کھیوڑہ کے قریب ایک اورسیمنٹ سے لدا ٹریلرکھنڈر نما پہاڑی موڑ میں پھنس گیا

0

کھیوڑہ: ایک اورسیمنٹ سے لدا ٹریلرکھنڈر نما پہاڑی موڑ میں پھنس گیاجسکی وجہ سےاس روٹ پر چلنے والی ٹریفک دس گھنٹے مکمل بند رہی ، سٹرک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی کئی کلومیٹر لمبی قطاریں لگ گئیں ،ٹریفک بلاک ہونے سے سالٹ مائن کے سیاحت کے لیے آنے اور جانے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا۔

کھیوڑہ تا چوآسیدن شاہ ،چکوال ،سمیت راولپنڈی روڈ اوورلوڈمال بردار گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کیوجہ سے خطرناک حد تک تباہ ہو چکی ہے مقامی انتظامیہ فوٹو سیشن اور اخباری بیانات تک محدود ،زبانی جمع خرچ اور کاغذی کاروائی میں اس سڑک کی مرمت کئی بار ہو چکی ہے جس پر کروڑوں روپے خرچ کے بل پاس ہوئے ہیں۔عوامی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب سے فوری ایکشن کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کھیوڑہ تا چوآسیدنشاہ سمیت چکوال اور راولپنڈی جیسے بڑوں شہروں تک جانے والی یہ پہاڑی سڑک مرمت کے نام پر ہونے والی مسلسل کرپشن اور ذمہ دار محکموں کی عدم دلچسپی کے سبب مکمل طور پر تباہ ہو کر کھنڈر بن چکی ہے۔

گزشتہ کئی ادوار سے ناقص چیک اینڈ بیلنس نظام ہونے سے اس اہم ترین روٹ کی مرمت کاغذوں تک محدود رہی ہے قیام پاکستان سے مسلسل زیر استعمال ہونے اور بروقت مناسب مرمت نا ہونے سے یہ سٹرک حادثات کی آماجگاہ بن چکی ہے خطرناک سڑک کے اطراف بنی حفاظتی دیواریں بھی ختم ہوگئی،سڑک کے اطراف بعض جگہوں پر سیکڑوں فٹ گہری کھائیاں ہیں جہاں مضبوط حفاظتی دیواروں کا ہونا بہت ضروری ہے ۔

علاقہ کے اطراف درجنوں چھوٹی بڑی فیکٹریاں ہیں اور ان کا خام و تیار مال شارٹ روٹ کیوجہ سے زیادہ تر اسی سڑک کے ذریعے آتاجاتاہے جبکہ پبلک ٹرانسپوٹ بھی اسی سڑک پرچلتی ہے سات کلو میٹر کے اس ایریا میں جتنے بھی موڑ ہیں سب کے سب سے سٹرک نام کی چیز غائب ہو چکی ہے اسی وجہ سے اب تک اس روڈ پر کئی جان لیواحادثات ہوچکے ہیں جس میں متعدد جانیں ضائع ہوچکی ہیں ،میڈیا کے متعدد بار توجہ دیلانے پر بھی محکمہ ہائی وے کوئی توجہ نہیں دے رہی۔

عوامی حلقوں نے ذمہ دار حلقوں کی مسلسل چشم پوشی سے ہونے والے حادثات پر وزیر اعلی پنجاب سے مطلقہ محکموں کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.