جہلم شہر بھر میں میتوں کی تدفین قبرستان بھر جانے کے باعث شہریوں کی مشکلات میں اضافہ

0

جہلم: شہر بھر میں میتوں کی تدفین قبرستان بھر جانے کے باعث شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ، گورکنوں کی چالاکیوں کے باعث قبریں انتہائی مہنگی ہو گئیں، گھر میں موت ہو جائے تو اپنے پیاروں کی میتوں پر رونے کی بجائے انکی تدفین کیلئے خوار ہونااور سفارشیں تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

مارکیٹ میں کفن بھی مختلف اقسام کے آگئے ہیں ، گورکنوں کی بھرپور خدمت کرکے قبروں کی جگہ حاصل کی جاتی ہے ۔ قبر کی تیاری کے لئے 8 ہزار روپے سے 15 ہزار روپے تک قبر کا معاوضہ وصول کیا جاتا ہے ، قبرستان میں گورکنوں نے جعلی قبریں بھی بنا رکھی ہیں جو اصل میں خالی جگہ ہوتی ہے مگر انہیں قبر کی شکل دے کر خالی قبر کی خفیہ نشانات لگا دیئے جاتے ہیں۔

یہ قبریں من پسند نرخ وصول کرنے کے بعد الاٹ کی جاتی ہیں جبکہ کفن کی بھی مختلف اقسام متعارف ہونے کی وجہ سے پہلی قسم ہلکے کپڑے کا کفن ہے جو 3 ہزار روپے سے ساڑھے 3 ہزار روپے میں دستیاب ہے ، دوسری قسم اچھے کپڑے کا کفن ہے جو ساڑھے 3 سے 5 ہزار روپے میں دستیاب ہے۔

تیسری قسم کا کفن درمیانے درجے کا کپڑا ہوتا ہے اور یہ میت کو پہنایا جائے تو چھوٹا بھی نکل سکتا ہے ، یعنی اس کا سائز چھوٹا ہوتا ہے جبکہ چوتھی قسم کا کفن مکمل ریڈی میڈ سلا ہواہوتا ہے، جو مکمل تیارشدہ ہوتا ہے اس کی قیمت 5 ہزار سے 6 ہزار روپے تک وصول کی جارہی ہیں جبکہ میت کے لئے دیگر متفرق سامان کافور، پھول ، اگربتیاں وغیرہ 2 ہزار روپے میں دستیاب ہیں۔

شہریوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ مردوں میں تفریق پید اکرنے کی بجائے مناسب نرخ مقرر کرکے ایک ہی قسم کا کفن متعارف کروایا جائے تاکہ غریب امیر میں پائے جانے والے فرق کا خاتمہ ہو سکے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.