مطالعہ کیا جائے تو یہ بات ابھر کر سامنے آتی ہے کہ انسان کی تخلیق ایک دوسرے انسان کے ساتھ محبت، مروت، اخلاق و اخلاصاور ایثار قربانی پر منحصر ہے قرآن حکیم کے تمام تر احکام انسان کے متعلق ہیں۔ تخلیق کائنات انسان کی فلاح وبہبود اور اس کی دنیاوی خیریت اور اخروی نجات کیلئے ہے تا کہ وہ اعلیٰ مقام انسانیت حاصل کر سکے ۔ خدمت خلق رضائے الہیٰ اور محبت الہیٰ کے حصول کا بہت بڑا اور مضبوط ذریعہ ہے اب ہم اگلی چند سطور میں قبلہ حضور حافظ الحدیث کی چندسماجی خدمات پر طائر انہ نظر ڈالتے ہیں
مھاجرین کی آباد کاری
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کے فوراًبعد سب سے بڑا مسئلہ مہاجرین کو آباد کر نا تھا میرے حضور حافظ الحدیث نے اس سلسلے میں اہم کار ہائے نمایاں سر انجام دیے۔شعبہ حفظ قرأت کی عمارت موسوم پہ چھوٹا مدرسہ آپ نے انسانی ہمدردی اور سماجی خدمت کے جذبے سے کچھ عمارت تعلیمی مقاصد کیلئے رکھی بقیہ میں مہاجرین کو آباد کیا۔ اپنے خرچہ سے زمینیں خرید کر مہاجرین کو آباد کیا۔ حضور محدث اعظم مو لا ناسردار احمد صاحب نے بھی ہجرت کے بعد بھکھی شریف قیام کیاتقریباً۶ ماہ مدرسہ کے ساتھ مکانات میں بھی مہاجرین کو ٹھہرایا۔
لوگوںکی کفالت
حضور حافظ الحدیث نے کئی افراد کی کفالت کا ذمہ خود لیا اور ان کی پرورش کی اور احسن انداز میں ان کی پرورش و تربیت کی۔ان کی تعلیم کا بھی معقول انتظام کیا اور شادی بیاہ کے اہم فریضے بھی سر انجام دیے۔ الغرض کئی خاندانوں ؍ کئی افراد کی پرورش و تربیت ایسے بہترین انداز سے کی کہ انہیں کبھی ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت کی محرومی کا احساس نہ ہوا۔
مسکینوں ؍یتیموں میںعیدی ؍امداد کی تقسیم
قبلہ حضور حافظ الحدیث مسکینوں ، یتیموںاور بیواؤں کی عیدی وغیرہ کے ذریعے امداد فرماتے جو کہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔
روزگار سکیم حضور حافظ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ نے کئی لوگوں کو روزگار دیا ۔ روزگار کے مواقع دیے ۔ روزگار حاصل کرنے کا مناسب بندوبست کر کے دیا
گھروں کی تعمیر
کسی بے گھر کو گھر بنا کر دینا بہت بڑی سماجی خدمت ہے ۔ آپ نے غریب و متوسط طبقے کے بے گھر افراد کو گھر مہیا کئے ۔ حضور حافظ الحدیث نے جامعہ محمد یہ بھکھی شریف کے اردگرد رقبہ متوسط غریب بے گھر افراد کو دیا ۔ آپ نے لوگوں کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے ان کو اس کے مطابق گھر وں کو الاٹ فرمایا۔
روزگار سکیم
حضور حافظ الاحدیث رحمتہ اللہ علیہ نے کئی افراد کو جلیبی چائے کا کاروبار کرنے کیلئے دکان پر سودا سلف رکھوایا کئی افراد کو روزگار شروع کرنے کیلئے رقم عطا فرمائی ۔ کچھ کو ہوزری کا کاروبار شروع کروایا۔
رفاہ عامہ پروگرامز
حضورحافظ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ نے رفاہ عامہ کے پروگرامز میںبے پناہ حصہ لیا روڈکی تعمیرو توسیع ہو یا لڑکوںکا سکول پرائمری سے مڈل پھر ہائی ، شاملاٹ زمین کا استعمال ہو ، کھاد ایجنسی ہو، چینی و مکئی کا کوٹہ ہو یا پھر قرض حسنہ کا پروگرام ہو یہ سب آپ کے ہی مرہون منت ہو۔
جلالیہ فاؤنڈیشن
حضور حافظ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ آپ کے جانشین حضور قبلہ ثانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور اب جگر گوشہ جانشین حضرت حافظ الحدیث قبلہ پیر سید محمد نوید الحسن شاہ صاحب مشہدی دامت برکاتہم العالیہ جلالیہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سماجی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
