مرکزی شاہراہ منگلا روڈ دینہ کی حالت زار

تحریر: سیّد جواد حسین نقوی

0

اپنے وسائل میں خود کفیل اور ضلع جہلم کی کی سب سے زیادہ سالانہ ریونیو دینے والی تحصیل دینہ مقامی سیاستی نمائندوں اور انتظامیہ کی چشم پوشی کے باعث لاوارث نظر آنے لگی،پی پی25کا مرکزی علاقہ دینہ شہر ارباب اختیار کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں آفت زدہ علاقہ کا منظر پیش کرنے لگا،عرصہ دراز سے مرکزی شاہراہ منگلاہ روڈ دینہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہے۔

نکاسی آب کا موثر انتظام نہ ہونے کے باعث ہڈالی،ہڈالہ سیّداں،کھوکھراں لنک روڈ،نیوجھنگ اوراڈا نکودرمنگلا روڈ تک گلی محلوں سے نکلنے والے پانی اور برساتی پانی کے جمع رہنے سے مستقل جوہڑ کی شکل اختیار کر چکی ہے ،جگہ جگہ گندگی اور کوڑے کے باعث بدبو اور تعفن نے مقامی شہریوں اور راہگیروں کا جینا محال کر دیا ہے۔انفراسٹرکچر کی بگرتی ہوئی صورت حال پر میونسپل کمیٹی دینہ،اسسٹنٹ کمثنر دینہ،محکمہ شاہرات دینہ اور ڈپٹی کمثنرضلع جہلم سمیت تمام اداروں نے عوامی اجتماعی مسائل سے منہ پھیر لیا ۔

سالانہ بھاری ریونیو دینے کے باوجود سوتیلی ماں جیسے سلوک پر عوام علاقہ حکومت سے سراپا احتجاج کرتے ہوئے نظر آتی ہے ،سال 2002؁ء سے لیکر2008؁ ء تک ق لیگ دور میں ماڈل سٹی قرار پانے والا شہر دینہ جبکہ(ن) لیگ کے گذشتہ دس سالہ دور حکومت میں بدقسمتی سے ترقی کا سفر تنزلی کی طرف جاری رہنے کے باعث اب لاوارث نظر آ رہی ہے۔دینہ سے سابق ممبر اسمبلی مہر محمد فیاض مسلسل دو بار منتخب ہونے اور صوبائی اور وفاقی حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود زبانی وعدوں پر اپنے دس سال پورے کر کے ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔

انھوں نے اپنی حکومت کے دوران مین چوک دینہ میں انڈر پاس کی تعمیر ،شہر سے ناجائز تجاوزات کا خاتمے،منگلاہ روڈ کی از سر نو دو رویہ تعمیر،سوئی گیس کی فراہمی سمیت دیگر منصوبوں پر عمل دراآمد اور سرکاری فنڈز کی منظوری تک خوشخبریاں بھی دیں مگر ابھی تک اِن کے وعدے عوام کیلئے خوش فہمی ہی ثابت ہوئے ہیں،تاہم25جولائی کے عام انتخابات میں عوام علاقہ نے پی ٹی آئی کو سپورٹ کر کے جہاں پورے ضلع جہلم سے ن لیگ کو آؤٹ کر کے اپنی محرومیوں کا بدلہ لیا ہے ،وہاں تحریک انصاف کی مرکزی حکومت کا حصہ بننے والے لدھڑ گروپ دینہ سے منتخب ممبر قومی اسمبلی حلقہ66جہلم چوہدر ی فرخ الطاف اور وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین سے عوام علاقہ نے بڑی اُمیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔

تحصیل دینہ کے عوام نے اپنی تقدیر بدلنے کیلئے ہی پی پی25دینہ سے تحریک انصاف کے اُمیدوار راجہ یاوار کمال کو کامیاب کروا کر اُن پر حقیقی معنوں میں ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ اپنی حکومت کے ساتھ مل کر سابقہ دور کی محرومیوں کا ازالہ کریں گے۔اِس وقت دینہ کے شہریوں کو سوئی گیس کے حصول،مین چوک میں انڈر پاس کی تعمیر،پورے شہر سے غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ،سیوریج،صحت و صفائی کے مسائل،پینے کے صاف پانی کے حصول،تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کی ضرورت،تحصیل کمپلیکس کی تکمیل،منگلاروڈ دینہ کی تعمیر و توسیع سمیت بے شمار سنگین مسائل کا سامنا ہے چنانچہ سرفہرست مسائل میں تباہ حال اور کھنڈرات کا نمونہ پیش کرنے والی مرکزی شاہراہ منگلا روڈ دینہ کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کی ضرورت ہے۔

ہڈالی ، ہڈالہ سیّداں ،کھوکھراں،نیوجھنگ اور دیہی آبادی نکودر تک کے ایریا پر بڑے بڑے گہرے گھڑے بن چکے ہیں جس سے آئے روز حادثات معمول بن چکے ہیں موثرنکاسی آب نہ ہونے کی وجہ سے دونوں طرف گلی محلوں کا پانی جمع ہو کر عوام علاقہ کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔عرصہ دراز سے محکمہ شاہرات کے انسپکٹر سمیت تمام ملازمین کی کارکردگی صفر ہے جو گھر بیٹھے ہر ماہ کی تنخواہیں وصول کر رہیں ہیں ۔

اِسی منگلا روڈ پرایک درجن سے زائد نجی و سرکاری تعلیمی ادارے ہڈالہ تا نیو جھنگ منگلا روڈ پر واقع ہیں جہاں عوام علاقہ سمیت ہزاروں طلبا ء و طالبات کو محض تباہ حال سڑک سے سنگین مشکلات وحادثات کا سامنا ہے،عوام علاقہ نے پُرزور احتجاج کرتے ہوئے متعلقہ ارباب اختیار سے اِس تباہ حال انفراسٹرکچر کی بہتری کے لئے فوری آپریشن کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.