حضورحافظ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ بحیثیت مناظر
حضورحافظ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھیںآپ نے کدھر شریف میں بھی مناظرے کئے آپ نے زبدۃ العارفین حضور پیر سید خواجہ نور الحسن شاہ صاحب بخاری رحمتہ اللہ علیہ کی سر پرستی میں آپ نے کئی مناظر ے کئے اور بد مذہبوں کو شکست فاش دی ۔ پھر آپ کے لخت جگر شیر اہلسنت پیر سید محمد عرفان شاہ صاحب نے وہابیت کو للکارا اور کاری ضرب لگائی ۔ آج بھی وہ حق کو بلند کرنے کے لئے سر گرم ہیں۔
حضور حافظ الحدیث رحمہ اللہ بحیثیت سیاسی رھنما:۔
آپ نے دوسری بے شمار مصروفیات کے علاوہ سیاست میں بھی بطور عبادت حصہ لیا آپ نے جمہوریت اسلامیہ کے پلیٹ فارم سے قیام پاکستان کیلئے کوشش کی جمیعت کے قیام کے بعد پہلے ضلعی صدر ،مرکزی کونسل کے ممبر رہے تحریک ختم نبوت ،تحریک نظام مصطفی ﷺ میں فکری اور عملی رہنمائی فرمائی۔
بحیثیت مفتی:۔
آپ اعلیٰ پائے کے مفتی تھے۔کئی مفتیان عظام کئی مسائل میں قبلہ شاہ صاحب رحمہ اللہ کی طرف رجوع کیا کرتے تھے ۔آپ کو مولانا شاہ مصطفی رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے خصوصی فتوی نویسی کی تربیت دی۔
بحیثیت شیخ الحدیث:۔
آپ جب حدیث نبی ﷺ کو بیان فرماتے تو ہر عام و خاص پر حدیث کا مفہوم ایسا عیاں ہو جاتا کہ ان کی حدیث سمجھنے کی پیاس ختم ہو جاتی آپ حدیث کو پڑھاتے ہوئے اگر حدیث میں تعارض آجاتا تو اس تعارض کو ایسا دورفرماتے ایسی تطبیق کرتے کہ مذہب پر کوئی گردوغبار نہ آتا اور کسی کو سوال کرنے کی مہلت نہ مل سکے۔
بحیثیت قاضی:۔
حضورحافظ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ تنازعات و معاملات میں فیصلہ کرنے میں غیر معمولی حیثیت رکھتے تھے آپ کے پاس ملک کے گوشے گوشے سے فتاویٰ و قضایا کیلئے لوگوں کا مجمع لگا رہتا جہاں آپ ان کے گھریلو معاملات اور زمینی جھگڑوں تک کے مسائل کے فیصلے شرعی اصولوں کے مطابق فرماتے وہاں کی روحانی تربیت و اصلاح بھی فرماتے فریقین کے درمیان باہمی رنجش یا ناراضگی بھی ہوتی تو وہ اسے وہیں ختم فرما دیتے۔
ساری زندگی اتباع مصطفی ﷺ:۔
حضورحافظ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ کا ہر کام سنت نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھاحضورحافظ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ کا ہر کام اسوئہ حسنہ کے عین مطابق ہوا کرتا تھا۔آپ سنت مصطفی ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے حضرت حافظ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ ساری زندگی رات کا اکثر حصہ عبادت میں گزارتے آپ نماز تہجد میں پانچ پارے تلاوت فرماتے تھے وضو میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل اتباع فرماتے آپ کی جب تک صحت ٹھیک رہی مسجد میں خود امامت فرماتے رہے مقتدی سمجھتے تھے کہ ہم کسی ولی کے پیچھے نماز ادا کر رہے ہیں آپ پڑھاتے وقت جہاں حضور ﷺ کے رونے کا ذکر آتا آپ روتے جہاں مسکرانے کا ذکر آتا مسکراتے آپ کو ایک بار سخت بخار ہوا معتقدین ،مریدین اور طلباء سخت پریشان ہوئے تو فرمایا کہ سنت نبوی ﷺ ہے۔
عرس مبارک:۔
آپ کا سالانہ عرس مبارک ہرسال ۱۷،۱۸ نومبر کو بھکھی شریف ضلع منڈی بہاوالدین میں ہوتا ہے۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.